پلیسیبو: جھوٹی دوا کا سچا اثر

ہم کیسے جان سکیں کہ مریض دوا سے ٹھیک ہوا، اپنے یقین سے، یا بیماری خود بہتر ہوگئی؟

پلاسیبو ایفیکٹ (Placebo Effect) دراصل طبی کے بہ جائے ایک نفسیاتی مظہر ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

تصور کرتے ہیں کہ آپ کو کئی دنوں سے سر درد محسوس ہورہا ہے۔ آپ کے دوست ڈاکٹر نے ایک دوا کا نسخہ لکھا، ساتھ فارماسسٹ کو فون کرکے کچھ بتا دیا۔ آپ سے کہا وہاں چلے جاؤ اور دوا کھالو۔ اس دوا سے درد میں آرام آئے گا۔

آپ گولی کھاتے ہیں اور کچھ دیر بعد آپ کے سر کا درد واقعی کم ہونے لگتا ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ چنے کے دال کے پاؤڈر کی ٹیبلٹ تھی، اس میں اور کچھ نہیں تھا، یعنی کوئی درد کم کرنے والی دوا کا جز موجود ہی نہیں تھا۔

یہ فرضی کہانی نہیں۔ سائنسی تحقیقات بار بار بلکہ تقریباً ہر طبی آزمائش میں یہ یاد دلاتی ہے کہ بعض حالات میں ایسی دوا جس میں کوئی مؤثر دوائی جزو نہ بھی ہو مریض کو فائدہ پہنچتا ہے۔ میں اگر یہ کہوں کہ اس مخصوص شخص کا حیاتی جسم اس کا مرض خود صحیح کر رہا تھا یعنی وہ ازخود صحتمند ہو رہا تھا، اسے دوا دیں یا نہ دیں اس نے صحتمند ہونا ہی تھا یا پھر اس کے ذہن میں پوشیدہ امید نے دوا کے احساس کے سہارے جسم کی مدافعتی قوت کو حوصلہ بخشا۔ اب اس نکتے کو کئی بار پڑھیں اور سمجھیں۔ اسے ہی پلیسیبو ایفیکٹ کہا جاتا ہے۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ کبھی اصل دوا کا فائدہ پلیسیبو سے زیادہ ثابت نہیں ہوتا، اور بعض تجربات میں پلیسیبو لینے والوں کی علامات اصل دوا لینے والوں سے بہتر نظر آتی ہیں۔ اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ ایک شخص بے اثر دوا کھاتا ہے مگر سر درد، متلی یا چکر محسوس کرنے لگتا ہے، صرف اس لیے کہ اسے بتایا گیا تھا کہ یہ دوا کا سائیڈ ایفیکٹ ہے۔ اس مظہر کو نوسیبو ایفیکٹ کہتے ہیں۔

کیا انسانی دماغ جسم کو آرام بھی پہنچا سکتا ہے اور تکلیف بھی؟ کیا دوا کا اثر صرف اس کے کیمیائی اجزا سے پیدا ہوتا ہے؟ کیا مریض کا یقین علاج کا حصہ بن سکتا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو ہم کیسے جان سکیں کہ مریض دوا سے ٹھیک ہوا، اپنے یقین سے، یا بیماری خود بہتر ہوگئی؟ یہ سوالات ہماری توجہ کے طلبگار اور جدید طب کی سنجیدہ بحث کا حصہ ہونے چاہئیں۔

آئیے بنیادی فرق کی گرہ کھولتے ہیں تاکہ سمجھنے کی کوشش ہو۔ اگر مریض پلیسیبو کے بعد بہتر ہوجائے تو ضروری نہیں کہ بہتری پلیسیبو کی وجہ سے ہوئی ہو۔ بہت سی بیماریاں وقت کے ساتھ خود بہتر ہوتی ہیں، درد کی شدت بدلتی رہتی ہے اور بعض مریض علاج اس وقت شروع کرتے ہیں جب علامات انتہائی شدید ہوتی ہیں۔ اچھی سائنس صرف یہ نہیں پوچھتی کہ مریض بہتر ہوا یا نہیں، وہ یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ کیوں بہتر ہوا، کتنا بہتر ہوا اور کیا یہی بہتری علاج کے بغیر بھی ممکن تھی۔ یہی فرق سائنسی تحقیق کو عام مشاہدے سے ممتاز کرتا ہے۔

