اسلام آباد؛ طالبہ کو فراڈ سے موت کے منہ میں پہنچانے والا ملزم گرفتار، مقدمہ بھی درج
فوٹو: فائل
اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ کو فراڈ کے ذریعے موت کے منہ میں پہنچانے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا اور اہل خانہ کی درخواست پر وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے مقدمہ بھی درج کرلیا۔
ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیرداخلہ کی ہدایت پر ادارے حرکت میں آئے اور طالبہ سے فراڈ کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے، جس سے تفتیش جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ طالبہ کے ساتھ ویزہ کا فراڈ کرنے والاملزم نعمان کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ملزم نعمان پولیس سے چھپ کر ایک گھر کے تہہ خانے میں موجود تھا۔
دوسری جانب جب امریکی یونیورسٹی میں پڑھ کر سائنس دان بننے کا خواب دیکھنے والی لائبہ منوں مٹی تلے جاسوئی، بیٹی کو پڑھانے کے خواہش مند والد نے بیٹی کو لحد میں اتارا تو سارا علاقہ سوگوار تھا۔
طالبہ کے لواحقین نے تدفین کے بعد ایف آئی اے میں درخواست دی جس کے بعد ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرلیا۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے کارروائی کرتے ہوئے لائبہ اعجاز کیس میں مقدمہ درج کرلیا، ایف آئی اے نے ایک ملزم نعمان اور ایک خاتون کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
ملزمان محمد نعمان بدی الزمان اور فاطمہ سرور کے خلاف مقدمہ نمبر FIR-AHTC-ICT-977/26 مورخہ 10 اکتوبر 2026 بموجب دفعات 419، 420 اور 109 پی پی سی بمع دفعات 18 اور 22 ایمیگریشن آرڈیننس 1979 کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ملزمان نے باہمی ملی بھگت سے شکایت کنندہ امجد الرحمان کی بھانجی لائبہ اعجاز سے امریکا ویزا فراہم کرنے اور اسکالرشپ دلوانے کے بہانے 93 لاکھ روپے وصول کیے۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی ایڈمیشن آفر لیٹرز اور فیس پیمنٹ رسیدیں تیار کر کے متاثرہ خاندان کو دھوکے میں رکھا جبکہ 29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے اور باقی رقم نقد ادا کی گئی۔
مقدمے میں بتایا گیا کہ اس سنگین مالی دھوکا دہی اور ذہنی اذیت کے نتیجے میں متاثرہ لائبہ اعجاز انتقال کر گئیں۔