نہار منہ انجیر کھانے کے ممکنہ فوائد، وزن اور ہاضمے کے لیے کیسے مددگار ہے؟

انجیر میں فائبر، کیلشیم، پوٹاشیم، فاسفورس، مینگنیز، کاپر، میگنیشیم اور متعدد غذائی اجزا پائے جاتے ہیں

صحت مند طرزِ زندگی کے لیے متوازن غذا اور مناسب وزن برقرار رکھنا اہم سمجھا جاتا ہے۔ وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد اکثر مختلف غذاؤں کو اپنی خوراک میں شامل کرتے ہیں، تاہم اس دوران جسم کی غذائی ضروریات پوری کرنا بھی ضروری ہے۔

انجیر ایک ایسا پھل ہے جس میں فائبر، کیلشیم، پوٹاشیم، فاسفورس، مینگنیز، کاپر، میگنیشیم اور وٹامن اے و بی سمیت متعدد غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔

انجیر میں موجود فائبر پیٹ کو دیر تک بھرا ہوا محسوس کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے بار بار کھانے کی خواہش کم کرنے میں سہولت مل سکتی ہے۔ یہی فائبر آنتوں کی کارکردگی اور نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی مفید ہے۔ انجیر میں فیکن نامی انزائم بھی پایا جاتا ہے، جو پروٹین کو ہضم کرنے کے عمل میں کردار ادا کرتا ہے۔

خشک انجیر کھائی جا سکتی ہے، تاہم بعض لوگ اسے رات بھر پانی میں بھگو کر صبح کھانا پسند کرتے ہیں۔ اس طرح استعمال کرنے سے انجیر نرم ہوجاتی ہے اور اسے کھانا آسان ہوتا ہے۔ البتہ یہ ثابت نہیں کہ صرف بھگو کر یا نہار منہ کھانے سے وزن تیزی سے کم ہونے لگتا ہے؛ وزن میں کمی کے لیے مجموعی غذا، جسمانی سرگرمی اور کیلوریز کا توازن زیادہ اہم ہے۔

انجیر میں قدرتی مٹھاس پائی جاتی ہے، اس لیے اسے بعض میٹھی اشیا کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس میں قدرتی شکر اور کیلوریز بھی ہوتی ہیں، خصوصاً خشک انجیر میں ان کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے اسے لامحدود مقدار میں کھانا مناسب نہیں، اور وزن کم کرنے والوں کو مقدار کا خیال رکھنا چاہیے۔

انجیر میں موجود غذائی اجزا عمومی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں، جبکہ اس میں پائے جانے والے غیر سیر شدہ فیٹی ایسڈز کی مقدار کو بھی بعض اوقات اس کے فوائد سے جوڑا جاتا ہے، لیکن انجیر کو اومیگا تھری کا نمایاں ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ذیابیطس کے مریض انجیر، خصوصاً خشک انجیر، اپنی خوراک میں شامل کرتے وقت مقدار کا خیال رکھیں اور ضرورت کے مطابق معالج یا غذائی ماہر سے مشورہ کریں۔

Load Next Story