نووی پلّے کا نوبیل امن انعام

ہمیں یہ خوشی ضرور منانی چاہیے کہ غزہ کے انسانی المیے سے متعلق تحقیق اور بین الاقوامی قانون کے دفاع سے وابستہ ایک شخصیت کو عالمی اعزاز ملا ہے

بعض خبریں محض خبر نہیں ہوتیں ،وہ امید کے چراغ روشن کرتی ہیں،مایوسی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہیں اور دنیا کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ سچ کی آواز کو ہمیشہ دبایا نہیں جا سکتا۔ نووی پلّے کو 2026 کا نوبیل امن انعام ملنا بھی ایسی ہی ایک خبر ہے۔ یہ خبر ان تمام لوگوں کے لیے خوشی، حوصلے اور تقویت کا باعث ہے جو غزہ کے مظلوم عوام کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

نووی پلّے کی کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ ایسے وقت میں جب غزہ کے انسانی المیے پر بات کرنا، سوال اٹھانا اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا مطالبہ کرنا، شدید سیاسی اختلافات کو جنم دیتا ہے، ایک ایسی شخصیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے جس نے انسانی حقوق اور انصاف کے سوالات کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بنیادی حصہ بنایا۔ نوبیل امن انعام کی کمیٹی نے انھیں امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا ہے۔یہ محض ایک خاتون کی کامیابی نہیں، یہ اس اصول کی جیت بھی ہے۔

 غزہ آج کے عہد کا ایک ایسا انسانی المیہ ہے جس نے دنیا کے ضمیر کو بار بار جھنجھوڑا ہے۔ تباہ شدہ گھر ملبے میں تبدیل ہونے والے محلے اپنے پیاروں کو کھونے والے خوف کے سائے میں پلتے بچے اور بنیادی ضروریات سے محروم خاندان ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کے عالمی دعوے آخر کس کے لیے ہیں۔ اگر بچوں کی جان عورتوں کا تحفظ اور عام شہریوں کی زندگی کسی جغرافیائی سرحد یا سیاسی شناخت کی وجہ سے کم اہم سمجھی جانے لگے تو پھر عالمی انصاف کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔

نووی پلّے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی سابق سربراہ رہ چکی ہیں۔ انھوں نے 2021 سے 2025 تک فلسطینی مقبوضہ علاقے بشمول مشرقی یروشلم اور اسرائیل سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی بھی کی۔ اس کمیشن نے غزہ میں ہونے والی کارروائیوں اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا اور اپنی رپورٹ میں نسل کشی کے ارتکاب کے نتائج اخذ کیے۔

اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے ،اس لیے ان معاملات کی قانونی حیثیت اور ذمے داری کا تعین شواہد اور مجاز عدالتی کارروائیوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ لیکن اس قانونی بحث سے قطع نظر ایک بنیادی حقیقت اپنی جگہ قائم ہے فلسطینی شہریوں کی زندگی ان کا تحفظ اور ان کے بنیادی انسانی حقوق عالمی ضمیر کا سوال ہیں۔نووی پلّے کو ملنے والا انعام اس ضرورت کی یاد دہانی ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بات کرنا ،ان کی تحقیقات کا مطالبہ کرنا اور متاثرین کے لیے انصاف کی آواز بلند کرنا عالمی امن کے خلاف نہیں بلکہ اس کی بنیاد ہے۔

نووی پلّے 1941 میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں تامل نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے نسلی امتیاز کے ماحول میں زندگی گزاری، قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ نیلسن منڈیلا اور دوسرے نسل پرستی مخالف کارکنوں کے حقوق کے دفاع سے وابستہ رہیں۔

1995 میں وہ جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ میں مقرر ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون جج بنیں۔ بعد میں انھوں نے روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں خدمات انجام دیں۔2008 سے 2014 تک وہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ بہت اہم ہے کہ آج تک کتنی خواتین نوبیل انعام حاصل کر چکی ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا عددی سوال ہے لیکن اس کے اندر صدیوں کی سماجی تاریخ، تعلیمی ناہمواری اور صنفی امتیاز کی داستان پوشیدہ ہے۔

نوبیل انعام 1901 میں شروع ہوا۔ نوبیل فاؤنڈیشن کی 2024 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس سال کے اختتام تک 66 خواتین نوبیل انعام حاصل کر چکی تھیں۔ 2025 میں طب کے شعبے میں میری برنکَو اور امن کے شعبے میں ماریا کورینا ماچاڈو کی کامیابیوں کے بعد اور اب 2026 میں نووی پلّے کے انعام کے ساتھ یہ تعداد کم از کم 69 خواتین تک پہنچتی ہے۔

یہ تعداد انفرادی خواتین کی ہے نہ کہ خواتین کو دیے گئے انعامات کی مجموعی تعداد کیونکہ میری کیوری جیسی شخصیت ایک سے زیادہ مرتبہ نوبیل انعام حاصل کر چکی ہیں۔ صرف نوبیل امن انعام کی بات کی جائے تو نووی پلّے سمیت اب تک 21 خواتین یہ اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔ ان ناموں میں مدر ٹریسا ،وانگاری ماتھائی ،ملالہ یوسفزئی، نرگس محمدی، نادیہ مراد اور دیگر قابلِ ذکر خواتین شامل ہیں۔

