دیوتاؤں کی زبانیں بند ہیں
اس وقت سیاست اور صحافت دو حصوں میں بٹ گئی ہے ایک حصہ دھرنوں کی حمایت کر رہا ہے....
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
میں یہ کالم اس وقت لکھ رہا ہوں جب پولیس اور کمانڈوز کے دستوں نے ریڈ زون کے مقدس ایوانوں کے سامنے صف بندی کرلی ہے عمران خان اور قادری کے 13 روز کے تھکے ماندے کارکن چاق و چوبند ہیں آزادی مارچ اور انقلاب مارچ پر کریک ڈاؤن کے حقیقی امکان سے ذرہ برابر پریشان یا خوفزدہ نظر نہیں آتے۔
قادری نے اپنے لیے کفن منگوا لیا ہے اور اعلان کر رہے ہیں کہ یہ کفن میں پہنوں گا یا نواز شریف کا اقتدار پہنے گا۔ قادری کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی تو پارلیمنٹ شہدا کا قبرستان بن جائے گا۔ قادری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہزاروں مرد عورتیں بچے بچیاں کرائے پر لائے گئے کارکن نہیں بلکہ پختہ نظریاتی طاقت ہیں اور کارکن جب نظریاتی طاقت میں بدل جاتے ہیں تو ریاستی مشنری ان کی جان تو لے سکتی ہے ان کے نظریات نہیں لے سکتی۔
اس وقت سیاست اور صحافت دو حصوں میں بٹ گئی ہے ایک حصہ دھرنوں کی حمایت کر رہا ہے دوسرا دھرنوں کی مخالفت کر رہا ہے دھرنوں کا مذاق اڑا رہا ہے۔ اس صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے عمران اور قادری کے مطالبات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔
دونوں رہنما جو مطالبات کر رہے ہیں ان میں الیکشن کمیشن کی تشکیل نو، انتخابی نظام کی تشکیل نو، لٹیری کلاس کا احتساب، ماڈل ٹاؤن کے شہدا کی ایف آئی آر، بلدیاتی نظام کا احیا، الیکشن میں دھاندلی کے شرکا کا احتساب، کپتان کا وہ مطالبہ جو متنازعہ بنا ہوا ہے ''نواز شریف کا استعفیٰ'' نواز شریف کے استعفے کے علاوہ باقی تمام مطالبات کو بیشتر سیاستدان درست سمجھتے ہیں۔
قادری صاحب کے ایک مطالبے ''تمام حکومتوں کی تحلیل'' پر بھی حکومت کے اتحادیوں اور جمہوریت کے حمایتیوں کو اعتراض ہے۔ باقی تمام مطالبات انقلابی نہیں جمہوری ہیں اور آئین اور قانون کے عین مطابق بھی ہیں۔ حکمران اقتدار چھوڑنے کو اپنی نہیں جمہوریت کی ناکامی کہہ رہے ہیں اور اقتدار نہ چھوڑنے کا جواز یہ پیش کر رہے ہیں کہ پارلیمنٹ کی 12 جماعتوں میں سے 11 جماعتیں ان کے ساتھ ہیں جس کا مطلب پورا ملک ان کے ساتھ ہے۔
ہماری جمہوری روایات کے مطابق یہ دعویٰ درست ہے لیکن یہ دعویٰ اس حوالے سے درست نہیں ہے جس میں یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس جمہوریت میں انتخابات جعل سازی، جبر، دھوکے، فریب اور دولت کی بنیاد پر جیتے جاتے ہیں جس کی اظہار الیکشن کمیشن کا ایک اہم عہدیدار کر رہا ہے جس کی حیثیت الیکشن کمیشن میں نمبر 2 کی ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہو جائیں تو حکومت کے شریک کاروں کو یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ حکومت مستعفی ہو جائے لیکن ان سارے جمہوریت کے پرستار دیوتا خاموش ہیں۔
اس حوالے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت گئی تو جمہوریت چلی جائے گی ملک تباہ ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ حکومت یا وزیر اعظم کے جانے سے نہ جمہوریت جائے گی نہ ملک جائے گا۔ ہر دور میں حکومت کے قدم سے قدم ملا کر چلنے والے دانشور جن کے منہ ہمیشہ موتیوں سے بھرے رہتے ہیں حکمرانوں سے زیادہ تیز آواز میں جمہوریت کی صدا بلند کر رہے ہیں۔
