بارود کی دھند میں سرمایہ دار کا کاروبار
جنگ کو ہمیشہ سیاست کا ایک المناک حادثہ، قوم کے تحفظ کی مجبوری یا کسی نظریاتی و اخلاقی مقصد کا لبادہ پہنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر حب الوطنی اور خوداری کے ان خوش نما نعروں کی تہیں اکھاڑ کر دیکھا جائے، تو اس ہولناک کھیل کے پیچھے اک سرد اور بے رحم معاشی نظام کارفرما نظر آتا ہے۔
جنگ صرف سفارت کاری کی ناکامی کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ منافع بخش تجارت ہے۔ یہ ایک ایسا خود کفیل نظام ہے جہاں تباہی و بربادی طلب کو جنم دیتی ہے، انسانی دکھ درد کا سودا ہوتا ہے اور مظلوموں کا بہتا ہوا خون اربوں ڈالر کا سرمایہ بن کر چند جیبوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔
عالمی اشرافیہ، دفاعی کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور سیاہ بازار کے بازی گروں کے لیے مسلح تصادم ایک ایسا شاندار کاروباری ماڈل ہے جو اتنے منافع کی ضمانت دیتا ہے جس کا کوئی دوسرا دھندا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ جنگی معیشت محض حالات کا انتظار نہیں کرتی، بلکہ اپنا پیٹ بھرنے کے لیے ہر وقت کسی نہ کسی جگہ آگ بھڑکائے رکھنے کی تاک میں رہتی ہے۔
اس پورے کاروباری ڈھانچے کا سب سے اہم ستون ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس ہے۔ امریکی صدر آئزن ہاور نے چھ دہائیاں قبل دنیا کو اس گٹھ جوڑ کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا تھا، اور آج وہ انتباہ ایک تلخ عالمی حقیقت بن چکا ہے۔ اس کی تازہ ترین اور واضح مثال مشرق وسطیٰ میں جاری اسرائیل، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور تصادم ہے۔ اس معرکے نے جہاں پورے خطے کو بارود کے ڈھیر پر دھکیل دیا ہے، وہیں امریکی اور مغربی دفاعی کمپنیوں کے لیے اربوں ڈالر کی نفع بخش منڈی کھول دی ہے۔
اسرائیل کے آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ اور ایرو ڈیفنس سسٹمز کے لیے اینٹی میزائل انٹرسیپٹرز کی بے تحاشا کھپت، اور امریکہ کی طرف سے جدید ترین اسٹیلتھ جنگی طیاروں، پیٹریوٹ سسٹمز اور گائیڈڈ بموں کی مسلسل فراہمی نے لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون، اور بوئنگ جیسی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے شیئرز کو ریکارڈ بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔
یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں صرف موجودہ جنگوں کے لیے بارود نہیں بناتیں، بلکہ ان کا اپنا وجود اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دنیا میں جغرافیائی کشیدگی کبھی ختم نہ ہو تاکہ ان کا دھندا چلتا رہے۔ یہ بربادی اور دوبارہ خریداری کا ایک ایسا لامحدود چکر ہے جو یہ یقینی بناتا ہے کہ جب تک بم گرتے رہیں گے، اسلحہ ساز اداروں کے کھاتے منافع سے بھرتے رہیں گے۔
تاہم اسلحہ سازی تو اس بہتی گنگا کا صرف ایک کنارہ ہے۔ جدید جنگ کے میدانوں میں اب نجی سیکیورٹی اور ملٹری کمپنیوں کا راج ہے، جنہوں نے جنگ کو مکمل طور پر نجی کاروبار بنا دیا ہے۔ سپلائی لائنوں کی حفاظت سے لے کر باقاعدہ گوریلا جنگ اور انٹیلی جنس آپریشنز تک، ان نجی ٹھیکیداروں نے ریاست کے روایتی فوجیوں کی جگہ لے لی ہے۔ جنگ کی اس نجی کاری نے انسانی جانوں کی قیمت کو براہِ راست منافع میں بدل دیا ہے۔
جنگی علاقوں میں بھیجا جانے والا ہر ٹھیکیدار، ہر گاڑی اور یہاں تک کہ ایک وقت کا کھانا بھی حکومتوں کو کئی گنا زیادہ قیمت پر بیچا جاتا ہے۔ چونکہ یہ کمپنیاں عوامی نمائندوں کے بجائے اپنے شیئر ہولڈرز کو جواب دہ ہوتی ہیں، اس لیے جنگ جتنی لمبی کھینچے گی، ان کی جیبیں اتنی ہی گرم رہیں گی۔
جب دھماکوں کا شور تھمتا ہے اور شہر ملبے کا ڈھیر بن جاتے ہیں، تو وہاں سے ایک اور ملٹی بلین ڈالر کاروبار جنم لیتا ہے جسے ’’تعمیرِ نو‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ تباہ شدہ عمارتیں، پل اور بجلی گھر سرمایہ دارانہ نظام کی نظر میں کوئی المیہ نہیں، بلکہ مستقبل کی ایک وسیع منڈی ہوتے ہیں۔ جیسے ہی بمباری رکتی ہے، بڑی بڑی بین الاقوامی کنسٹرکشن اور انجینئرنگ کمپنیاں ملبہ ہٹانے اور نیا شہر بسانے کے لیے میدان میں اتر آتی ہیں۔
