استنبول میں موسلادھار بارش سے تباہی، سیلابی پانی میں کرنٹ لگنے سے 14 سالہ لڑکا ہلاک، ٹریفک مفلوج
استنبول: ترکیہ کے شہر استنبول میں موسلادھار بارش نے نظامِ زندگی درہم برہم کردیا، سڑکوں، گھروں اور کاروباری مراکز میں پانی داخل ہوگیا، جبکہ سیلابی پانی میں کرنٹ لگنے سے 14 سالہ لڑکا ہلاک ہوگیا۔
شدید بارش کے باعث شہر میں 1,277 مقامات پر سیلابی صورت حال پیدا ہوئی اور 15 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
ترک میڈیا ادارے ڈیلی صباح کے مطابق بارش کے دوران استنبول کے علاقے فاتح کے محلے بالات میں واقع چوکربوستان پارک کے قریب 14 سالہ لڑکا پانی میں داخل ہوا تو اسے بجلی کا کرنٹ لگ گیا۔ حکام کے مطابق لڑکے کی شناخت صرف ابتدائی حروف ایم آئی سے ظاہر کی گئی ہے۔
🆘İstanbul Esenler’de can pazarı ‼️Davut Gül @istanbul_vali_ bir gün önceden neden uyarılmadı halk⁉️Okullar kapatılmadı⁉️ #istanbultrafiği #yağmur https://t.co/6AdPx2F0AQ pic.twitter.com/KwS0hiTm2O
— UzayMekanİnsan (@ku_ayd) October 14, 2026
لڑکے کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکا۔ استنبول کے گورنر آفس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔
استنبول کے گورنر آفس کے مطابق بارش سے متعلق ہنگامی اداروں کو مجموعی طور پر 2,518 اطلاعات موصول ہوئیں۔ شہر میں 1,277 مقامات پر سیلابی صورت حال، 15 لینڈ سلائیڈنگ، 47 افراد کے پھنسنے، 13 درخت گرنے اور دو چھتوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات سامنے آئے۔
🚨 SONDAKİKA
— BTX HABER (@Habergundemi_i) October 14, 2026
İstanbul Ayazağa'da meydana gelen selde 1 kişi hayatını kaybetti.#yağmur #istanbultrafiği pic.twitter.com/P7Dt5vGSmT
شدید موسم سے 808 گھروں، 280 کاروباری مراکز اور 76 گاڑیوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
سب سے زیادہ بارش استنبول کے ایشیائی حصے میں واقع ضلع بی کوز کے علاقے اومرلی میں ریکارڈ کی گئی، جہاں بارش کی مقدار 193.84 ملی میٹر رہی۔ ارناووت کوئے میں 125.9 ملی میٹر، سریئر کے آئی ٹی یو مسلک علاقے میں 124.72 ملی میٹر اور چاتالجا میں 75.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
🔴 Sarıyer'de durum çok ciddi.#yağmur #SONDAKİKA #istanbultrafiği #sağanak pic.twitter.com/IVH7li37P4
— Celal Çiftçi (@Celalciftcitr) October 14, 2026
حکام نے محکمہ موسمیات کی پیشگی وارننگ کے بعد ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے علاقائی دفتر میں ہنگامی رابطہ مرکز قائم کردیا۔ سیلابی پانی نکالنے اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے تقریباً 8 ہزار اہلکار، 2 ہزار گاڑیاں اور تعمیراتی مشینیں تعینات کی گئیں۔
بارش کے باعث شہر میں ٹریفک کا دباؤ تقریباً 90 فیصد تک پہنچ گیا، جس سے اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی مسافروں کا رش بڑھ گیا۔
#İstanbul
— 🇵🇸Ebuzer Gibi 🇵🇸 (@esilacan001) October 14, 2026
Çok Geçmiş Olsun..
Rabbim Afetinden Esirgesin..🤲#yağmur#istanbultrafiği#Sel pic.twitter.com/ZwpTPtPMUp
مزید بارش کے خدشے کے پیش نظر حکام نے جمعرات کو استنبول بھر میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کردیں، جبکہ خطرناک سڑکوں کے پیش نظر موٹر سائیکلوں کی آمدورفت پر بھی پابندی عائد کی گئی۔
استنبول کے گورنر داؤت گل نے شہریوں، خصوصاً شہر کے ایشیائی حصے میں رہنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔
Sarıyer Ayazağa Semti.
— Şükrü SARAL (@sukrusarall) October 14, 2026
Çok Elim Görüntüler, iyi mi yaptık acaba Ekrem İmamoğlu'nu getirmekle
"Yazık Oldu İstanbul'a"
Kadir Topbaş Aile Sağlığı Merkezlerinde AFAD Demet Özdemir #yağmur Fen Bilimleri Kronik İETT #istanbultrafiği pic.twitter.com/8a46OKg2SK
گورنر آفس کے مطابق بارش کے باوجود کوئی سڑک بند نہیں رہی اور ہوائی اڈوں کے رن وے معمول کے مطابق کام کرتے رہے۔ پروازیں منسوخ ہونے کی بھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ حکام نے بتایا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور صورت حال کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