وہ کنونشن لیگی صحافی اور دانشور جو جمہوریت کے گرد کنٹینروں کی طرح کھڑے ہوئے ہیں کیا انھوں نے جمہوریت کے متعارف کنندگان کی یہ جمہوری تشریح پڑھی ہے کہ جمہوریت کا مطلب ''عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے'' ہے؟ کیا یہ محترم حضرات یہ بتا سکتے ہیں کہ 67 سالوں میں جمہوریت نے عوام کو کیا دیا، عوام کے مسائل کم کیے یا ان میں اضافہ کیا؟ کیا ہماری جمہوریت ''عوام کی حکومت عوام کے لیے'' کے معیار پر پوری اترتی ہے کیا جمہوریت اور ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں؟ اگر یہ اکابرین ایمانداری سے ان سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیار ہوں تو پھر انھیں اس جمہوریت کی حمایت سراسر بددیانتی اور عوام دشمنی نظر آئے گی۔
عمران خان پر ناچ گانے کی سیاست کرنے اور قادری صاحب پر دہری شہریت اور ملکہ کی وفاداری کا حلف اٹھانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ انھیں پاکستان کے جمہوری نظام کو تباہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ پاکستانی اشرافیہ کا نصف حصہ دہری شہریت کا حامل ہو گا اور وہ دھڑلے سے پاکستان کی دولت کو بھی لوٹ رہا ہے اور اقتدار کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔
پاکستان کے 20 کروڑ عوام 67 سالوں سے بھوک، افلاس، بیکاری، غربت، بیماری کے جہنم میں جل رہے ہیں اور خالص پاکستانی قیادت عوام کو اس جہنم میں جلتے دیکھ رہی ہے۔ انھیں اس جہنم سے نکالنے کے بجائے اپنی زندگی کو جنت بنا رہی ہے۔ کیا ایسی افسوس ناک صورتحال میں اگر دہری شہریت رکھنے والا قادری عوام کو اس جہنم سے نکالنے کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے تو اسے ملکہ کا وفادار کہنا درست ہے؟ ہاں قادری ایک جذباتی آدمی ہے وہ جمہوریت کی لڑائی کے پیچھے آئین کو نظر انداز کر رہا ہے لیکن اس کے اخلاص پر شبہ کرنا بددیانتی ہے۔
پاکستان کے عوام کو سب سے زیادہ حیرت اس واویلے پر ہے کہ دھرنوں کی وجہ سے جمہوریت آئین قانون پارلیمنٹ ملک و قوم کو سنگین خطرہ لاحق ہے اور اسی فرضی اور پر فریب خطرے کا نام لے کر حکمراں اور ان کے معزز اتحادی ہر قیمت پر جمہوریت کو بچانے کے لیے میدان میں آ رہے ہیں۔ کیا حکمرانوں کے استعفے سے جمہوریت اور ملک خطرے میں پڑ جائے گا؟ کیا سانحہ ماڈل ٹاؤن میں حکمران مجرم ثابت ہوتے ہیں تو جمہوریت اور ملک خطرے میں پڑ جاتے ہیں؟ کیا موجودہ حکومت چلی جاتی ہے تو آئین ختم ہو جاتا ہے؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا ۔
دھرنے والوں پر کئی الزامات لگائے جا رہے ہیں ہم ان سارے الزامات کو درست مان لیتے ہیں۔ لیکن کیا دھاندلی زدہ انتخابی نظام میں تبدیلی اور اسے اشرافیہ کی جاگیر سے نکالنا جمہوریت دشمنی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن کی تشکیل نو سے آئین کو خطرہ لاحق ہو جائے گا؟ کیا لٹیری کلاس کا کڑا احتساب آئین اور قانون کے خلاف ہے؟
کیا بلدیاتی نظام کے احیا سے ملکی سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی دھرنے والے یہ سارے مطالبات اب تک انتہائی پر امن طریقے سے کر رہے ہیں۔ نہ اس حوالے سے یہ انتہا پسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں نہ ان کے مطالبات انتہا پسندانہ ہیں وہ تو غریب کو روٹی کپڑا مکان تعلیم علاج انصاف دلانا چاہتے ہیں۔ شاعر مشرق ایک اعتدال پسند انسان تھے لیکن وہ یہ کہنے پر کیوں مجبور ہوئے!
