چیٹ جی پی ٹی اور دیگر اے آئی کمپنیوں کے لیے بڑا چیلنج، 40 عالمی میڈیا ادارے متحد ہوگئے

اے آئی کمپنیوں کی جانب سے صحافتی مواد کے استعمال، کاپی رائٹ کے حقوق اور معاوضہ دینے کے طریقۂ کار پر بحث جاری ہے

یرس: دنیا کے 40 بڑے میڈیا اداروں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپنیوں کو صحافتی مواد بغیر اجازت استعمال کرنے سے روکنے اور ناشرین کو ان کے کام کا مناسب معاوضہ دلانے کے لیے ایک عالمی اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس اتحاد میں دی نیویارک ٹائمز، دی اکانومسٹ اور ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) سمیت اہم عالمی میڈیا ادارے شامل ہیں۔ اس اتحاد کا نام SPUR (Standards for Publisher Usage Rights) ہے، جس کا آغاز رواں سال فروری میں کیا گیا تھا۔

اس سے قبل اتحاد میں بی بی سی، فنانشل ٹائمز اور ایسوسی ایٹڈ پریس جیسے ادارے شامل تھے۔ تازہ توسیع کے بعد اس میں شریک میڈیا اداروں کی تعداد تقریباً دوگنی ہوگئی ہے۔

اتحاد کا بنیادی مقصد میڈیا کمپنیوں کو اپنے صحافتی مواد کے استعمال کا سراغ لگانے، ممکنہ غیر قانونی کاپی رائٹ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے اور اے آئی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر مذاکرات میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس کوشش کا تعلق چیٹ جی پی ٹی اور کلاڈ جیسی مصنوعی ذہانت کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے بھی ہے۔

اتحاد کے شریک بانی اور ترجمان ڈیوڈ بٹل کے مطابق منصفانہ اور پائیدار معلوماتی معیشت کے قیام کی کوششوں کو تیزی سے حمایت مل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ معیار کی صحافت اے آئی ماڈلز کی بنیاد فراہم کرتی ہے، لیکن موجودہ صورت حال میں ناشرین کے پاس ایسا مؤثر نظام موجود نہیں جس کے ذریعے وہ اپنے کام کے مناسب معاوضے کو یقینی بنا سکیں۔

اے ایف پی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو فابریس فریز نے بھی اس معاملے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر روز لاکھوں افراد اے آئی معاونین کے ذریعے ایسی معلومات حاصل کرتے ہیں جنہیں خبر رساں اداروں کے صحافی جمع کرتے اور ان کی تصدیق کرتے ہیں۔

ان کے مطابق اصل صحافتی کام کو تسلیم کرنا، اس کا مناسب حوالہ دینا اور اس کے لیے منصفانہ معاوضہ فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مواد کے استعمال کا سراغ لگانے کا معاملہ صرف دانشورانہ ملکیت تک محدود نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم ہے۔

میڈیا اداروں کی یہ مشترکہ کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے آئی کمپنیوں کی جانب سے صحافتی مواد کے استعمال، کاپی رائٹ کے حقوق اور مواد تخلیق کرنے والوں کو معاوضہ دینے کے طریقۂ کار پر بحث جاری ہے۔

Load Next Story