ڈربن ٹیسٹ خراب روشنی سے شدید متاثر، پنک بال کے استعمال کی تجویز زور پکڑنے لگی

سابق جنوبی افریقی بولر شان پولاک کا کہنا ہے کہ پنک بال کے استعمال سے مزید 45 اوورز کا کھیل ممکن ہوسکتا تھا

کرکٹ میں خراب روشنی کے باعث کھیل کا رکنا ایک پرانا مسئلہ ہے تاہم جنوبی افریقا اور آسٹریلیا کے درمیان ڈربن ٹیسٹ میں اس نے ایک بار پھر توجہ حاصل کرلی ہے۔

میچ کے ابتدائی تین دنوں میں خراب روشنی کے باعث 60 سے زائد اوورز ضائع ہوچکے ہیں جس سے ٹیسٹ کرکٹ میں پنک بال کے استعمال پر بحث چھڑ گئی ہے۔

ڈربن میں اکتوبر کے دوران سورج شام چھ بجے کے کچھ دیر بعد غروب ہوتا ہے اس کے باوجود پہلے روز کھیل مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 23 منٹ پر روکنا پڑا۔

اس روز مقررہ 90 اوورز میں سے صرف 65.2 اوورز ہی کرائے جاسکے۔ دوسرے اور تیسرے روز بھی کھیل مقررہ وقت سے پہلے ختم ہوا۔

ماہرین کے مطابق گرم موسم کے بعد سمندری ہواؤں اور نمی میں اضافے سے بادل گہرے ہوجاتے اور نیچے آجاتے ہیں جس کے باعث روشنی کم ہوجاتی ہے۔

آئی سی سی نے حال ہی میں ٹیسٹ میچز میں پنک بال کے استعمال کی اجازت دی ہے تاکہ خراب روشنی کے مسائل سے نمٹا جاسکے۔

تاہم اس کے لیے میچ سے قبل دونوں ٹیموں کا اتفاق ضروری ہے۔ جنوبی افریقا اور آسٹریلیا نے ڈربن ٹیسٹ میں اس آپشن پر غور نہیں کیا۔

سابق جنوبی افریقی بولر شان پولاک کا کہنا ہے کہ پنک بال کے استعمال سے مزید 45 اوورز کا کھیل ممکن ہوسکتا تھا۔

دوسری جانب ورنن فلینڈر نے تجویز دی کہ روشنی کم ہونے پر امپائرز کو پنک بال متعارف کرانے کا اختیار دیا جائے اگرچہ اس سے مقابلے کی یکسانیت اور انصاف سے متعلق سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

Load Next Story