2001 میں نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع تحقیق اور بعد میں ایک بڑے جائزے نے واضح کیا کہ پلیسیبو ہر بیماری میں غیر معمولی فائدہ نہیں پہنچاتا، البتہ درد جیسی محسوس کردہ علامات میں اس کے قابلِ پیمائش اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ گویا پلیسیبو نہ مکمل دھوکا ہے، نہ ہر بیماری کا معجزاتی علاج۔
پارکنسن کی بیماری کے مریضوں پر ایک حیرت انگیز تجربے میں جدید دماغی تصویر میں دیکھا گیا کہ علاج کی توقع کے نتیجے میں دماغ میں ڈوپامین کا اخراج بڑھ گیا، حالانکہ انہیں اصل دوا کے بجائے پلیسیبو دیا گیا تھا۔ گولی میں دوا نہیں تھی مگر دماغ میں قابلِ پیمائش کیمیائی تبدیلی واقع ہوئی۔ یہ دریافت دماغ اور توقع کے تعلق کے بارے میں بتاتی ہے کسی معجزاتی علاج کے بارے میں نہیں۔ درد کے حوالے سے بھی تحقیقات بتاتی ہیں کہ بعض حالات میں پلیسیبو جسم کے اپنے درد کم کرنے والے نظام کو متحرک کرسکتا ہے لیکن یہ اثر ہر شخص یا ہر قسم کے درد میں یکساں نہیں اور اصل دردکش ادویات کا متبادل نہیں۔

سب سے چونکا دینے والی تحقیق گھٹنوں کے آپریشن سے متعلق تھی۔ 2002 کی امریکی تحقیق میں 180 مریضوں کو گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ بعض کی اصل آرتھروسکوپک سرجری ہوئی جبکہ ایک گروہ میں صرف نمائشی طریقہ اختیار کیا گیا تاکہ مریض کو محسوس ہو کہ آپریشن ہوا ہے۔ نتائج میں اصل طریقوں کا فائدہ نمائشی سرجری سے بہتر ثابت نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ گھٹنے کی تمام سرجریاں غیر ضروری ہیں۔ یہ نتیجہ مخصوص حالات سے متعلق تھا لیکن اس نے اہم لازمی سوال ضرور پیدا کیا کہ اگر آپریشن کے بعد مریض بہتر ہوجائے تو ہم کیسے ثابت کریں کہ بہتری واقعی اس دوا سے ہوئی جسے ہم علاج سمجھ رہے تھے؟ یہ سوال ادویات، انجیکشن وغیرہ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

ایک اور دلچسپ خیالی پہلو یہ ہے کہ پلیسیبو صرف اس وقت اثر کرتا ہے جب مریض کو معلوم نہ ہو کہ اسے اصل دوا نہیں دی جارہی۔ 2010 میں کچھ مریضوں پر تحقیق ہوئی جس میں بعض مریض کو صاف بتایا گیا تھا کہ دواؤں میں کوئی فعال دوائی جزو نہیں۔ اس کے باوجود ان میں بعض علامات کے حوالے سے زیادہ بہتری دیکھی گئی۔ تحقیق چھوٹی تھی مگر اس نے سوال اٹھایا کہ اگر مریض جانتا ہے کہ گولی میں دوا نہیں تو اس جاننے کے بعد بھی فائدہ کیوں ہوا؟ کیا دوا لینے کا عمل، ڈاکٹر کی گفتگو، امید اور علاج کا ماحول جسمانی احساسات پر اثر ڈالتے ہیں؟ ابھی ہمارے پاس مکمل جوابات نہیں۔

پلیسیبو کی کہانی کا دوسرا رخ نوسیبو ہے۔ فرض کیجیے مریض کو بتایا جاتا ہے کہ نئی دوا سے سر درد، تھکن یا متلی ہوسکتی ہے۔ کچھ عرصے بعد وہ واقعی ان علامات کی شکایت کرنے لگتا ہے۔ کیا یہ دوا کے مضر اثرات ہیں؟ ممکن ہے کہ یہ بیماری کی اپنی علامات ہوں؟ ویسے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ بیماری منفی توقعات علامات پیدا یا شدید کرسکتی ہیں؟ سائنسی شواہد کے مطابق ایسا بھی ہوسکتا ہے اور نہیں تو کیوں نہیں ہوسکتا؟

2020 کی سمسن ٹرائل نے اس سوال کو دلچسپ انداز میں جانچا۔ اس میں ایسے 60 افراد شامل تھے جنہوں نے پہلے چربی کم کرنے والی دوا اسٹیٹن کو مضر اثرات کی شکایت پر چھوڑ دی تھی۔ مختلف مہینوں میں انہیں اصل اسٹیٹن، پلیسیبو یا کوئی گولی نہیں دی گئی۔ نتائج حیران کن تھے۔ اصل دوا کے دوران علامات کا اوسط اسکور 16.3، پلیسیبو کے دوران 15.4، اور بغیر دوا والے مہینوں میں صرف 8 یعنی بے اثر گولی لینے والے مہینوں میں بھی شکایات تقریباً اصل دوا جتنی تھیں۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسٹیٹن کے تمام مضر اثرات خیالی ہیں لیکن یہ ضرور سکھاتا ہے کہ دوا کے بعد پیدا ہونے والی ہر تکلیف لازماً اس کے کیمیائی اثر کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ اس حقیقت کا تعلق ادویات کے تحفظ سے بھی جوڑا جاسکتا ہے۔

