اگر کسی یورپی ملک پر حملہ ہوا تو پورا جنگی نظام تباہ کردیں گے، نیٹو کی روس کو سخت وارننگ
نیٹو کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اتحاد کے کسی رکن ملک پر حملہ کیا تو نیٹو کی افواج حملے میں شریک فوجی قوتوں اور انہیں مدد، وسائل اور ہدایات فراہم کرنے والے نظام کو بھی تباہ کر دیں گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امریکی فضائیہ کے جنرل اور یورپ میں نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر الیکسس گرنکیوچ نے پیر کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے، لیکن کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کے لیے اس کی حکمتِ عملی میں دشمن کو روکنا، اس کی پیش قدمی محدود کرنا اور اس کی جنگی صلاحیت کو توڑنا شامل ہے۔
جنرل گرنکیوچ نے کہا کہ اگر کوئی نیٹو پر حملہ کرنے کی حماقت کرتا ہے تو اتحاد لڑے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کسی بھی رکن ملک پر حملہ مکمل طور پر ناکام ہو۔ ان کے مطابق، اگر مخالف فریق حملہ جاری رکھتا ہے یا مزید فوجی دستے میدان میں لاتا ہے تو نیٹو اس کے پورے جنگی نظام کو نشانہ بنائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کارروائی صرف حملہ آور فوج تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس قوت کو سہارا دینے، اس کے لیے وسائل فراہم کرنے اور اسے کنٹرول کرنے والے نظام کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ متعدد یورپی حکومتیں ماسکو پر تخریب کاری، ڈرونز کی غیر مجاز پروازوں اور سائبر حملوں میں اضافے کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
روس نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ اگر نیٹو نے اس کے علاقے کالینن گراڈ کی ناکہ بندی کرنے کی کوشش کی تو وہ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ تاہم، گرنکیوچ نے اپنے خطاب میں روس کا نام براہِ راست نہیں لیا، اگرچہ ان کے بیان کا بڑا حصہ ماسکو کے لیے انتباہ سمجھا جا رہا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اس ماہ کہہ چکے ہیں کہ روس کسی یورپی ملک پر حملے کا ارادہ نہیں رکھتا اور پرامن بقائے باہمی چاہتا ہے۔ تاہم، یورپی رہنماؤں کے خدشات برقرار ہیں، خصوصاً اس لیے کہ روس نے 2022 میں یوکرین پر حملے سے پہلے بھی ایسے بیانات دیے تھے۔
جنرل گرنکیوچ نے کہا کہ حالیہ تخریب کاری اور آتش زنی کے واقعات نے نیٹو کے رکن ممالک میں تشویش پیدا کی ہے، اس لیے انہوں نے اتحاد کی دفاعی تیاریوں کے بارے میں کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
ان کے مطابق، نیٹو کے ایک ارب شہریوں کو یقین ہونا چاہیے کہ اتحاد کو معلوم ہے کہ ممکنہ خطرات سے کیسے نمٹنا ہے اور دفاعی کارروائی کس طرح کی جائے گی۔
انہوں نے امریکا کی جانب سے نیٹو کے اجتماعی دفاع سے متعلق عزم پر پائے جانے والے خدشات کو بھی کم کرنے کی کوشش کی۔ گرنکیوچ نے جولائی میں انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر اتحاد کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