ہلاکتوں کی فکر کریں
m_saeedarain@hotmail.com
روزنامہ ایکسپریس کے مطابق آئی جی پولیس سندھ نے دوران ڈکیتی مزاحمت پر شہری کو زخمی کرنے کا نوٹس لے کر کراچی پولیس چیف اور متعلقہ ڈی آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ یہ رپورٹ نیپا پل کے قریب ایک کروڑ تیس لاکھ روپے کی ڈکیتی کے دوران مذکورہ شہری کی طرف سے مزاحمت پر پیش آیا تھا اور ڈاکو شہری کو زخمی کرکے کامیابی سے فرار ہو گئے تھے۔
آئی جی آفس کے مطابق آئی جی پولیس نے ڈاکوؤں کی فوری گرفتاری کی ہدایت اور ضروری اقدامات کرنے کے لیے کہا اور مزید کہا کہ اس حوالے سے کوئی کوتاہی و تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ ڈکیتی عزیز بھٹی تھانے کی حدود میں واقع نیپا پل پر ہوئی جو بہت مصروف شاہراہ ہے۔ اسی خبر کے ساتھ ایک اور خبر میں کہا گیا ہے کہ دو ماہ گزرنے کے بعد بھی سمن آباد پولیس ایدھی سینٹر سے 65 لاکھ روپے لوٹنے والے ڈاکوؤں کو نہیں پکڑ سکی اور اس ڈکیتی کا وزیر اعلیٰ اور آئی جی پولیس نے بھی نوٹس لیا تھا۔ ترجمان سعد ایدھی کے مطابق فیصل ایدھی کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو پولیس کی تفتیش سے متعلق لکھے گئے خط کو بھی ایک ماہ سے زائد ہو گیا ہے ۔
نیپا پل پر اس ڈکیتی کا نوٹس لیے جانے کے بعد اخباری خبر کے مطابق کراچی میں ڈاکوؤں نے مزید دو افراد کو قتل کر دیا اور رواں سال ڈکیتی مزاحمت پر قتل ہونے والوں کی تعداد ساٹھ ہو گئی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا تعلق پنجاب سے تھا جنھوں نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت کی تھی جس پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کی تھی اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ رواں سال قتل ہونے والوں نے ڈاکوؤں کے سامنے مزاحمت کی تھی جبکہ سندھ کے ایک وزیر اور اعلیٰ پولیس افسران شہریوں کو کہتے رہے ہیں کہ وہ ڈاکوؤں کے سامنے مزاحمت نہ کیا کریں۔
کراچی میں ڈاکو راج کسی صورت تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور شہری اپنے گھروں میں محفوظ دکھائی دیتے ہیں نہ سڑکوں پر اور شہر میں دندناتے ہوئے ڈاکو جب اور جہاں چاہیں لوٹ مار کے دوران معمولی مزاحمت پر شہریوں کی جان لینے سے دریغ نہیں کر رہے اور بے گناہ شہری مارے جا رہے ہیں۔ دو افراد ڈکیتی مزاحمت پر مار دیے گئے جو عام شہری اور کراچی میں روزگار کے لیے رہ رہے تھے مگر دونوں کی ہلاکتوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ۔
دو ماہ قبل سہراب گوٹھ کے قریب واقع ایدھی سینٹر میں 65 لاکھ روپے کی ڈکیتی پر سندھ کے وزیر اعلیٰ اور آئی جی نے نوٹس لیا تھا جس کے ایک ماہ بعد فیصل ایدھی نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر اس ڈکیتی کی برآمدگی کے لیے پولیس افسران کی عدم دلچسپی کی بھی شکایت کی تھی مگر ایک ماہ بعد بھی خاموشی چھائی ہوئی ہے حالانکہ یہ عام ڈکیتی نہیں بلکہ شہر میں ہونے والی اہم اور شرم ناک ڈکیتی تھی جس میں کوئی بااثر اور سرمایہ دار نہیں بلکہ شہریوں کے چندے و صدقات پر چلنے والا دنیا میں مشہور انسانیت کی خدمت کرنے والا ایدھی سینٹر تھا جہاں قریب ہی لاشیں محفوظ کرنے والا ایدھی سرد ہوم بھی موجود ہے مگر ڈاکوؤں نے ایدھی سینٹر کو بھی نہیں بخشا تھا۔
اس ڈکیتی کے باعث ایدھی ٹرسٹ کو جس مالی مشکلات کا سامنا رہا وہ تو اس کی انتظامیہ ہی جانتی ہے مگر افسوس کراچی پولیس کی نااہلی کا ہے جس نے دو ماہ میں بھی ایدھی سینٹر میں ہونے والی 65 لاکھ کی ڈکیتی کو اہم نہیں سمجھا اور وزیر اعلیٰ و آئی جی کے نوٹس پر بھی برآمدگی نہیں کی پولیس یہ رقم خود بھی چندہ کرکے فراہم کر سکتی تھی۔سندھ حکومت کچے کے ڈاکوؤں کی گرفتاری پر بڑے بڑے انعام مقرر کر چکی ہے تو کراچی کے ان ڈاکوؤں کے لیے بھی کچھ کرنا چاہیے۔
روزنامہ ایکسپریس کی رپورٹ سو فی صد درست ہے حد تو یہ ہے کہ کراچی میں ڈاکو دن رات دندناتے ہی نہیں پھر رہے بلکہ ڈاکوؤں کے چہرے ڈکیتی کے دوران سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے صاف نظر آتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی شناخت ہو سکنے والے ڈاکو پولیس باآسانی کوشش کرے تو گرفتار کر سکتی ہے مگر حیرت ہے کہ صاف نظر آنے والے یہ ڈاکو بھی پولیس پکڑنے میں مکمل ناکام نظر آ رہی ہے جس کی وجوہات کا اعلیٰ پولیس افسران کو ضرور علم ہوگا۔ کراچی میں بے گناہوں کو سر عام قتل یا لوٹ کر فرار ہونے والے قابل شناخت ڈاکوؤں کی عدم گرفتاری شہریوں کی حیرانگی کے ساتھ سندھ حکومت اور پولیس کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے جسے قبول کرتے ہوئے کراچی پولیس کو اپنی کارکردگی دکھانی چاہیے۔
شہر کی سڑکوں بلکہ گلیوں اور گھروں کے باہر بھی لوگوں نے سی سی ٹی وی کیمرے لگا رکھے ہیں جو ہزاروں کی تعداد میں ہیں مگر شہری پھر بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ایدھی سینٹر کی ڈکیتی کا وزیر اعلیٰ اور آئی جی پولیس نے نوٹس لیا تھا مگر دو ماہ گزر گئے ۔
ایدھی سینٹر کی ڈکیتی کا سراغ نہ لگنا پولیس کارکردگی پر ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ شہری اس سلسلے میں اب کس سے امید رکھیں کہ اعلیٰ سطح پر لیے جانے والے نوٹسوں کا ہی کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا اور ایسے سارے نوٹس ضایع جا رہے ہیں۔ کراچی میں نئے نئے ناموں سے پولیس فورسز بھی بن چکیں مگر کراچی پولیس شہر میں دندناتے پھرنے والے ان بے لگام بے رحم قاتل ڈاکوؤں سے شہریوں کو نہیں بچا پا رہی۔ حکمرانوں کو بے کار نوٹسوں کی بجائے سخت عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کراچی سے ڈاکو راج ختم کرایا جا سکے۔