ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، مسافروں کو سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ
صنعا: یمن کے حوثی گروپ نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد مسافروں اور فضائی کمپنیوں کو سعودی عرب کے ہوائی اڈے اور فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی وارننگ دے دی ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یمنی مسلح افواج نے فضائی اور بحری کمپنیوں، ماہرین، عملے، کارکنوں اور مسافروں کو سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود سے دور رہنے کی تنبیہ کی ہے۔
یحییٰ سریع کے مطابق سعودی ہوائی اڈے اور فضائی حدود حوثی فورسز کے ممکنہ حملوں کے دائرے میں ہیں اور ان کے بقول یہ علاقے فوجی کارروائیوں کا میدان بن چکے ہیں۔
حوثی ترجمان نے اپنے بیان میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہوائی اڈوں کو اس وارننگ سے مستثنیٰ قرار دیا، جبکہ سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈوں کے استعمال سے گریز کرنے پر زور دیا۔
یہ دھمکی ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد سامنے آئی ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 12 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
القوات المسلحة اليمنية تجدد تحذيرها لكل الشركات الملاحية الجوية والخبراء والموظفين والعاملين والمسافرين من استخدام المطارات والأجواء السعودية لأنها معرضة للاستهداف ومسرحا للعمليات من قبل قواتنا باستثناء مطاري مكة المكرمة والمدينة المنورة.
— العميد/ يحيى سريع (@Yah_Saree) October 11, 2026
وتهيب بالجميع لأخذ تحذيراتنا على محمل…
حوثیوں کی اس وارننگ سے سعودی عرب میں فضائی سفر اور شہری ہوابازی کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم بیان میں سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے کسی نئے حملے کی تاریخ یا تفصیلات نہیں دی گئیں۔