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
کیا اقبالؔ تخریب کار تھے۔ انتہا پسند تھے؟ نہیں بلکہ کروڑوں غریب عوام کی بھوک پیاس غربت و افلاس کی انتہا نے اقبال سے یہ کہلوایا ۔ دھرنے والے ابھی اس انتہا پر نہیں گئے ہیں لیکن جا سکتے ہیں ۔
قادری نے اپنے لیے کفن منگوا لیا ہے اور اعلان کر رہے ہیں کہ یہ کفن میں پہنوں گا یا نواز شریف کا اقتدار پہنے گا۔ قادری کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی تو پارلیمنٹ شہدا کا قبرستان بن جائے گا۔ قادری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہزاروں مرد عورتیں بچے بچیاں کرائے پر لائے گئے کارکن نہیں بلکہ پختہ نظریاتی طاقت ہیں اور کارکن جب نظریاتی طاقت میں بدل جاتے ہیں تو ریاستی مشنری ان کی جان تو لے سکتی ہے ان کے نظریات نہیں لے سکتی۔
اس وقت سیاست اور صحافت دو حصوں میں بٹ گئی ہے ایک حصہ دھرنوں کی حمایت کر رہا ہے دوسرا دھرنوں کی مخالفت کر رہا ہے دھرنوں کا مذاق اڑا رہا ہے۔ اس صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے عمران اور قادری کے مطالبات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔
دونوں رہنما جو مطالبات کر رہے ہیں ان میں الیکشن کمیشن کی تشکیل نو، انتخابی نظام کی تشکیل نو، لٹیری کلاس کا احتساب، ماڈل ٹاؤن کے شہدا کی ایف آئی آر، بلدیاتی نظام کا احیا، الیکشن میں دھاندلی کے شرکا کا احتساب، کپتان کا وہ مطالبہ جو متنازعہ بنا ہوا ہے ''نواز شریف کا استعفیٰ'' نواز شریف کے استعفے کے علاوہ باقی تمام مطالبات کو بیشتر سیاستدان درست سمجھتے ہیں۔
قادری صاحب کے ایک مطالبے ''تمام حکومتوں کی تحلیل'' پر بھی حکومت کے اتحادیوں اور جمہوریت کے حمایتیوں کو اعتراض ہے۔ باقی تمام مطالبات انقلابی نہیں جمہوری ہیں اور آئین اور قانون کے عین مطابق بھی ہیں۔ حکمران اقتدار چھوڑنے کو اپنی نہیں جمہوریت کی ناکامی کہہ رہے ہیں اور اقتدار نہ چھوڑنے کا جواز یہ پیش کر رہے ہیں کہ پارلیمنٹ کی 12 جماعتوں میں سے 11 جماعتیں ان کے ساتھ ہیں جس کا مطلب پورا ملک ان کے ساتھ ہے۔
ہماری جمہوری روایات کے مطابق یہ دعویٰ درست ہے لیکن یہ دعویٰ اس حوالے سے درست نہیں ہے جس میں یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس جمہوریت میں انتخابات جعل سازی، جبر، دھوکے، فریب اور دولت کی بنیاد پر جیتے جاتے ہیں جس کی اظہار الیکشن کمیشن کا ایک اہم عہدیدار کر رہا ہے جس کی حیثیت الیکشن کمیشن میں نمبر 2 کی ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہو جائیں تو حکومت کے شریک کاروں کو یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ حکومت مستعفی ہو جائے لیکن ان سارے جمہوریت کے پرستار دیوتا خاموش ہیں۔
اس حوالے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت گئی تو جمہوریت چلی جائے گی ملک تباہ ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ حکومت یا وزیر اعظم کے جانے سے نہ جمہوریت جائے گی نہ ملک جائے گا۔ ہر دور میں حکومت کے قدم سے قدم ملا کر چلنے والے دانشور جن کے منہ ہمیشہ موتیوں سے بھرے رہتے ہیں حکمرانوں سے زیادہ تیز آواز میں جمہوریت کی صدا بلند کر رہے ہیں۔
