ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا حد سے آگے نکل گیا، ٹرمپ کا اہم اعتراف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے معاملے میں امریکا شاید حد سے زیادہ آگے بڑھ گیا ہے۔
ان کے مطابق، واشنگٹن کو ایرانی حکام کی شناخت میں مشکلات کا سامنا ہے جن کے ساتھ جنگ کے خاتمے یا مذاکرات کے لیے بات چیت کی جا سکے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی رابطوں کے ذریعے کسی ممکنہ پیش رفت کی کوششیں جاری ہیں۔
ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد امریکا کو مذاکرات کے لیے مناسب ایرانی حکام کی شناخت میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
دستیاب رپورٹ میں صدر ٹرمپ کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دی گئیں کہ کن عہدیداروں سے رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے یا امریکی کارروائیوں کے مستقبل کے بارے میں کیا فیصلہ کیا گیا ہے۔
President Trump has suggested the US may have gone too far in targeting Iran’s leadership, saying Washington is struggling to identify officials with whom it can negotiate.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 13, 2026
🔴 LIVE updates: https://t.co/zjeCMhpJCd pic.twitter.com/3Sv2yruNPW
ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے متعلق ٹرمپ کے اس بیان کو جنگی حکمتِ عملی اور مذاکراتی امکانات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس سے کسی نئی پالیسی یا جنگ کے خاتمے کے فیصلے کی تصدیق نہیں ہوتی۔