کیا ہی اچھا ہوتا اگر کوئی حل نکل آتا
gfhlb169@gmail.com
گیارہ اکتوبر2026کو بظاہر ہر حوالے سے قانونی اور آئینی اقدامات کے ذریعے خیبر پختون خوا کی منتخب حکومت کومعطل کر کے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232کے تحت ایمرجنسی،آرٹیکل234کے تحت گورنر راج اور آرٹیکل245کے تحت صوبے میں فوج تعینات کرنے کے حکم نامے جاری ہوئے۔ایمرجنسی کی مدت کوئی بھی ہو سکتی ہے جب کہ گورنر راج زیادہ سے زیادہ 6ماہ چل سکتا ہے۔
یہ سب کچھ 11اکتوبر کو محض چند گھنٹوں میں ہوا لیکن پچھلے کم از کم دو ماہ سے حالات ان اقدامات کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔صوبہ کے پی کے، کے وزیرِ اعلیٰ جناب سہیل آفریدی محسوس کر رہے تھے کہ سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ایسا ہونا ممکن ہے لیکن پاکستان سے باہر بیٹھے بظاہر پی ٹی آئی ہمدرد وی لاگرز اور پاکستان کے اندر پی ٹی آئی میڈیا ان پر یہ کہہ کر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ جناب بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے زور نہیں لگا رہے اور یہ کہ وزیرِ اعلیٰ کو انتہائی اقدامات اٹھاتے ہوئے لانگ مارچ اور اسلام آباد میں دھرنا دینا چاہیئے۔
باتیں بنانے والوں کا تو کچھ نہیں جاتا لیکن میدان میں اترنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا باتیں بنانا۔ جناب سہیل آفریدی نوجوان ہیں اور انھیں بانی پی ٹی آئی سے بہت لگاؤ ہے۔وہ کئی مرتبہ اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ کر احتجاج کر چکے تھے لیکن کبھی بھی ان کے ساتھ اتنے کارکن جمع نہیں ہوئے کہ وہ فرق ڈال سکیں۔ انھی تجربات کی بنیاد پر انھیں شاید اندازہ تھا کہ عوام کے جس 20لاکھ سونامی کا وہ اور ان کی ٹیم دعویٰ کر رہی ہے،وہ جمع کرنا بہت مشکل ہو گا۔دباؤ میں آ کر انھوں نے بہر حال چار و ناچار لانگ مارچ کا قدم اُٹھا لیا۔
مقتدرہ اور وفاقی حکومت لانگ مارچ کو راستہ دینے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی۔آخری کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ واضح تھا۔ وفاقی حکومت کہہ رہی تھی کہ لانگ مارچ کو کسی قیمت اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ صحیح ہے کہ اس سے معیشت کو ہی نہیں نقصان پہنچتا بلکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بھی مخدوش ہو جاتی ہے۔کوششیں ہوئیں کہ کوئی حل نکل سکے۔ایک راستہ نکلا تھا جب سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ایک ریلیف دیا اور حکم جاری کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو اسلام آباد کے مشہور نجی اسپتال الشفاء انٹرنیشنل منتقل کر کے علاج معالجے کی سہولت مہیا کی جائے۔
وفاقی حکومت نے اس حکم نامے پر من و عن عمل تو نہیں کیا البتہ انھیں رات کو جیل سے پمز اسپتال لائی جہاں اچھے اور قابل ڈاکٹروں کے علاوہ بانی پی ٹی آئی کی بہن بھی موجود تھیں۔پمز اسپتال میں معائنہ اور علاج کے بعد بانی کو واپس جیل پہنچا دیا گیا۔ان کی بہن نے معائنے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ جناب عمران خان کی صحت اچھی ہے۔یہ امر سپریم کورٹ کے دیکھنے کا ہے کہ آیا وفاقی حکومت نے اس کے حکمنامے پر پورا عمل درآمد کیا یا نہیں۔پی ٹی آئی قیادت اس بات پر مصر ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی contemptہوئی۔
