ڈبل ذیابیطس کیا ہے؟ انسولین کی مزاحمت سے پیچیدگیوں کا خطرہ کیسے بڑھتا ہے؟
ٹائپ 1 ذیابیطس کے بعض مریضوں میں وقت کے ساتھ ایسی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے جس میں جسم انسولین کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کرپاتا۔ اسے عام گفتگو میں ’ڈبل ذیابیطس‘ کہا جاتا ہے۔
یہ باقاعدہ طبی تشخیص کی اصطلاح نہیں، بلکہ عموماً ٹائپ 1 ذیابیطس کے ساتھ انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے کی کیفیت بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس صورت میں خون میں شکر کو قابو میں رکھنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
ٹائپ 1 ذیابیطس میں جسم کا مدافعتی نظام لبلبے کے ان خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے جو انسولین بناتے ہیں، جبکہ انسولین کے خلاف مزاحمت میں جسم کے خلیے اس ہارمون کو درست انداز میں استعمال نہیں کرپاتے۔ خون میں شکر کی سطح مسلسل بلند رہنے سے دل، آنکھوں، اعصاب اور گردوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ابتدائی علامات کیا ہوسکتی ہیں؟
اس کیفیت میں خون میں شکر کا مسلسل زیادہ رہنا، تھکاوٹ، بار بار پیاس لگنا، پیشاب کی کثرت اور شکر کو قابو میں رکھنے میں دشواری جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔ تاہم، ان علامات کی دوسری وجوہات بھی ممکن ہیں، اس لیے صرف ان کی بنیاد پر تشخیص نہیں کی جاسکتی۔
قے، پیٹ میں درد، تیز یا گہری سانسیں، ذہنی الجھن اور غیر معمولی غنودگی زیادہ سنگین پیچیدگی، خصوصاً ذیابیطس کیٹوایسیڈوسس، کی نشانیاں ہوسکتی ہیں۔ ایسی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
کن افراد میں انسولین کے خلاف مزاحمت کا امکان بڑھ سکتا ہے؟
پیٹ کے گرد چربی زیادہ ہونا، جسمانی سرگرمی کی کمی، غیر متوازن غذا اور خاندان میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی تاریخ انسولین کے خلاف مزاحمت کے خطرے سے وابستہ عوامل ہیں۔ تاہم، یہ کیفیت صرف زیادہ وزن والے افراد تک محدود نہیں؛ دبلے افراد میں بھی انسولین کی مزاحمت پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کی وجہ محض چینی کا زیادہ استعمال بھی نہیں ہوتی، بلکہ متعدد عوامل اس میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
جسم پر ممکنہ اثرات
خون میں شکر کی مسلسل زیادتی دل کے دورے اور فالج کے خطرے میں اضافہ کرسکتی ہے۔ آنکھوں کی باریک رگوں کو نقصان پہنچنے سے بینائی متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ اعصاب متاثر ہونے کی صورت میں ہاتھوں اور پیروں میں درد، جلن یا سن ہونے جیسی شکایات پیدا ہوسکتی ہیں۔
گردوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں گردوں کے نقصان کی واضح علامات ضروری نہیں کہ سامنے آئیں، لیکن پیشاب میں پروٹین کی موجودگی اور گردوں کی کارکردگی میں کمی اس کی نشانیاں ہوسکتی ہیں۔ شدید صورتوں میں ڈائلیسس یا گردے کی پیوندکاری کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے کیا کیا جائے؟
متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور مناسب وزن برقرار رکھنے سے صحت کو بہتر بنانے اور بعض خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ خون میں شکر کے ساتھ فشارِ خون اور کولیسٹرول کی نگرانی بھی ضروری ہے، جبکہ تمباکو نوشی سے اجتناب کرنا چاہیے۔
ذیابیطس کے مریضوں کو ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق آنکھوں، پاؤں اور گردوں کے باقاعدہ معائنے کروانے چاہییں، کیونکہ بعض پیچیدگیاں ابتدائی مرحلے میں واضح علامات کے بغیر بھی بڑھ سکتی ہیں۔ ورزش کے دوران خون میں شکر کم ہونے کے خدشے سے نمٹنے کے لیے بھی معالج کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔
اہم بات: ٹائپ 1 ذیابیطس کے علاج میں انسولین بنیادی ضرورت ہے۔ اگر خون میں شکر مسلسل زیادہ رہے یا اسے قابو کرنا مشکل ہوجائے تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ انسولین کی مقدار خود سے کم یا زیادہ نہ کریں۔