اکبر بگٹی اور وفاق
نواب اکبر بگٹی کے قتل کو آٹھ سال ہوگئے، مگر بلوچستان میں امن قائم نہ ہو سکا۔ ...
tauceeph@gmail.com
نواب اکبر بگٹی کے قتل کو آٹھ سال ہوگئے، مگر بلوچستان میں امن قائم نہ ہو سکا۔ نواب اکبر بگٹی کی برسی منگل کو منائی گئی، بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہڑتال کی صورتحال رہی۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک دور دراز علاقے کے پہاڑ کے غار پر فوجی آپریشن کے دوران نواب اکبر بگٹی جاں بحق ہو گئے تھے۔ فوجی آپریشن کے دوران گولہ باری کی بناء پر اکبر بگٹی کو اپنا آبائی علاقہ ڈیرہ بگٹی چھوڑنا پڑا تھا، اکبر بگٹی زندگی کی آخری دم تک پاکستان کے وفاق میں بلوچستان کے حصے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔
ان کے قتل سے بلوچستان کے عوام میں نفرت اور مایوسی پیدا ہو گئی، بلوچ انتہا پسندوں نے نوجوانوں کو بغاوت پر ابھارنا شروع کیا تو رینجرز اور پولیس کے دستوں کو نشانہ بنایا جانے لگا، سیاسی کارکنوں کو اغواء کیا جانے لگا، علیحدگی پسندوں نے اکبر بگٹی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے دوسرے صوبوں سے آنے والے افراد کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اساتذہ، ڈاکٹر، وکلا، سرکاری افسران، دکانداروں اور حجاموں کو چن چن کر قتل کیا گیا۔
بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کی استاد پروفیسر ناظمہ طالب اس جنون کا شکار ہوئیں، انتہا پسندوں کی اس کارروائی کے نتیجے میں بلوچستان کا تعلیمی اور صحت کا نظام مفلوج ہو گیا، پرائمری سطح سے یونیورسٹی کی سطح تک کے اساتذہ کے قتل اور اساتذہ کے دوسرے صوبوں میں منتقل ہونے کی بناء پر تعلیمی معیار بری طرح متاثر ہوا پھر اچانک لاپتہ ہونے والے سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے لگیں، کوئٹہ سے لے کر تربت اور کراچی سے طلبا، وکلا اور دوسرے سیاسی کارکنوں کی لاشیں ملنے سے پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہونے لگا جہاں سیاسی کارکنوں کو ماورائے عدلت قتل کر دیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں میں 1200 افراد کی فہرست کا ذکر ملتا ہے جو پہلے لاپتہ ہوئے اور پھر ان کی لاشیں ملیں اس دوران 2008ء میں ملک میں عام انتخابات منعقد ہوئے، وفاق میں اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی نے حکومتیں قائم کی، بلوچستان نواب اسلم رئیسانی وزیر اعلیٰ بنے، پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں بلوچستان کے عوام سے ہونے والے مظالم پر معذرت کی قرارداد منظور کرائی، بلوچستان کے عوام کے لیے آغاز بلوچستان کے عنوان سے نئے پیکیج کا اعلان کیا گیا مگر نواب رئیسانی کی حکومت بلوچستان کی کمزور ترین حکومت ثابت ہوئی۔
مذہبی انتہا پسندوں نے ہزارہ برادری کے لوگوں کی نسل کشی شروع کر دی، ایران جانے والے زائرین کی بسوں پر حملے ہوئے۔ کوئٹہ میں متعدد بار ہزارہ برادری کی بسوں کو خودکش حملہ آوروں نے نشانہ بنایا، یہ الزام لگایا جانے لگا کہ بلوچ مذہبی انتہا پسندوں کے بعض گروہ اس وارداتوں میں ملوث ہیں تا کہ وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی کے ایک بھائی پر ان گروہوں کی سرپرستی کا الزام لگایا گیا، اس دوران کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اس حد تک بگڑی کہ ڈاکٹر، انجینئرز، دکاندار خاص طور پر ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد اغواء ہونے لگے، مہینوں متعدد افراد نامعلوم مقامات پر قید رہے اور جو لوگ تاوان کی بھاری رقم ادا کرتے وہ رہا ہو گئے جو رقم ادا نہیں کر پاتے ان کی لاشیں ملنے لگی۔
