اوپن اے آئی کے دفتر میں خفیہ ریکارڈر سے حساس گفتگو ریکارڈ کرنے کا الزام، سعودی انجینیئر گرفتار

کمپنی نے اپنی داخلی تحقیقات میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی مدد سے ڈیوائس کے ماخذ کا سراغ لگایا

واشنگٹن: مصنوعی ذہانت کی معروف امریکی کمپنی اوپن اے آئی کے ایک سعودی شہری انجینیئر پر کمپنی کے دفتر میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

امریکی وفاقی استغاثہ کے مطابق مبینہ طور پر یہ ڈیوائس ٹوائلٹ پیپر میں لپیٹ کر ایک ایگزیکٹو کانفرنس روم میں ٹی وی کے عقب میں موجود یو ایس بی پورٹ سے منسلک کی گئی تھی۔

بی بی سی نیوز کے مطابق ملزم عبدالرحمان الفوزان اوپن اے آئی میں انجینیئر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ انہوں نے کمپنی کے ایگزیکٹو کانفرنس روم میں حساس اور نجی گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے کے لیے یہ ڈیوائس نصب کی۔

اوپن اے آئی کے مطابق سان فرانسسکو میں واقع کمپنی کے دفتر سے جدید خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس ملنے کے بعد معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے حوالے کیا گیا۔

کمپنی نے اپنی داخلی تحقیقات میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی مدد سے ڈیوائس کے ماخذ کا سراغ لگایا، جس کے نتیجے میں ایک ملازم کی نشاندہی ہوئی۔ بعد ازاں متعلقہ ملازم کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ایف بی آئی کی تحقیقات میں مبینہ طور پر ایسے شواہد سامنے آئے کہ ملزم نے خفیہ آڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس تیار کرنے، اسے نصب کرنے، اس کی ریکارڈنگ اور وائی فائی کی صلاحیت بہتر بنانے، انکرپشن اور اسے نظروں سے اوجھل رکھنے کے طریقوں کے بارے میں ایک چیٹ بوٹ اور پروڈکٹیویٹی ٹول استعمال کیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق ڈیوائس 30 ستمبر کو ملازمین کو ملی، جبکہ مبینہ طور پر اسے دو روز قبل نصب کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیوائس کو انکرپشن کے ذریعے محفوظ بنایا گیا تھا۔

مزید یہ کہ 5 اکتوبر کو ملزم مبینہ طور پر دوبارہ اسی کمرے میں گیا جہاں ڈیوائس نصب تھی۔ استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسے ڈیوائس کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی روز کمپنی کی سکیورٹی ٹیم کو عمارت کے ایک دوسرے حصے میں ایک بیگ بھی ملا، جسے مبینہ طور پر بغیر نگرانی کے چھوڑا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق بیگ میں ملزم کا بٹوہ، شناختی کارڈ اور ایک دوسری ریکارڈنگ ڈیوائس موجود تھی، جو کانفرنس روم سے ملنے والی ڈیوائس سے مشابہ تھی۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ الزام ہے کہ ملزم نے حساس گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے کے لیے اپنے آجر کے ایگزیکٹو کانفرنس روم میں ریکارڈنگ ڈیوائس چھپائی۔ حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات کا مقصد یہ بھی جاننا ہے کہ آیا ملزم حساس معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا۔

اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس واقعے کے دوران کمپنی کا سورس کوڈ، اے آئی ماڈلز کے ویٹس یا صارفین کا ڈیٹا غیر مجاز طور پر حاصل کیا گیا یا کہیں منتقل کیا گیا ہو۔

کمپنی نے واقعے کو سکیورٹی کے حوالے سے سنجیدہ معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تحقیقات میں متعلقہ حکام سے تعاون کر رہی ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت پیچیدہ سکیورٹی خطرات کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عبدالرحمان الفوزان منگل کو عدالت میں پیش ہوئے۔ اگر ان پر عائد الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو انہیں پانچ سال تک قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ تاہم مقدمے میں الزام ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔

Load Next Story