ملالہ یوسفزئی نے 2014 میں نوبیل امن انعام حاصل کیا۔اس کے باوجود سوال باقی ہے کہ اگر دنیا کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے تو اعلیٰ ترین عالمی اعزازات میں ان کی نمائندگی اتنی کم کیوں رہی۔ کیا خواتین میں صلاحیت کی کمی تھی یا انھیں تعلیم تحقیق وسائل فیصلہ سازی اور اپنے خیالات کے اظہار کے برابر مواقع نہیں ملے۔حقیقت یہ ہے کہ خواتین کی کامیابیوں کو صرف انفرادی قابلیت کے پیمانے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہمیں ان سماجی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو بھی دیکھنا ہوگا جو صدیوں تک خواتین کے راستے میں حائل رہیں۔

عورت کی کامیابی پوری نسل کی امید ہے ۔نووی پلّے کو ملنے والا نوبیل امن انعام دنیا کی ان تمام لڑکیوں کے لیے ایک پیغام ہے جو ایسے سماج میں پروان چڑھ رہی ہیں جہاں ان کی آواز کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ یہ ان خواتین کے لیے حوصلہ ہے جو ناانصافی کے خلاف بولنا چاہتی ہیں مگر انھیں مخالفت تنقید اور تنہائی کا خوف لاحق رہتا ہے۔ یہ ان طالبات کے لیے بھی ایک مثال ہے جو قانون، صحافت ،سیاست ،سائنس یا انسانی حقوق کے شعبوں میں آگے بڑھنے کا خواب دیکھتی ہیں۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کسی ایک خاتون کو عالمی اعزاز مل جانا صنفی مساوات کے تمام مسائل کا حل نہیں۔ خواتین کو تعلیم روزگار تحفظ فیصلہ سازی اور اظہارِ رائے کے برابر مواقع دینا ریاستوں اور سماج کی مستقل ذمے داری ہے۔اسی طرح کسی خاتون کی کامیابی کو صرف اس کی جنس تک محدود کر دینا بھی مناسب نہیں۔ نووی پلّے کو ان کی قانونی مہارت طویل جدوجہد اصول پسندی اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کی وجہ سے تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کا خاتون ہونا اس کامیابی کو مزید معنی ضرور دیتا ہے مگر اس کامیابی کی بنیاد ان کا کام ہے۔

 ہمیں یہ خوشی ضرور منانی چاہیے کہ غزہ کے انسانی المیے سے متعلق تحقیق اور بین الاقوامی قانون کے دفاع سے وابستہ ایک شخصیت کو عالمی اعزاز ملا ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس انعام کے بعد دنیا کے طاقت ور ممالک انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے رویوں پر نظرثانی کریں گے۔

کیا جنگ سے متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملے گا۔ کیا بین الاقوامی قوانین کا اطلاق تمام ریاستوں پر یکساں ہوگا،اگر ان سوالات کا جواب عملی اقدامات کی صورت میں سامنے نہیں آتا تو عالمی اعزازات کی معنویت محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔نوبیل امن انعام کسی قانونی فیصلے کا متبادل نہیں اور نہ ہی اس سے کسی تنازعے کے تمام پہلو خودبخود طے ہو جاتے ہیں، لیکن یہ عالمی توجہ کا رخ متعین کر سکتا ہے ان آوازوں کو تقویت دے سکتا ہے جنھیں نظرانداز کیا جا رہا ہو اور انصاف کے اداروں کی اہمیت اجاگر کر سکتا ہے۔

دنیا کو آج ایسے ہی اصولی رویے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر اس آواز کی حمایت کرنی چاہیے جو انسانی جان کے احترام شہریوں کے تحفظ جنگی جرائم کے احتساب اور مظلوموں کے حقوق کی بات کرتی ہے خواہ وہ آواز کسی بھی ملک قوم یا مذہب سے تعلق رکھنے والے انسان کی ہو۔

نووی پلّے کو نوبیل امن انعام ملنے کی خوشی اسی وقت مکمل ہوگی، جب یہ خبر محض چند روز کی بحث بن کر نہ رہ جائے بلکہ عالمی انصاف کے لیے ایک مستقل مطالبے میں تبدیل ہو۔

آخر میں سوال پھر وہی ہے اگر آج تک صرف 21 خواتین نوبیل امن انعام حاصل کر سکی ہیں تو دنیا میں ایسی کتنی قابل باصلاحیت اور اصول پسند خواتین موجود ہوں گی جنھیں ابھی تک ان کی جدوجہد کا مناسب اعتراف نہیں ملا۔

 یہی اس کامیابی کا سب سے اہم پیغام ہے۔ خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع دیجیے ان کی آواز سنیے اور ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کیجیے، کیونکہ جب ایک عورت انصاف کے لیے کھڑی ہوتی ہے تو اس کی آواز صرف اس کی اپنی نہیں رہتی وہ ان بے شمار انسانوں کی امید بن سکتی ہے جنھیں دنیا نے خاموش کرانے کی کوشش کی ہو۔نووی پلّے کا نوبیل امن انعام اسی امید کا نام ہے۔

Load Next Story