آئی ایم ایف کی پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کی پیشگوئی

شرح 9۔9 فیصد رہنے کا امکان، معاشی ترقی کی شرح 3۔5 فیصد پر برقرار

اسلام آباد:

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی کی شرح بڑھ کر 9۔9 فیصد ہونے کی پیشگوئی کردی ہے، تاہم معاشی ترقی کی شرح کا تخمینہ 3۔5 فیصد پر برقراررکھاہے۔

نئی پیش گوئی سے ظاہر ہوتاہے کہ عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت کے مہنگائی میں نسبتاً کمی اور معاشی ترقی میں اضافے کے تخمینوں سے اتفاق نہیں کیا۔

آئی ایم ایف نے یہ تخمینے منگل کوجاری ہونیوالی اپنی تازہ عالمی اقتصادی صورتحال کی رپورٹ (ورلڈ اکنامک آؤٹ لک) میں پیش کیے ہیں۔

اپریل میں ادارے نے پاکستان میں مالی سال 2026-27 کے دوران مہنگائی کی شرح 8۔4 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی تھی، جسے جولائی کی رپورٹ میں بھی برقراررکھاگیا تھا، تاہم اب اس میں اضافہ کردیاگیا۔

مہنگائی کی شرح میں اضافے کی پاکستان سے متعلق مخصوص وجوہات بیان نہیں کی گئیں، تاہم آئی ایم ایف نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور توانائی کی فراہمی و قیمتوں پر اس کے اثرات کے باعث مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیاکے خطے کیلیے بھی مہنگائی کے تخمینے بڑھائے ہیں۔

پاکستان میں مہنگائی کی نئی پیشگوئی حکومت کے مقرر کردہ 8۔2 فیصد ہدف سے بھی زیادہ ہے۔حالیہ جائزہ مذاکرات کے دوران وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بینک نے مہنگائی کے دباؤکے باوجودسالانہ ہدف حاصل کرنے کی توقع ظاہرکی تھی، تاہم مہنگائی کی بلند پیشگوئی سے قیمتوں کوقابو میں رکھنے کیلیے سخت مالیاتی پالیسی اور شرح سودمیں اضافے کے امکانات پر بھی توجہ مرکوز ہوسکتی ہے۔

حکومت عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کابوجھ مقامی صارفین کو منتقل کررہی ہے اور اس پر بھاری ٹیکس بھی عائد ہیں۔

حکومت نے موٹرسائیکل سواروں کوماہانہ 2 ہزارروپے جبکہ چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو 3 ہزار معاوضہ دینے کی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے، تاہم آئی ایم ایف نے اسکیم پر اعتراض کرتے ہوئے اسے وسیع البنیاد اورزیادہ اخراجات کی حامل قراردیاہے۔

آئی ایم ایف نے رواں مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3۔5 فیصد رہنے کا تخمینہ برقراررکھاہے۔

دوسری جانب پاکستانی حکام نے جائزہ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ ملک 4 فیصد سالانہ معاشی ترقی کاہدف حاصل کرلے گا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے غیر ملکی خبررساں ادارے کو انٹرویودیتے ہوئے کہا تھاکہ انہیں اب بھی واضح توقع ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 4 فیصدسے تجاوزکرجائیگی۔

پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے معاشی استحکام کیلیے آئی ایم ایف کے مختلف پروگراموں پر عمل پیراہے۔ عالمی بینک کے مطابق معاشی استحکام کیلیے اختیارکی گئی پالیسیوں میں ترقیاتی اخراجات میں کمی بھی ملک میں غربت بڑھنے کی وجوہات میں شامل ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ بھی بڑھاکر مجموعی ملکی پیداوار کاایک فیصدکردیا، جو تقریباً 4۔4 ارب ڈالر بنتاہے۔

Load Next Story