ایران میں تیل تنصیبات پر حملوں سے ماحولیاتی تباہی کا خطرہ ہے، عباس عراقچی نے خبردار کردیا

عباس عراقچی نے جنگ میں ہونے والے ماحولیاتی نقصان کی آزادانہ دستاویز بندی اور اس کی مکمل جانچ کا مطالبہ بھی کیا

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں تیل، ریفائنریوں اور توانائی کی تنصیبات پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے سنگین ماحولیاتی خطرات پیدا ہورہے ہیں، جن کے اثرات فضا، زمین، پانی اور غذائی زنجیر تک پہنچ سکتے ہیں۔

اتوار کے روز ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ تہران کے قریب تیل میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں خطرناک مادے خارج ہوئے ہیں، جو ہوا، مٹی اور پانی کو آلودہ کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس آلودگی کے اثرات خوراک کے نظام تک پہنچنے کا خدشہ بھی ہے، جس سے انسانی صحت اور ماحول کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کے دوران ماحول کو پہنچنے والے نقصان کو اب نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ ماحولیات کو جنگ کا خاموش متاثرہ فریق سمجھنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

عباس عراقچی نے جنگ کے نتیجے میں ہونے والے ماحولیاتی نقصان کی آزادانہ دستاویز بندی اور اس کی مکمل جانچ کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نقصان کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، انہیں جواب دہ ٹھہرایا جائے اور متاثرہ علاقوں کے لیے معاوضے کا انتظام کیا جائے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان میں تیل اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ تاہم ان اثرات کی اصل شدت اور آلودگی کے پھیلاؤ کا تعین کرنے کے لیے آزادانہ سائنسی تحقیقات ضروری ہوں گی۔

Load Next Story