گھریلو کام کاج مجھے مرد وزرائے اعظم سے زیادہ مصروف رکھتے ہیں، جاپانی وزیراعظم

جاپانی وزیراعظم خود کو ورک ہالک قرار دے چکی ہیں

جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی  نے کہا ہے کہ گھریلو کام کاج مجھے مرد وزرائے اعظم سے زیادہ مصروف رکھتے ہیں.

جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ گھریلو کام کاج بھی ان کے روزمرہ معمول کا حصہ ہیں، جس کی وجہ سے انہیں اپنے سابق مرد وزرائے اعظم کے مقابلے میں روزانہ تقریباً 3 سے 4 گھنٹے اضافی مصروف رہنا پڑتا ہے۔

تاکائیچی نے بتایا کہ وہ صبح اٹھ کر ناشتہ تیار کرتی ہیں، برتن دھوتی ہیں اور تیار ہونے کے دیگر کام بھی خود کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام ذمہ داریوں کے باعث پہلے ہی انتہائی مصروف شیڈول میں مزید وقت صرف ہوجاتا ہے۔ 

جاپانی وزیراعظم خود کو ورک ہالک قرار دے چکی ہیں۔ ان کے مطابق وہ بعض اوقات روزانہ صرف 2 سے 4 گھنٹے سوتی ہیں اور ماضی میں رات 3 بجے بھی عملے کے ساتھ اجلاس یا کام کرنے کا ذکر کر چکی ہیں

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکاری کام کی فائلیں گھر لے جانے کے بعد انہیں رات گئے تک پڑھنا پڑتا ہے۔ نتیجتاً ملک کی مستقبل کی پالیسی اور بڑے قومی فیصلوں پر پرسکون اور واضح ذہن کے ساتھ غور کرنے کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ 

یہ گفتگو اس وقت سامنے آئی جب پارلیمنٹ میں وزیراعظم کی طویل مصروفیات اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کے طریقہ کار پر بحث ہوئی۔ ایک رکن نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2022 میں جاپانی وزیراعظم نے 72 دن پارلیمانی اجلاسوں میں گزارے، جبکہ برطانیہ میں یہ تعداد 50 اور جرمنی میں 13 دن تھی۔

Load Next Story