وہ کنونشن لیگی صحافی اور دانشور جو جمہوریت کے گرد کنٹینروں کی طرح کھڑے ہوئے ہیں کیا انھوں نے جمہوریت کے متعارف کنندگان کی یہ جمہوری تشریح پڑھی ہے کہ جمہوریت کا مطلب ''عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے'' ہے؟ کیا یہ محترم حضرات یہ بتا سکتے ہیں کہ 67 سالوں میں جمہوریت نے عوام کو کیا دیا، عوام کے مسائل کم کیے یا ان میں اضافہ کیا؟ کیا ہماری جمہوریت ''عوام کی حکومت عوام کے لیے'' کے معیار پر پوری اترتی ہے کیا جمہوریت اور ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں؟ اگر یہ اکابرین ایمانداری سے ان سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیار ہوں تو پھر انھیں اس جمہوریت کی حمایت سراسر بددیانتی اور عوام دشمنی نظر آئے گی۔
عمران خان پر ناچ گانے کی سیاست کرنے اور قادری صاحب پر دہری شہریت اور ملکہ کی وفاداری کا حلف اٹھانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ انھیں پاکستان کے جمہوری نظام کو تباہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ پاکستانی اشرافیہ کا نصف حصہ دہری شہریت کا حامل ہو گا اور وہ دھڑلے سے پاکستان کی دولت کو بھی لوٹ رہا ہے اور اقتدار کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔
پاکستان کے 20 کروڑ عوام 67 سالوں سے بھوک، افلاس، بیکاری، غربت، بیماری کے جہنم میں جل رہے ہیں اور خالص پاکستانی قیادت عوام کو اس جہنم میں جلتے دیکھ رہی ہے۔ انھیں اس جہنم سے نکالنے کے بجائے اپنی زندگی کو جنت بنا رہی ہے۔ کیا ایسی افسوس ناک صورتحال میں اگر دہری شہریت رکھنے والا قادری عوام کو اس جہنم سے نکالنے کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے تو اسے ملکہ کا وفادار کہنا درست ہے؟ ہاں قادری ایک جذباتی آدمی ہے وہ جمہوریت کی لڑائی کے پیچھے آئین کو نظر انداز کر رہا ہے لیکن اس کے اخلاص پر شبہ کرنا بددیانتی ہے۔
پاکستان کے عوام کو سب سے زیادہ حیرت اس واویلے پر ہے کہ دھرنوں کی وجہ سے جمہوریت آئین قانون پارلیمنٹ ملک و قوم کو سنگین خطرہ لاحق ہے اور اسی فرضی اور پر فریب خطرے کا نام لے کر حکمراں اور ان کے معزز اتحادی ہر قیمت پر جمہوریت کو بچانے کے لیے میدان میں آ رہے ہیں۔ کیا حکمرانوں کے استعفے سے جمہوریت اور ملک خطرے میں پڑ جائے گا؟ کیا سانحہ ماڈل ٹاؤن میں حکمران مجرم ثابت ہوتے ہیں تو جمہوریت اور ملک خطرے میں پڑ جاتے ہیں؟ کیا موجودہ حکومت چلی جاتی ہے تو آئین ختم ہو جاتا ہے؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا ۔
دھرنے والوں پر کئی الزامات لگائے جا رہے ہیں ہم ان سارے الزامات کو درست مان لیتے ہیں۔ لیکن کیا دھاندلی زدہ انتخابی نظام میں تبدیلی اور اسے اشرافیہ کی جاگیر سے نکالنا جمہوریت دشمنی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن کی تشکیل نو سے آئین کو خطرہ لاحق ہو جائے گا؟ کیا لٹیری کلاس کا کڑا احتساب آئین اور قانون کے خلاف ہے؟
کیا بلدیاتی نظام کے احیا سے ملکی سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی دھرنے والے یہ سارے مطالبات اب تک انتہائی پر امن طریقے سے کر رہے ہیں۔ نہ اس حوالے سے یہ انتہا پسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں نہ ان کے مطالبات انتہا پسندانہ ہیں وہ تو غریب کو روٹی کپڑا مکان تعلیم علاج انصاف دلانا چاہتے ہیں۔ شاعر مشرق ایک اعتدال پسند انسان تھے لیکن وہ یہ کہنے پر کیوں مجبور ہوئے!
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
کیا اقبالؔ تخریب کار تھے۔ انتہا پسند تھے؟ نہیں بلکہ کروڑوں غریب عوام کی بھوک پیاس غربت و افلاس کی انتہا نے اقبال سے یہ کہلوایا ۔ دھرنے والے ابھی اس انتہا پر نہیں گئے ہیں لیکن جا سکتے ہیں ۔