جیوانی: جال میں پھنسے زیتونی نسل کے دو نایاب سمندری کچھووں کو آزاد کر دیا گیا
بلوچستان کے ساحلی علاقے جیوانی کے قریب گنز میں ماہی گیروں نے مچھلی پکڑنے کے جال میں پھنسے زیتونی نسل کے دو نایاب سمندری کچھووں کو آزاد کردیا،سمندر میں ناکارہ اور ترک کردہ جالوں کے باعث آبی حیات کو لاحق خطرات ایک بار پھر سامنے آگئے ہیں۔
بلوچستان کے ساحلی علاقے جیوانی کے قریب گنزمیں ماہی گیروں نے مچھلی پکڑنے کے جال میں پھنسے زیتونی نسل کے دونادرو نایاب سمندری کچھووں کوماہی گیروں نے آزاد کردیا۔ نائیلون سےبنےمضبوط جال سےرہائی کے بعدکچھوے لہروں کی دوش پرتیرتے ہوئےگہرے سمندرمیں نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگئے۔
ورلڈ وائیڈ فنڈ فارنیچر(پاکستان)کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کے مطابق جیوانی کے علاقے گنز میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ گزشتہ 15 برسوں کے دوران زیتونی نسل کے سمندری کچھوؤں کے جال میں پھنسنے کا 37واں رپورٹ شدہ واقعہ ہے۔ اس عرصے میں اس نوعیت کے 36 واقعات پہلے رپورٹ ہوچکے تھے،جس کےدوران مختلف مواقع پرایک یا دو جبکہ بعض واقعات میں بیک وقت چار کچھوے جال میں پھنسے ہوئے ملے۔
محمد معظم خان نے بتایا کہ حالیہ واقعے میں کچھوؤں کے الجھنے کا سبب بننے والے ڈرفٹنگ جال پاکستان میں استعمال نہیں ہوتے۔تاہم، ہواوں کے رخ میں تبدیلی کے باعث یہ جال بڑی تعداد میں بہہ کر سمندر کی سطح پر پہنچ جاتے ہیں۔ اکتوبر سے دسمبر کے دوران ہواؤں کا رخ مشرق سے مغرب کی جانب تبدیل ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں سمندر میں موجود ایسے جال ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک منتقل ہوتے رہتے ہیں اورسمندری حیات کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ ماہی گیری کے دوران استعمال ہونے والے جال وقت گزرنے کے ساتھ کمزور ہوجاتے ہیں یا مختلف وجوہات کی بنا پر ناقابل استعمال ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات ماہی گیر ایسے جال اپنی لانچوں میں رکھنے کے بجائے سمندر میں پھینک دیتے ہیں جبکہ بعض جال حادثاتی طور پر بھی سمندر میں گر جاتے ہیں۔
سمندر میں ضائع یا ترک کردیے جانے والے ان جالوں کو گھوسٹ نیٹس کہا جاتا ہے۔ یہ جال پانی میں موجود رہتے ہوئے بھی مچھلیاں اور دیگر آبی جاندار پکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان میں الجھنے والے جاندار اکثر باہر نکلنے کی کوشش میں مزید پھنس جاتے ہیں،جس کے باعث ان کی نقل و حرکت محدود ہوجاتی ہے۔ کچھوے چونکہ سانس لینے کے لیے وقتاً فوقتاً سمندر کی سطح پر آتے ہیں، اس لیے اگر وہ کسی جال میں بری طرح الجھ جائیں تو سطح آب تک پہنچنے میں ناکامی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
گھوسٹ نیٹس کا خطرہ صرف کچھووں تک محدود نہیں بلکہ مچھلیاں، کیکڑے، دیگر سمندری جاندار اور بعض اوقات سمندری ممالیہ بھی ان کا شکار بن جاتے ہیں۔ سمندر میں طویل عرصے تک موجود رہنے والے یہ جال آبی حیات کو نقصان پہنچانے کے ساتھ سمندری ماحول میں پلاسٹک اور دیگر مصنوعی مواد کی آلودگی میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان جالوں کا مسئلہ اس لیے بھی سنگین ہے کہ انہیں سمندر میں چھوڑ دینے کے بعد ان کی نقل و حرکت اور مقام کا تعین کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ سمندری لہریں اور ہوائیں انہیں مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی رہتی ہیں جس کے باعث یہ مختلف ساحلی علاقوں میں موجود آبی حیات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
