کوچۂ سخن

دل و جاں کی بازی بھی غارت گئی مری ساری محنت اکارت گئی

فوٹو: فائل

غزل
دل و جاں کی بازی بھی غارت گئی
مری ساری محنت اکارت گئی
اگر سقم بنیاد میں رہ گیا
تو سمجھو کہ پوری عمارت گئی
وہ پہلا تعلق نہیں اب رہا
وہ پہلی سی خاطر مدارت گئی
ہوا ایسے ویران کوئے سخن
تصّرف ، کنایہ ، اشارت گئی
بصیرت جو اِس کے عوض پائی ہے 
مجھے غم نہیں جو بصارت گئی
ٹھکانا ترے دل میں جو نہ رہا
میں سمجھا کہ میری امارت گئی
گزر تو گئی خیر سے زندگی
مگر آنسوؤں سے عبارت گئی
نشانے پر آ کے نظر پھر گئی
بھلے وقت پر یہ مہارت گئی
مجھے آ کے ساجدؔ پتا اب چلا
کہ میرے لہو سے حرارت گئی
(شیخ محمد ساجد۔ لاہور)

غزل
بنامِ اہلِ جدت لکھ رہا ہوں
سخن کو اپنی فطرت لکھ رہا ہوں
قلم کو خون میں اپنے ڈبو کر
کتاب استقامت لکھ رہا ہوں
ابھی چھیڑو نہ مجھ کو اے ہواؤ!
ابھی دیوانِ الفت لکھ رہا ہوں
نہیں اب کوئی جس کی قدر و قیمت
وہی گزری حکایت لکھ رہا ہوں
رواں آنکھوں سے ہے اشکوں کا دریا
میں تیرا وقتِ ہجرت لکھ رہا ہوں
فضا میں چیختے پھرتے ہیں شعلے 
ترا طرزِ خطابت لکھ رہا ہوں
نہ جانے کن جہانوں میں ہوں کھویا
عبارت پر عبارت لکھ رہا ہوں
شگفتہ پھول کاغذ پر سجاکر
میں اب اردو کی سیرت لکھ رہا ہوں
میں اپنی راہ کے پتھر کو اے نورؔ
سراپائے محبت لکھ رہا ہوں
(سید محمد نورالحسن نور۔ ممبئی، انڈیا)

غزل
جانے وہ خود کو کیا سمجھتے ہیں 
جو مجھے بد نما سمجھتے ہیں 
حسن ہے وہ مسافتوں کا سفیر 
ہم جسے آبلہ سمجھتے ہیں
شعر ہوتے ہیں تیرے صدقے سے 
ہم سخن کو عطا سمجھتے ہیں 
تم اداسی پہ طعنے کستے ہو 
ہم خوشی کو وبا سمجھتے ہیں
ہم تو بس اس حسین لڑکی کو 
چاند کا قافیہ سمجھتے ہیں 
تو ابھی مڑ کے پیچھے دیکھے گا 
ہم ترا نقشِ پا سمجھتے ہیں
میں سمجھتا ہوں ان کی مجبوری 
جو مجھے بے وفا سمجھتے ہیں
محترم ہوں اویس ؔلوگوں میں 
دوست بس خواہ مخواہ سمجھتے ہیں
(اویس مختار۔ ضلع اٹک)

غزل
کیا ملے گا اُسے، وہ کیوں ہمیں ملوائے گا 
کون سے وقت کا کہتے ہوخدا لائے گا 
مطمئن کتنا ہوں پانی کے حوالے کر کے 
جیسے یہ پھول تری ناؤ سے ٹکرائے گا
میں تو رہ لوں گا ترے دل میں کسی اور کے ساتھ 
تُو مگر دونوں میں انصاف نہ کر پائے گا 
مان کتنا ہے مجھے روندی ہوئی عاجزی پر 
جیسے یہ راستہ افلاک تلک جائے گا 
اب نہیں آتی جبیں سے وہ ندامت کی مہک 
کس نے سوچا تھا کہ یہ پھول بھی مرجھائے گا
میں تھا کچھ اور کھکھیڑوں میں مجھے فکر نہ تھی 
لوگ کہتے رہے، کیا پہنے گا کیا کھائے گا 
درجنوں حل نکل آتے ہیں شفیق اتنے میں 
کون بیٹھے گا تجھے مسئلہ سمجھائے گا 
(نعمان شفیق۔ سرگودھا)

