پاکستان کی سیاست اور خیبر پختونخوا کا سوال

حکومتیں جب بھی کوئی غیر معمولی فیصلہ کرتی ہیں تو اس پر مختلف حلقوں میں بحث شروع ہو جاتی ہے۔

حکومتیں جب بھی کوئی غیر معمولی فیصلہ کرتی ہیں تو اس پر مختلف حلقوں میں بحث شروع ہو جاتی ہے۔ لوگ اپنی پسند، ناپسند اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر حکومتی اقدامات کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔

خیبر پختونخواہ میں ایمر جنسی کے نفاذ کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں جاری تھیں، بہرحال بہت سے حلقوں کو لگتا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا ۔ ان کی دلیل تھی کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی اور سیکیورٹی مسائل سے دوچار ہے ، شاید ایسا قدم نہ اٹھایا جائے لیکن یہ اندازے غلط ثابت ہوگئے ۔

 چند روز قبل مجھے پاکستان سے باہر ایک ایسے ملک میں جانے کا موقع ملا جس کے بارے میں اب تک فلموں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی جانتا تھا۔ میرے ذہن میں اس ملک کی جو تصویر تھی اس میں جنگ، تباہی اور بربادی کے مناظر نمایاں تھے۔ لیکن جب وہاں پہنچ کر حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اندازہ ہوا کہ دنیا کس تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے جب کہ ہم سیاسی کشمکش اور داخلی اختلافات کے گرد ہی گھومتے رہتے ہیں۔

ہماری ترقی کا سفر کئی مرتبہ وہیں آ کر رک جاتا ہے جہاں سے ہم نے آغاز کیا تھا۔میری مراد ویت نام سے ہے وہ ملک جسے ایک طویل جنگ کے دوران شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی فوجی مداخلت اور جنگ کے نتیجے میں ویت نام کے بنیادی ڈھانچے، معیشت اور معاشرتی زندگی کو گہرے نقصانات پہنچے۔

تاہم جنگ کے خاتمے کے بعد اس ملک نے بتدریج تعمیرِ نو، معاشی اصلاحات اور عالمی تجارت پر توجہ دی اور ترقی کی راہ اختیار کی۔ آج ویت نام صنعتی پیداوار، برآمدات اور سیاحت کے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس کی مثال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ تباہی اور مشکلات سے گزرنے والی قومیں بھی بہتر منصوبہ بندی، مسلسل محنت اور طویل المدتی حکمتِ عملی کے ذریعے اپنے حالات بدل سکتی ہیں۔

پاکستان سے دور رہتے ہوئے بھی وطن کے حالات سے بے خبر رہنا ممکن نہیں کیونکہ جدید ذرائع ابلاغ دنیا کے کسی بھی حصے میں پیش آنے والے واقعات کی خبر لمحوں میں پہنچا دیتے ہیں۔ انھی ذرائع سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق خبر سامنے آئی۔

اس معاملے پر پہلے ہی قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ بعض حلقے اسے ممکنہ اقدام قرار دے رہے تھے جب کہ دوسرے حلقوں کا خیال تھا کہ ایسا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔اس معاملے میں دہشت گردی اور صوبے کی امن و امان کی صورتِ حال کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر حکمتِ عملی پر اتفاق اور تعاون ناگزیر ہے۔ تاہم کسی بھی غیر معمولی انتظامی فیصلے کی ضرورت اس کے قانونی جواز اور اس کے متوقع نتائج کا جائزہ مستند حقائق اور آئینی اصولوں کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔

خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی حکومت اپنے سیاسی مؤقف اور صوبائی اختیارات کے حوالے سے مسلسل سرگرم رہی ہے۔ اس دوران بانی تحریکِ انصاف سے ملاقات کے معاملے نے بھی سیاسی کشیدگی میں اضافہ کیا۔ مختلف اجلاسوں اور سیاسی رابطوں کے ذریعے صورتِ حال کو معمول پر لانے کی کوششیں ہوتی رہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مذاکرات اور مفاہمت پر زور دیا گیا تاکہ صوبے میں جمہوری نظام کا تسلسل برقرار رہ سکے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن جو تحریکِ انصاف کے سیاسی مؤقف کے ناقد رہے ہیںان کی جانب سے بھی جمہوری نظام کے تسلسل اور سیاسی معاملات کے حل کے لیے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیے جانے کا ذکر کیا جاتا رہا ہے۔ اس صورتِ حال سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن جمہوری نظام کے استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے اور مکالمے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔تاہم سیاسی رابطوں کے باوجود جب اختلافات کا حل تلاش نہ کیا جا سکے تو صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

 جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں عوامی نمائندگی، آئینی حدود، جواب دہی اور اختلافِ رائے کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔اب جب کہ صوبے کے انتظامی معاملات نئے بندوبست کے تحت چلائے جارہے ہیں ۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ نئی انتظامیہ امن و امان کی صورتِ حال میں بہتری لانے، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے اور صوبائی سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے مقامی آبادی کا تعاون، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد اور عوامی اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔اس تمام صورتِ حال میں سب سے اہم سوال صوبے کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کا ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کو سیاسی اختلافات سے الگ کرکے دیکھا جائے۔ اگر سیاسی اختلافات قومی سلامتی اور عوامی فلاح کے معاملات پر حاوی ہو جائیں تو نقصان بالآخر عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔پاکستان کے لیے ویت نام کی مثال بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ کسی ملک کی ترقی محض وسائل کی فراوانی سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، اداروں کی مضبوطی، تعلیم، سرمایہ کاری، امن و امان اور مستقبل کے بارے میں واضح تصور ضروری ہوتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام ترقی کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ ہم کب تک اپنی توانائیاں سیاسی محاذ آرائی میں صرف کرتے رہیں گے اور کب قومی ترقی کو اپنی ترجیح بنائیں گے۔

 خیبر پختونخوا کی صورتِ حال کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ دہشت گردوں اور دہشت گردی کا خاتمہ ، امن و امان کی بہتری، عوامی اعتماد کے قیام اور آئینی و جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔ کسی بھی حکومتی فیصلے کی افادیت کا تعین اس کے اعلان یا سیاسی جواز سے نہیں بلکہ اس کے نتائج سے ہوتا ہے۔ اگر عوام کی زندگیوں میں بہتری آتی ہے، دہشت گردی میں کمی واقع ہوتی ہے اور سرکاری ادارے اور سرکاری افسر و اہلکار اپنی قانونی ذمے داریاں پوری قوت اور فرض شناسی سے ادا کرتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات خیبر پختونخوا پر ہی نہں پورے ملک پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کو ایک مستقل قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ایسی حکمتِ عملی جو جمہوریت کے تسلسل، قانون کی حکمرانی، قومی سلامتی، معاشی ترقی اور عوامی فلاح کو یکجا کرے۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ کردیا جائے ۔ اب فیصلہ ہماری سیاسی قیادت، ریاستی اداروں، اہل علم اور بحیثیت قوم ہمارے اجتماعی رویّوں نے کرنا ہے کہ ہم ماضی کے دائروں میں گھومتے رہیں گے یا مستقبل کی طرف ایک واضح اور پائیدار راستہ اختیار کریں گے۔

Load Next Story