سیاسی کارکنوں کے اغواء اور قتل کے معاملے کی بازگشت اقوام متحدہ کے ایوانوں تک پہنچ گئی، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے فیکٹ فائنڈنگ مشن پاکستان کے دورے پر بھیج دیا، اگرچہ حکومت نے اس مشن کو اہمیت نہیں دی، صدر، وزیر اعظم یا کسی وزیر نے مشن کے سامنے حکومت کا موقف پیش نہیں کیا مگر مشن کی رپورٹ پر جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں غور کیا گیا اور کونسل کی سالانہ رپورٹ میں یہ شامل ہوئی تو نواب اسلم رئیسانی مسلسل یہ بات کہتے رہے کہ ان کی حکومت کی پورے صوبے پر بالادستی نہیں ہے۔
ایف سی صوبے کو کنٹرول کرتی ہے ایک وقت ایسا آیا کہ کوئٹہ میں ہزارہ ٹاؤن پر ہونے والے خود کش حملوں میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے، مظاہرین نے حکومت کی برطرفی تک لاشوں کی تدفین سے انکار کیا اور پورے ملک میں دھرنے دیے یوں بڑے شہروں میں زندگی مفلوج ہوئی اور پورے ملک میں فرقہ ورانہ کشیدگی آئی، اس وقت کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کوئٹہ میں مظاہرین کے پاس گئے اور صوبائی حکومت کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
مئی 2013ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد میاں نوازشریف نے وفاق میں اقتدار سنبھالا تو انھوں نے بلوچستان میں نیشنل پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دی یوں تاریخ میں پہلی دفعہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالمالک وزیر اعلیٰ بنے۔ ڈاکٹر مالک نے مفاہمت کے نئے دور کا آغاز کیا، صوبائی حکومت سے کرپشن ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے، اغواء برائے تاوان کی وارداتوں پر قابو پایا گیا، ٹارگٹ کلنگ میں کمی ہوئی، صوبائی حکومت نے تعلیم کا بجٹ میں صد فیصد اضافہ کیا یوں انتہا پسند نوجوانوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے کہ وہ ہتھیار چھوڑ کر جمہوری جدوجہد میں شامل ہو جائیں۔
ڈاکٹر مالک حکومت کی کوششوں سے مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کا معاملہ تھم گیا، ڈاکٹر مالک اور ان کے ساتھی میر حاصل بزنجو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، گزشتہ دنوں نیشنل پارٹی کے رہنما مولا بخش دشتی کی برسی کے موقعے پر تربت میں ایک بڑا احتجاج ہو ا، اس احتجاج میں تقریباََ دس ہزار افراد شریک تھے، اس احتجاج میں جمہوری عمل جاری رکھنے 1973ء کے آئین کے تحت مسائل کے حل پر زور دیا گیا اور انتہا پسندوں کو صلح، امن اور ترقی کا نیا راستہ دکھایا گیا۔ گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران 1973ء آئین کی بالادستی پر یقین رکھنے والوں کا پہلا بڑا اجتماع تھا۔
اسلام آباد میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنوں کے مطالبات اگر مان لیے جائیں اور حکومتیں توڑ دی جائیں تو بلوچستان میں مایوسی کا ایک بھیانک دور شروع ہو گا جو نوجوان نیشنل پارٹی کی کوششوں سے ہتھیار کے بجائے جمہوری جدوجہد کے لیے آمادہ ہوئے ہیں وہ مایوس ہو جائیں گے۔ انتہا پسندوں کی اس دلیل میں قوت ہو گی کہ جب پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کو اقتدار برقرار رکھنے کا حق نہیں ہے تو بلوچ تو کسی خانے پر شمار نہیں ہوتے۔
