مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد تیل مہنگا ہوگیا
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے اور آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 76 سینٹ، یعنی 0.73 فیصد اضافے کے بعد 105 ڈالر 48 سینٹ فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 59 سینٹ، یعنی 0.64 فیصد بڑھ کر 92 ڈالر 44 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوا تھا، تاہم حالیہ حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو لاحق خطرات سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی نقل و حمل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر ڈرون حملے کا نشانہ بنا، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک دوسرے ٹینکر پر میزائل حملے کی اطلاع دی گئی۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ پاسداران کے مطابق یہ جہاز غیر مجاز سمندری راستوں سے گزر رہے تھے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں شامل نہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایسے جہاز جو اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کریں گے، انہیں مخالف تصور کیا جاسکتا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ایک اور سبب سعودی عرب پر حوثی حملوں میں شدت کو قرار دیا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہفتے اور اتوار کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں میں 14 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کارروائیوں میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