ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف بیریئر توڑنے کے کیس کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری

عدالت نے استغاثہ کے گواہوں اور وکلاء کو آئندہ سماعت پر اڈیالہ جیل میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی

ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف بیریئر توڑنے کے کیس کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔آئندہ سماعت اڈیالہ جیل میں ہوگی۔ انسداددہشت گردی عدالت نے استغاثہ کے گواہوں اور وکلاء کو آئندہ سماعت پر اڈیالہ جیل میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

نسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے بیریئر ہٹانے کے کیس کی سماعت کی۔ عدالت اس دوران ملزمان کو پیش نہ کرنے پر پولیس حکام سے جواب طلب کیا پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے جیل ٹرائل کی استدعا کی جبکہ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیسے چل سکتا ہے۔

عدالت نے ایس پی ہیڈ کوارٹر پری گل کو طلب کیا، بعدازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے ۔عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وکلا اور گواہان کو اڈیالہ جیل میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

چیف کمشنر آفس نے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔  دوران سماعت کے وکلا صفائی ایمل خان مندوخیل نے ملاقات سے متعلق اپنا بیان حلفی جمع کرایا جس میں اڈیالہ جیل میں ملزمان سے ملاقات کے انتظامات اور درپیش مشکلات کی تفصیلات بیان کی گئیں۔

بیان حلفی کے مطابق ایمل خان مندوخیل کو عدالتی حکم کی مصدقہ نقل دوپہر 2 بج کر 52 منٹ پر موصول ہوئی جس کے بعد وہ سہ پہر 3 بج کر 50 منٹ پر سینٹرل جیل اڈیالہ پہنچے۔ انہوں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو عدالتی حکم دکھا کر پاکستان پریزن رولز 1978 اور عدالت کی ہدایت کے مطابق علیحدگی میں ملاقات کی درخواست کی۔

ایمل خان مندوخیل کے مطابق انہیں تقریباً ایک گھنٹے کے انتظار کے بعد شام 4 بج کر 45 منٹ پر ملاقات کی اجازت دی گئی، تاہم ملاقات الگ کمرے کے بجائے کانفرنس روم میں کرائی گئی، جہاں ان کے بقول گفتگو کی رازداری برقرار نہیں تھی اور ہر چیز ریکارڈ ہو رہی تھی۔

بیان حلفی میں کہا گیا کہ وکیل اپنے مؤکلوں کو دینے کے لیے مقدمے کے کاغذات کی نقول ساتھ لے کر گئے تھے، لیکن انہیں دستاویزات اندر لے جانے یا ملزمان کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق ایمان مزاری کے ساتھ دو خواتین کانسٹیبلز موجود رہیں، دروازہ کھلا رکھا گیا جبکہ مرد اہلکار باہر کھڑے تھے اور جیل عملہ گفتگو سن رہا تھا۔

ایمل خان مندوخیل نے بیان حلفی میں مزید کہا کہ ملاقات شام 5 بج کر 10 منٹ تک جاری رہی اور اس دوران ان کے مؤکلوں نے واضح کیا کہ وہ ٹرائل کا بائیکاٹ نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں کیونکہ ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کے دوران آڈیو اور انٹرنیٹ کے مسائل کے باعث وہ عدالتی کارروائی سمجھنے اور اپنے وکلا سے مشاورت کرنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔

بیان حلفی کے مطابق ملزمان نے انہیں عدالتی احکامات کو چیلنج کرنے کی ہدایت بھی کی ۔ وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ ایمل خان مندوخیل کو ملاقات کے دوران مقدمے کا ریکارڈ ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایمل مندوخیل کا کہنا تھا کہ ملاقات تو ہوئی، لیکن مقدمے کے حوالے سے مؤثر گفتگو نہیں ہو سکی۔

اس موقع پر جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ بتائیں آپ کس طرح کا ماحول چاہتے ہیں۔ انہوں نے جیل حکام سے ملزمان کو عدالت میں پیش نہ کرنے کی وجوہات دریافت کرتے ہوئے کہا کہ جیل حکام کی کوئی رپورٹ آئی ہے؟ اگر رپورٹ نہیں آتی تو ایس ایس پی کو طلب کریں۔

عدالتی حکم پر ایس پی ہیڈ کوارٹر پری گل عدالت میں پیش ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی زیادہ نفری اس وقت خیبر پختونخوا میں تعینات ہے اور اس وقت ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے۔ ایس پی نے تجویز دی کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کا جیل ٹرائل کر لیا جائے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ایس پی آفس نے جیل ٹرائل کے لیے درخواست لکھی ہے، تاہم اس پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ایس پی پری گل نے پیش رفت سے متعلق آگاہ کرنے کے لیے دو سے تین گھنٹے کی مہلت طلب کی جبکہ ریاست علی آزاد نے عدالت سے استدعا کی کہ اس معاملے میں ایک تاریخ مقرر کر دی جائے۔

جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ وہ کئی روز سے مسلسل ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں، لیکن پولیس نے آج جو کیا، وہ پہلے دن ہی کر لیتی۔

انہوں نے پولیس کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پولیس کر کیا رہی ہے اور اس نے تو معاملے کا رخ ہی بدل دیا ہے۔ ریاست علی آزاد نے کہا کہ پولیس روزانہ ملزمان کو عدالت میں پیش کرتی ہے اور ایمان مزاری و ہادی علی چٹھہ دہشت گرد نہیں کہ انہیں عدالت لانے کے لیے ایسے مسائل ہوں، وہ تانگے پر بھی آ سکتے ہیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کی موجودگی کے بغیر ٹرائل کیسے چل سکتا ہے۔ وکیل نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ کارروائی ریکارڈ نہ کی جائے۔

اس موقع پر ایمان مزاری کی والدہ شیریں مزاری نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ پولیس حکام سے پوچھا جائے کہ رات دس بجے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو عدالت کیسے لایا گیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب دونوں کو پیش کیا گیا تھا تو اس وقت 12 گاڑیاں کیسے پہنچ گئی تھیں۔

بعدازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ جج طاہر عباس سپرا نے انہیں عدالتی کارروائی کے حوالے سے آگاہ کیا۔ ایس پی پری گل نے بتایا کہ جیل ٹرائل کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن آج جاری ہو جائے گا۔

ہادی علی چٹھہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ذاتی حیثیت میں پیش کیے جانے یا جیل ٹرائل، دونوں صورتوں پر اعتراض نہیں، تاہم جیل میں وکلا اور صحافیوں کی موجودگی بھی ہونی چاہیے۔ ۔ چہف کمشنر آفس نے کیس کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

عدالت نے کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وکلا اور گواہان کو اڈیالہ جیل میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف بیریئر ہٹانے کے معاملے پر تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج ہے۔

Load Next Story