جنرل پرویز مشرف نے نواب اکبر بگٹی کو قتل کر کے انتہا پسندوں کو مضبوط ہونے کا موقع دیا تھا وہ صورتحال دوبارہ پیدا ہو جائے گی یوں وفاق کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا، اگر موجودہ حکومت 5 سال فرائض انجام دیتی ہے اور اس کو بلوچستان میں آزادی سے کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو اکبر بگٹی کے قتل سے جو زخم لگے تھے وہ مندمل ہو سکیں گے، دل نرم پڑ جائیں گے۔ یوں وفاق مضبوط ہو گا۔
ان کے قتل سے بلوچستان کے عوام میں نفرت اور مایوسی پیدا ہو گئی، بلوچ انتہا پسندوں نے نوجوانوں کو بغاوت پر ابھارنا شروع کیا تو رینجرز اور پولیس کے دستوں کو نشانہ بنایا جانے لگا، سیاسی کارکنوں کو اغواء کیا جانے لگا، علیحدگی پسندوں نے اکبر بگٹی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے دوسرے صوبوں سے آنے والے افراد کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اساتذہ، ڈاکٹر، وکلا، سرکاری افسران، دکانداروں اور حجاموں کو چن چن کر قتل کیا گیا۔
بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کی استاد پروفیسر ناظمہ طالب اس جنون کا شکار ہوئیں، انتہا پسندوں کی اس کارروائی کے نتیجے میں بلوچستان کا تعلیمی اور صحت کا نظام مفلوج ہو گیا، پرائمری سطح سے یونیورسٹی کی سطح تک کے اساتذہ کے قتل اور اساتذہ کے دوسرے صوبوں میں منتقل ہونے کی بناء پر تعلیمی معیار بری طرح متاثر ہوا پھر اچانک لاپتہ ہونے والے سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے لگیں، کوئٹہ سے لے کر تربت اور کراچی سے طلبا، وکلا اور دوسرے سیاسی کارکنوں کی لاشیں ملنے سے پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہونے لگا جہاں سیاسی کارکنوں کو ماورائے عدلت قتل کر دیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں میں 1200 افراد کی فہرست کا ذکر ملتا ہے جو پہلے لاپتہ ہوئے اور پھر ان کی لاشیں ملیں اس دوران 2008ء میں ملک میں عام انتخابات منعقد ہوئے، وفاق میں اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی نے حکومتیں قائم کی، بلوچستان نواب اسلم رئیسانی وزیر اعلیٰ بنے، پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں بلوچستان کے عوام سے ہونے والے مظالم پر معذرت کی قرارداد منظور کرائی، بلوچستان کے عوام کے لیے آغاز بلوچستان کے عنوان سے نئے پیکیج کا اعلان کیا گیا مگر نواب رئیسانی کی حکومت بلوچستان کی کمزور ترین حکومت ثابت ہوئی۔
مذہبی انتہا پسندوں نے ہزارہ برادری کے لوگوں کی نسل کشی شروع کر دی، ایران جانے والے زائرین کی بسوں پر حملے ہوئے۔ کوئٹہ میں متعدد بار ہزارہ برادری کی بسوں کو خودکش حملہ آوروں نے نشانہ بنایا، یہ الزام لگایا جانے لگا کہ بلوچ مذہبی انتہا پسندوں کے بعض گروہ اس وارداتوں میں ملوث ہیں تا کہ وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی کے ایک بھائی پر ان گروہوں کی سرپرستی کا الزام لگایا گیا، اس دوران کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اس حد تک بگڑی کہ ڈاکٹر، انجینئرز، دکاندار خاص طور پر ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد اغواء ہونے لگے، مہینوں متعدد افراد نامعلوم مقامات پر قید رہے اور جو لوگ تاوان کی بھاری رقم ادا کرتے وہ رہا ہو گئے جو رقم ادا نہیں کر پاتے ان کی لاشیں ملنے لگی۔