غزل
ریت سا دن ہے رات مٹھی بھر
آدمی کی بساط مٹھی بھر
رب کی کوزہ گری کا افسوں ہے 
ہم سبھی کی حیات مٹھی بھر
ایک مشت غبار ہے ہستی
اور یہ کائنات مٹھی بھر
حد سے بے حد خدا کی رحمت ہے 
اور اپنی زکوٰۃ مٹھی بھر
سارے دن کی تھکن کے بدلے میں
ہاتھ آئی ہے رات مٹھی بھر
لوگ کہتے ہیں زندگی جس کو
خواہشوں کی برات مٹھی بھر
ہجر کے دن طویل کتنے ہیں
اور یہ وصل رات مٹھی بھر
تلخیاں بے شمار ہیں ارمانؔ
اور لطف نشاط مٹھی بھر
(ارمان جودھپوری۔ جودھپور، راجستھان، بھارت)

غزل
وقت کی کچھ تو نزاکت سمجھو
مجھ کو دیکھو مری حالت سمجھو
ہجر ہو اور اُداسی نہ ہو
کم سے کم اِس کو قیامت سمجھو
دل کی حجرے میں سجا کر کوئی غم
ہنس رہا ہے تو کرامت سمجھو
جیسا ماحول میسّر ہے مجھے 
سانس آنا بھی غنیمت سمجھو
چاند تارے نہیں آئیں گے مگر
ہم جو کرتے ہیں محبّت! سمجھو
کوئی معقول کہانی نہیں ہے 
پر مری ہے! تو حقیقت سمجھو
آپ ہی اپنے منافی جانا
اس خسارے کی بھی شدّت سمجھو
آج شوزب ؔجو میسر ہے تمہیں
وقت مطلب ہے تو قیمت سمجھو
(شوزب حکیم ۔شرقپور شریف، ضلع شیخو پورہ)

غزل
روٹھا ہے جو دریا تو خفا مجھ سے کنارے 
یہ تشنہ لبی مجھ کو مری جاں سے گزارے 
لہروں کا ذرا بھر بھی نہیں خوف ہے مجھ کو
ڈر اسکا ہے مجھ کو کہ ڈبو دیں گے سہارے 
واللہ! وہ قیامت کی گھڑی مجھ پہ ہو بھاری
جب زلفِ پریشاں کو ادا سے وہ سنوارے 
خواہش تھی تماشا کی پہ اوسان خطا ہیں 
اُس شمع کی صورت کے پڑے ایسے شرارے 
اب اور سکت مجھ میں نہیں، اس سے یہ کہنا
کاندھوں سے مرے بارِ محبت کو اتارے 
اس شہر خموشاں میں مرے ساتھ ہے سایہ 
میں اس کو پکارے ہوں تو وہ مجھ کو پکارے 
مے خانے کی رونق کا بھرم اُن سے ہے قائم 
دھتکارے جو دنیا کے ہیں حالات کے مارے 
(ندیم دائم۔ ہری پور)

غزل
ہزار نقش تھے، کوئی بھی پائمال نہیں
یہ دل خراب سہی، خانۂ خیال نہیں
وہ زخم کیا کہ جو تعبیر بھی طلب نہ کرے 
وہ خواب کیا ہے جسے حسرتِ وصال نہیں
دھواں بھی اپنے قرینے سے گھر بناتا ہے 
کسی بھی راکھ میں پوشیدہ اشتعال نہیں
سکوت کھول رہا ہے درِ غبار ابھی
صداؤ! ٹھہرو، ابھی موسمِ سوال نہیں
میں اپنے عکس کی تہہ میں اتر گیا ہوں جہاں
وہاں کسی بھی طرف روشنی کا جال نہیں
میں اپنے زخم کی تہذیب اوڑھ کر نکلا
یہ سرخ حرف کسی فتح کا جمال نہیں
ہزار خواب زمانے نے قتل کر ڈالے 
مگر امید کا لہجہ ابھی نڈھال نہیں
احدؔ یہ کون سی نسبت نے ہم کو باندھ لیا
کہ بے سبب بھی جدائی کا اندمال نہیں
(زبیر احد ۔فیصل آباد)