یہاں کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ اکثر وہی طاقتیں جو بمباری کر کے ملکوں کو کھنڈر بناتی ہیں، بعد میں اپنے ہی چہیتے اداروں کو ان کھنڈرات کی تعمیرِ نو کے بھاری ٹھیکے دلاتی ہیں۔ اس گول چکر میں تباہی پہلے نقد منافع دیتی ہے اور پھر تعمیرِ نو کے نام پر دوبارہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے خزانے بھرے جاتے ہیں۔غزہ اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
اس جنگی معیشت کی سب سے خوفناک اور بھیانک سمت انسان کے اپنے وجود کی لوٹ مار ہے، یعنی انسانی اعضاء کا سیاہ دھندا۔ جنگ کسی بھی ملک کے قانون، پولیس اور سماجی ڈھانچے کو تباہ و برباد کر دیتی ہے، جس سے منظم جرائم پیشہ گروہوں کی پانچوں گھی میں ہو جاتی ہیں۔ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں جہاں بھوک اور لاقانونیت کا راج ہوتا ہے، وہاں پناہ گزینوں، زخمیوں اور لاوارثوں کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ مجبور اور فاقہ کش انسان اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے گردے بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جبکہ بے رحم گروہ جیتے جاگتے اور زخمی انسانوں کے جسم سے اعضاء نکال کر عالمی بلیک مارکیٹ میں بھاری قیمتوں پر فروخت کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سرمایہ داری کی درندگی اپنی تمام حدیں پار کر لیتی ہے اور زندہ انسان کو محض کاٹنے اور بیچنے والے گوشت کا ایک ٹکڑا سمجھا جاتا ہے۔
بہت سے طاقتور ممالک کی اپنی پوری قومی معیشت جنگی پیداوار کے ساتھ اس حد تک نتھی ہو چکی ہے کہ اگر دنیا میں مکمل امن قائم ہو جائے تو ان کے کارخانے بند ہو جائیں اور بے روزگاری کا طوفان آ جائے۔ امریکہ جیسے ممالک اپنے تجارتی خسارے کو پورا کرنے اور روزگار کے مواقع برقرار رکھنے کے لیے دنیا بھر میں اسلحہ بیچنے اور جنگی ماحول برقرار رکھنے پر مجبور ہیں۔ یہ نہ صرف ہتھیار بیچتے ہیں بلکہ خریدار ممالک کو مرمت، پرزہ جات اور سافٹ ویئر اپڈیٹس کے نام پر ہمیشہ کے لیے اپنا محتاج بنا لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اکثر جنگیں اور فوجی مداخلتیں انسان دوستی یا دفاع کے نام پر کی جاتی ہیں، لیکن ان کا اصل مقصد تیل کی راہگزاروں، ایندھن کی سپلائی لائنوں اور نایاب قدرتی وسائل پر کنٹرول قائم رکھنا ہوتا ہے تاکہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی شریانوں میں خون دوڑتا رہے۔
میڈیا اور خبر رساں ادارے بھی اس معاشی کھیل سے الگ نہیں ہیں۔ جنگ اور تباہی کی سنسنی خیز خبریں ناظرین کی توجہ کھینچتی ہیں، جس سے میڈیا ہاؤسز کی ریٹنگز اور اشتہارات کی آمدنی میں بے تحاشا اضافہ ہوتا ہے۔ ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں کو ٹی وی اسکرینوں پر بطور تجزیہ کار بٹھایا جاتا ہے، جو اکثر خود انھی اسلحہ ساز کمپنیوں کے بورڈ ممبر ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ایک ایسا ماحول تیار کرتے ہیں جہاں عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ جنگ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، تاکہ اربوں ڈالر کے دفاعی بجٹ پر کوئی سوال نہ اٹھائے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ جنگ کو محض ایک جذبات، مذہب یا قومی غیرت کا کھیل سمجھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ نظریات اور مذہب صرف عام انسانوں کو ایندھن بنانے کا کام کرتے ہیں، جبکہ اصل ڈوریاں ان سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہوتی ہیں جن کے لیے جنگ ایک سونے کی کان ہے۔ جب تک انسانوں کے خون، تباہ شدہ شہروں اور انسانی اعضاء کی تجارت سے ملنے والا منافع امن اور انسانی ترقی سے زیادہ رہے گا، تب تک دنیا سے جنگ کا خاتمہ ناگزیر نہیں بلکہ ناممکن رہے گا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