سیاسی کارکنوں کے اغواء اور قتل کے معاملے کی بازگشت اقوام متحدہ کے ایوانوں تک پہنچ گئی، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے فیکٹ فائنڈنگ مشن پاکستان کے دورے پر بھیج دیا، اگرچہ حکومت نے اس مشن کو اہمیت نہیں دی، صدر، وزیر اعظم یا کسی وزیر نے مشن کے سامنے حکومت کا موقف پیش نہیں کیا مگر مشن کی رپورٹ پر جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں غور کیا گیا اور کونسل کی سالانہ رپورٹ میں یہ شامل ہوئی تو نواب اسلم رئیسانی مسلسل یہ بات کہتے رہے کہ ان کی حکومت کی پورے صوبے پر بالادستی نہیں ہے۔
ایف سی صوبے کو کنٹرول کرتی ہے ایک وقت ایسا آیا کہ کوئٹہ میں ہزارہ ٹاؤن پر ہونے والے خود کش حملوں میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے، مظاہرین نے حکومت کی برطرفی تک لاشوں کی تدفین سے انکار کیا اور پورے ملک میں دھرنے دیے یوں بڑے شہروں میں زندگی مفلوج ہوئی اور پورے ملک میں فرقہ ورانہ کشیدگی آئی، اس وقت کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کوئٹہ میں مظاہرین کے پاس گئے اور صوبائی حکومت کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
مئی 2013ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد میاں نوازشریف نے وفاق میں اقتدار سنبھالا تو انھوں نے بلوچستان میں نیشنل پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دی یوں تاریخ میں پہلی دفعہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالمالک وزیر اعلیٰ بنے۔ ڈاکٹر مالک نے مفاہمت کے نئے دور کا آغاز کیا، صوبائی حکومت سے کرپشن ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے، اغواء برائے تاوان کی وارداتوں پر قابو پایا گیا، ٹارگٹ کلنگ میں کمی ہوئی، صوبائی حکومت نے تعلیم کا بجٹ میں صد فیصد اضافہ کیا یوں انتہا پسند نوجوانوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے کہ وہ ہتھیار چھوڑ کر جمہوری جدوجہد میں شامل ہو جائیں۔
ڈاکٹر مالک حکومت کی کوششوں سے مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کا معاملہ تھم گیا، ڈاکٹر مالک اور ان کے ساتھی میر حاصل بزنجو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، گزشتہ دنوں نیشنل پارٹی کے رہنما مولا بخش دشتی کی برسی کے موقعے پر تربت میں ایک بڑا احتجاج ہو ا، اس احتجاج میں تقریباََ دس ہزار افراد شریک تھے، اس احتجاج میں جمہوری عمل جاری رکھنے 1973ء کے آئین کے تحت مسائل کے حل پر زور دیا گیا اور انتہا پسندوں کو صلح، امن اور ترقی کا نیا راستہ دکھایا گیا۔ گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران 1973ء آئین کی بالادستی پر یقین رکھنے والوں کا پہلا بڑا اجتماع تھا۔
اسلام آباد میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنوں کے مطالبات اگر مان لیے جائیں اور حکومتیں توڑ دی جائیں تو بلوچستان میں مایوسی کا ایک بھیانک دور شروع ہو گا جو نوجوان نیشنل پارٹی کی کوششوں سے ہتھیار کے بجائے جمہوری جدوجہد کے لیے آمادہ ہوئے ہیں وہ مایوس ہو جائیں گے۔ انتہا پسندوں کی اس دلیل میں قوت ہو گی کہ جب پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کو اقتدار برقرار رکھنے کا حق نہیں ہے تو بلوچ تو کسی خانے پر شمار نہیں ہوتے۔
جنرل پرویز مشرف نے نواب اکبر بگٹی کو قتل کر کے انتہا پسندوں کو مضبوط ہونے کا موقع دیا تھا وہ صورتحال دوبارہ پیدا ہو جائے گی یوں وفاق کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا، اگر موجودہ حکومت 5 سال فرائض انجام دیتی ہے اور اس کو بلوچستان میں آزادی سے کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو اکبر بگٹی کے قتل سے جو زخم لگے تھے وہ مندمل ہو سکیں گے، دل نرم پڑ جائیں گے۔ یوں وفاق مضبوط ہو گا۔