امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث اکتوبر میں ایران کی خام تیل برآمدات صفر رہنے کا دعویٰ
رائٹرز کے مطابق ایران کی سمندری راستوں سے خام تیل کی برآمدات ستمبر کے دوسرے ہفتے میں رک گئیں اور 5 اکتوبر تک بحال نہ ہوسکیں، آبنائے ہرمز کے مغرب میں 4 کروڑ 30 لاکھ بیرل تیل ٹینکروں میں پھنس گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ستمبر کے آغاز میں ایران کی خام تیل کی سمندری برآمدات کا 14 روزہ اوسط تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ تھا، تاہم ستمبر کے دوسرے ہفتے میں یہ بہاؤ صفر ہوگیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کے برعکس ایران کے علاوہ خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل ستمبر میں جنگ سے پہلے کی سطح کے 81 فیصد سے تجاوز کرگئی، جس میں سعودی عرب کی برآمدات کی بحالی نے اہم کردار ادا کیا۔
ورٹیکسا کے مطابق سمندر میں موجود ٹینکروں میں ایرانی خام تیل کا ذخیرہ کم ہوکر 8 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گیا ہے۔ اس میں سے تقریباً 4 کروڑ 30 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز کے مغرب میں امریکی ناکہ بندی کے باعث پھنسا ہوا ہے۔
ورٹیکسا کی ڈائریکٹر برائے میری ٹائم رسک اینڈ انٹیلی جنس کلیئر جنگمین نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی نے ایرانی خام تیل کی خلیج سے بیرون ملک ترسیل کو جسمانی طور پر روک دیا ہے، جو ان کے بقول برسوں کی پابندیوں سے بھی حاصل نہیں ہوسکا تھا۔
Iranian seaborne crude exports have effectively halted. Russia now dominates high-risk crude supply, leaning ever harder on China.
— Vortexa (@Vortexa) October 13, 2026
Download the report: https://t.co/16qhdrcuzr#Vortexa #Sanctions pic.twitter.com/kUGGr6turP
ان کا مزید کہنا تھا کہ چین کو بھی اب ایرانی تیل کی پہلے جیسی فوری ضرورت نہیں رہی، کیونکہ روسی خام تیل نے اس کی طلب کا بڑا حصہ پورا کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی ناکہ بندی ایرانی تیل کی عالمی منڈیوں تک رسائی محدود کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی ہے، تاہم برآمدات کی طویل بندش کے معاشی اثرات اور آئندہ تیل کی ترسیل کی صورتحال کا انحصار ناکہ بندی کے تسلسل اور خطے میں پیش رفت پر ہوگا۔