زیتونی نسل کے کچھوے جنھیں انگریزی میں اولیو رڈلی سی ٹرٹلزکہا جاتاہے۔ سمندری ماحول کے اہم جانداروں میں شمار ہوتے ہیں،دیگر بعض سمندری کچھووں کے مقابلے میں یہ نسبتاً زیادہ وقت سمندر کی سطح کے قریب گزارتے ہیں،جس کی وجہ سے پانی میں تیرتے ہوئے جال ان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے۔
محمد معظم خان کے مطابق اولیو رڈلی نسل کے کچھوؤں نے طویل عرصے سے کراچی اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں پر افزائش نسل کے لیے آنا چھوڑ دیا ہے۔ تاہم، بحیرہ عرب میں ان کی تعداد سبز سمندری کچھوؤں کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے،ان کچھووں کی سمندری موجودگی اور ان کے تحفظ کی اہمیت کے پیش نظر ان کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنانا ضروری ہے۔ سمندر میں ضائع ہونے والے جال ان کے لیے نہ صرف براہ راست خطرہ ہیں بلکہ سمندری ماحولیاتی نظام کے توازن کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔
جیوانی کے علاقے گنز میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے سمندر میں ناکارہ جالوں کی موجودگی اور ان کے اثرات سے متعلق تشویش کو دوبارہ اجاگر کیا ہے، گزشتہ 15 برسوں کے دوران اس نوعیت کے 37 واقعات کا رپورٹ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ سمندری کچھوؤں کا جالوں میں پھنسنا ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مسلسل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ان واقعات میں کچھوؤں کی تعداد مختلف رہی ہے،بعض مواقع پر ایک یا دو کچھوے جال میں پھنسے ہوئے ملےجبکہ چند واقعات میں ایک ہی وقت میں چار کچھوے جال میں الجھے ہوئے پائے گئے، ایسے واقعات میں ماہی گیروں کا کرداراہم ہے کیونکہ بروقت اطلاع احتیاط اور جال میں پھنسے جانداروں کو محفوظ طریقے سے آزاد کرنے سے ان کی جان بچائی جاسکتی ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے ماہرین کے مطابق سمندر میں گھوسٹ نیٹس کی موجودگی کم کرنے کے لیے ماہی گیروں میں آگاہی پیدا کرنا، ناکارہ جالوں کو مناسب طریقے سے تلف کرنے کے انتظامات کرنا اور سمندر میں ضائع ہونے والے جالوں کی نشاندہی اور بازیابی کے اقدامات کرنا ضروری ہے۔ ماہی گیروں کو بھی چاہیے کہ وہ پرانے اور ناقابل استعمال جال سمندر میں پھینکنے کے بجائے ساحل پر موجود مناسب جمع آوری مراکز تک پہنچائیں تاکہ ان جالوں کو محفوظ طریقے سے تلف یا ری سائیکل کیا جاسکے، اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں،ماہی گیر برادری اورماحولیاتی تنظیموں کے درمیان تعاون اہمیت رکھتا ہے،جیوانی کے قریب گنز میں دو زیتونی کچھووں کی رہائی ایک مثبت پیش رفت ہےتاہم سمندر میں موجود ناکارہ جالوں کا مسئلہ بدستور توجہ طلب ہے،اگر گھوسٹ نیٹس کو سمندری ماحول سے کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے توان کے باعث نایاب اوراہم سمندری جانداروں کو لاحق خطرات برقرار رہیں گے۔