مریض کی شکایت سنجیدگی سے سننی چاہیے مگر ساتھ ہی جانچنا چاہیے کہ سر درد دوا سے پیدا ہوا یا پہلے سے موجود تھا یا توقعات کا کردار تھا۔ نوسیبو کا تصور مریض کی شکایت کو جھٹلانے کے لیے نہیں بلکہ اسے سائنسی انداز میں سمجھنے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ ویسے ڈاکٹر ہو یا فارماسسٹ، مریض کو ممکنہ مضر اثرات بتانے کا پابند ہے، کیونکہ یہ مریض کا حق ہے۔ لیکن بیان کرنے کا انداز بھی مریض کے تجربے پر اثر ڈال سکتا ہے۔ سچی معلومات دینا ضروری ہے مگر انہیں ذمے داری سے اور غیر ضروری خوف پیدا کیے بغیر پیش کرنا بھی اہم ہے۔ اگر پلیسیبو بعض علامات میں فائدہ پہنچا سکتا ہے تو کیا اسے کینسر، ذیابیطس یا انفیکشن کے علاج کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے؟ سائنس کا جواب واضح ہے، پلیسیبو سے سکون ملنا یا درد کم محسوس ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ کینسر کے خلیے ختم ہوگئے یا جراثیم مر گئے۔ علامات میں بہتری اور بیماری کے بنیادی عمل میں بہتری دو مختلف چیزیں ہیں۔ اس فرق کو سمجھے بغیر نظرانداز کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

پلیسیبو اور نوسیبو کی تحقیقات کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ ہم اکثر کہتے ہیں ’’مریض نے دوا کھائی اور ٹھیک ہوگیا‘‘۔ لیکن یہ مکمل سائنسی نتیجہ نہیں۔ ہمیں پوچھنا یہ بھی چاہیے کہ اگر وہ دوا نہ کھاتا تو کیا ہوتا؟ اگر پلیسیبو دیا جاتا تو کیا فرق پڑتا؟ کیا بہتری مستقل تھی؟ کیا بیماری کے بنیادی عمل میں بھی تبدیلی آئی؟ اور کیا ہمارے پاس اتنے اچھے شواہد ہیں کہ ہم بہتری کی اصل وجہ پہچان سکیں؟ انسان صرف ایک کیمیائی مشین نہیں۔ اس کا دماغ، تجربات، خوف، امید اور بیماری کا احساس ایک دوسرے سے جڑے ہیں، لیکن اس حقیقت کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ بھی غلط ہوگا کہ محض مثبت سوچ ہر بیماری کا علاج ہے۔ شاید سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بے اثر جھوٹی دوا بعض حالات میں حقیقی آرام پیدا کرسکتی ہے جبکہ ایک مؤثر دوا کے ساتھ منفی توقعات حقیقی تکلیف میں اضافہ کرسکتی ہیں۔ دونوں باتیں بیک وقت درست ہوسکتی ہیں اور دونوں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ انسانی جسم کے بارے میں ہمارا علم ابھی مکمل نہیں۔ بہت کچھ نامعلوم ہے۔

پلیسیبو کا اصل معجزہ یہ نہیں کہ بے اثر گولی ہر بیماری کا علاج کرسکتی ہے۔ اصل حیرت یہ ہے کہ ایسی گولی بعض حالات میں دماغ اور جسم کے قابلِ پیمائش ردعمل سے وابستہ ہوسکتی ہے اور اس سے بھی بڑی حیرت یہ ہے کہ صدیوں کی طبی ترقی کے باوجود ہمیں ابھی بھی یہ جاننے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے کہ علاج میں کتنا حصہ دوا کا ہے، کتنا مریض کی توقعات کا، کتنا ماحول کا اور کتنا بیماری کے قدرتی سفر کا۔ سائنس کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ وہ حیرت کو معجزہ قرار دے کر خاموش نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے پیچھے حقیقت تلاش کرتی ہے۔

اچھے علاج کی ابتدا بھی یہیں سے ہے کہ مریض کی بات پر توجہ دی جائے، دوا کے بارے میں دیانت داری سے کام لیا جائے، شواہد کی درست تشریح کےلیے علم کے زیر اثر گفتگو کا رواج ہو اور یہ اعتراف کہ ہم بہت کچھ جاننے کے باوجود ابھی بہت کچھ نہیں جانتے۔ شاید ہمیں اندازہ بھی صحیح نہیں کہ ہم کتنا نہیں جانتے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story