غزل
گردِ دلدار نہیں، اپنے تئیں گھومتی ہے 
زندگی سست ہے ساکن تو نہیں، گھومتی ہے 
بے سبب چاروں طرف گھومنے کے بعد، نگاہ
حلقۂ چشم پہ ٹھہرے تو جبیں گھومتی ہے 
خوشبوئے گل، نظرِ ماہ، نوا ہائے دل
ہر حسیں شے ترے حجرے کے قریں گھومتی ہے 
جسم اک خوف کے کمرے میں پڑا رہتا ہے 
روح شب بھر تری گلیوں میں کہیں گھومتی ہے 
دیویاں آٹھ ہیں اس دل کے ادب خانے میں 
میرے اشعار کے محور پہ نویں گھومتی ہے 
عقدۂ بے خودی کھلتا ہے زمانے پہ مرا
جب مرے نقشِ کفِ پا پہ زمیں گھومتی ہے 
وہ دکھائی نہیں دیتی کہیں لیکن دائمؔ
موجۂ نور پہ بیٹھی ہے، یہیں گھومتی ہے 
(دائم فراز۔کنجروڑ،نارووال)

غزل
سامنے آگ کا دریا ہے، کنارے جائیں! 
ان کی خواہش ہے کہ بے موت ہی مارے جائیں
ہم سے شرمندگی تیری نہیں دیکھی جاتی 
تم سے ہم اس لیے تو جان کے ہارے جائیں 
کس دوانے کی یہ اب آئی ہوئی ہے شامت 
آج نکلے ہیں کہیں ہم بھی نہ مارے جائیں
آخری دید سے محروم ہو جاتے ہیں لوگ 
 دور اتنے کبھی پیاروں سے نہ پیارے جائیں 
غیر کے پہلو میں جب تجھ کو مچلتا دیکھیں 
 ہائے ہائے، تری قسمت رے پکارے جائیں 
سانس اب تھم گئی ہے انتقام اچھا نئیں ہے  
 دار سے اب تو مرے ٹکڑے اتارے جائیں 
سانپ نکلیں گے سبھی آستیں کے، یار وسیمؔ
چہروں سے چہرے گر اپنوں کے اتارے جائیں  
(سردار وسیم اکرم محبوبی۔ کیکوٹ، ہری پور)

غزل
ہر وقت ایک سی حالت ہو ضروری تو نہیں
رات ہر اک شبِ راحت ہو ضروری تو نہیں 
دل کے کمرے کو سجایا ہے تری یادوں سے 
صرف پھولوں سے ہی زینت ہو ضروری تو نہیں 
کوئی تو مجھ سا بھی ہوگا جسے ہجران ملا
سب کی قسمت میں محبت ہو ضروری تو نہیں
وعدۂ وصل اگر ٹوٹ بھی جائے تم سے 
تیری آنکھوں میں ندامت ہو ضروری تو نہیں
دل میں ہم ایک ہی محبوب کو رکھتے ہیں فقط
صرف مذہب میں ہی وحدت ہو ضروری تو نہیں
بات کرتا ہوں میں ہر وقت تری یادوں سے 
روبرو دید عنایت ہو ضروری تو نہیں
اس کے دل میں تو کوئی اور بھی ہو سکتا ہے 
اس کو بھی میری ضرورت ہو ضروری تو نہیں 
راہیں دونوں کی جدا ہوگئیں بچھڑے، عاطرؔ
یہ ہی انجامِ محبت ہو ضروری تو نہیں 
(تیمور جان عاطر۔ مردان)


سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘

 روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی
موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘ روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی

Load Next Story