اس کا کیا کریں؟
barq@email.com
اگر ہم بولنا اور جھوٹ سننا بلکہ لکھنا اور پڑھنا بھی چھوڑ دیں تو اس وقت ہمارا یہ معاشرہ۔مملکت خداداد پاکستان کا معاشرہ جس کے لیے ہم نے قربانیاں دی ہوئی ہیں لاکھوں جان کی۔اس امید پر کہ ہم ایک آزاد خودمختار ،دیانت دار، امانت دار اور ایک مکمل طور پر صالح معاشرہ پالیںگے لیکن جو معاشرہ ملا وہ کرپشن میں سر تا پا شرابور۔قدم قدم پر جھوٹ، فریب اور حرام خوری سے بھرا ہوا ہے۔حرام وحلال صرف ہاتھ آنے تک ہے لیکن اس سے بھی زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کی اصلاح کی کوئی امید بھی نہیں رہی ہے۔ ؎
ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر
آرزو کی آرزو ہونے لگی
اصلاح کرے گا بھی تو کون اور کیسے؟ کوئی ایسا بچا ہے کیا؟۔کوئی چور کسی چور کو نہیں پکڑتا،سب کے سب چچیرے،موشیرے اور صمیرے بھائی نکلے ہیں۔تم بھی چوم لو مجھے بھی چومنے دو، بات صرف اونچے مقامات تک نہیں رہی یہ’’کرونا‘‘ سیڑھی سیڑھی اترتے ہوئے گراؤنڈ فلور۔اور سرو چنار سے گھاس پھوس تک آپہنچی ہے۔ایک مزدور بھی دیکھتا ہے کہ کب کب کہاں کہاں اور کیسی کیسی کام چوری اور چوری میں کرسکتا ہوں۔پیٹرول پمپ کا مالک بلکہ آئل کمپنیاں ہی چور نہیں بلکہ ٹرانسپورٹر،ڈرائیور کلینر اڈے والا،ہوٹل والا پولیس والا اور مستری تک چور ہیں یہاں تک کہ پالش والا مالش والا بھی موقع کی تاک میں رہتا ہے علم وتعلیم چاہے سرکاری ہو پرائیویٹ اردو ہو انگلش ہو چور ہی چور بیٹھے ہوئے ہیں، دینی تعلیم کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ وہ تو چندے کا دھندہ کرتے ہیں اور ثمناً قلیلا ہرگز نہیں کہتے۔کہاں جائیں کہ ایں خانہ ہمہ آفتاب است جس دین کو ایک یتیم و یسیر بے سہارا دوسروں کی سرپرستی میں جینے والا تجارتی قافلوں کے ساتھ مزدوری پر جانے والا گراس روٹ سے شروع کرکے بام عروج تک لے جاتا ہے آج اس کے داعی اور نام لیوا کہتے ہیں ہمیں تخت دو پھر ہم دین نافذ کریں گے اور جب تک تحت اور کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں تو آئیں بائیں شائیں۔کہاں تک رونا روئیں، کوئی جگہ بچی ہی نہیں جہاں جاکر روئیں، سبب بھی ظاہرہے
چوں کفر از کعبہ برائد
کجا ماند مسلمانی
سیدھی سادی سی کھلم کھلا اور سامنے کی حقیقت ہے کہ جب کسی پیڑ کی جڑیں، پتی گل سڑ جائیں توا س کی شاخیں اور پتے کیسے سلامت رہ سکتے ہیں۔ عوام تو حکمرانوں کے تابع ہوتے ہیں وہ جب اپنے حکمرانوں، اپنے رہنماؤں اور بزرگوں کو کوئی کام کرتا دیکھتے ہیں تو اسے اچھا سمجھ کر کرتے ہیں
الناس علیٰ دین ملوکھم
عوام حکمرانوں کے ’’دین‘‘ پر ہوتے ہیں اور حکمرانوں کا ’’دین‘‘ کیا ہے؟یہ کس کو معلوم نہیں۔ کسی بھی محکمے، کسی بھی ادارے کیسی بھی جگہ پر ایسی کوئی جگہ باقی بچی جہاں کھلم کھلا کرپشن کا بازار گرم نہیں۔ جب وہ کروڑوں اربوں کے مالک ہوکر بھی صرف کرپشن کو اپنا’’کام‘‘ سمجھ کر کرتے ہیں تو مہنگائی بیروز گاری اور غربت کے مارے یہ کیوں نہ کریں۔ میرا ایک بڑا لائق و فائق اور بین الاقوامی دانا دانشور دوست ہے جو کریمنالوجی کا ماہر ہے اور دنیا بھر میں کہیں ’’کرائم‘‘ پر کوئی سیمینار یا کانفرنس ہوتی ہے اس میں بلایا جاتا ہے، کریمنالوجی پر ایک بین الاقوامی مجلہ بھی ہے۔میں نے ایک دن اس سے کہا فلسفے اور دانشوریاں چھوڑ دو۔صرف’’ حکومتوں‘‘کو سدھار لو جرائم کا نام ونشان تک باقی نہیں رہے گا۔
لیکن یہ اس کے بس میں ہے اور نہ کسی اور کے بس میں۔میں اکثر اس کالم میں ایک مشہور لطیفہ بیان کرتا ہوں کہ ایک شخص ایک ملاجی کے پاس آکر بولا کہ میرے کنوئیں میں کتا گرگیا ہے اب کنوئیں کو صاٖ ف کرنے کے لیے کتنے ڈول پانی نکالوں۔ اکثر کنوئیں ایسے ہوتے ہیں جن کو ’’دریابی‘‘ کہتے ہیں، ان کو مکمل طور خالی کرنا ممکن نہیں ہوتا، چنانچہ علما ء نے صورت حال کے مطابق ڈولوں کی تعداد مقرر کر رکھی ہے چنانچہ ملاجی نے اس شخص کو دوسو ڈول پانی نکالنے کا کہا۔ وہ شخص چلاگیا کافی دیر بعد آکر بولا کہ دوسو ڈول پانی نکال لیا ہے اب کنواں صاف ہوگیا ناں۔ملاجی نے کہا ہاں صاف ہوگیا۔وہ شخص جاتے ہوئے پلٹ کر بولا۔اور ملاجی اس کتے کا کیا کروں؟ ملاجی نے کہا کونسے کتے کا بولا وہ جو کنوئیں کی تہہ میں پڑا ہے۔