ادھر لانگ مارچ کی تاریخ یعنی 27ستمبر قریب آ لگی تھی۔ایسے میں وزیرِ داخلہ نقوی نے حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان ڈائیلاگ کی کوشش کی جو کسی حد تک بار آور ہوئی۔اسپیکر قومی اسمبلی کی موجودگی میں فریقین کے درمیان کئی گھنٹوں پر محیط طویل مذاکرات ہوئے۔پوری قوم اچھے نتیجے کی منتظر تھی۔رات کو جب لوگ سونے کے لیے گئے تو خبر گرم تھی کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔لوگوں نے اس خبر پر اطمینان کا سانس لیا لیکن اگلی صبح معلوم ہوا کہ صبح دو اڑھائی بجے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں ڈیڈ لاک آ گیا۔اعلامیے کے ایک سے زیادہ مسودے تیار ہوئے لیکن بات نہ بنی اور مذاکرات کامیابی سے ناکامی کی طرف چلے گئے، جناب سہیل آفریدی اگر خود مذاکرات میں موجود ہوتے تو شاید ایسا نہ ہوتا۔دوری اور میڈیا دباؤ نقصان دہ ثابت ہوئے۔
جناب سہیل آفریدی نے 27ستمبر کو لانگ مارچ شروع کرنا تھا لیکن بوجوہ اسے 4اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا۔اس دوران ان کا لہجہ بہت سخت رہا اور کیوں نہ ہو،ایک تو وہ ٹھہرے نوجوان اور سابقہ اسٹوڈنٹ لیڈر اور دوسرا ان پر کچھ کر دکھانے کا دباؤ تھا۔4اکتوبر کی شام وہ لکی مروت پہنچے تاکہ وہاں سے لانگ مارچ شروع کر سکیں۔ہفتہ بھر لانگ مارچ صوبے کے اندر ہی پھرتا رہا۔اس دوران فریقین کے مابین ملاقاتٰوں اور مفاہمت کی کوششیں جاری رہیں۔مولانا فضل الرحمٰن جو کہ عمر ہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں تھے،ان کا بھی پاکستان میں رابطہ ہوا۔انھوں نے واپس پاکستان پہنچ کر فریقین کے مابین مصالحت کا ڈول ڈالا۔ فضل الرحمٰن ایک زیرک اور ہوشیار سیاستدان ہیں۔امید بندھی کہ ان کے درمیان میں آنے سے کوئی حل نکل آئے گا۔انھوں نے وزیرِ اعظم سے ملاقات کی اور پی ٹی آئی قیادت سے بھی بات کی۔
گیارہ اکتوبر کی صبح تک یہ بات چیت جاری تھی۔گیارہ اکتوبر کو جب وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہوا تو جناب اسحاق ڈار نے مولانا کو فون کرکے بتایا کہ کابینہ اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا کی ابتر امن و امان کی وجہ سے وہاں ایمرجنسی جیسے اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔وفاقی حکومت کی رائے میں صوبے کے اندر دہشت گردی بہت بڑھ گئی ہے۔افغانستان سے دراندازی روزانہ کا معمول بن گیا ہے۔فوج اور پولیس نشانہ بن رہی ہے۔روزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں۔ سویلین بھی شہید ہو رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے تحت آپریشن بھی نہیں کرنے دیتی، دہشت گردی کی نہ تو مذمت کرتی ہے اور نہ ہی شہدا کے جنازوں میں شریک ہوتی ہے۔حکومتی اتحاد کے خیال میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی موجودگی میں کے پی کے میں بگڑے حالات کو درست نہیں کیا جا سکتا۔
پی ٹی آئی کوئی 13سال سے صوبہ میں حکومت میں ہے۔یہ منتخب ہو کر حکومت میں آئی ہے اور اسے صوبے کے عوام کی اکثریت کا مینڈیٹ حاصل ہے۔ پی ٹی آئی بہت مقبول سیاسی جماعت ہے اور اس کے بانی عمر رسیدہ ہو جانے کے باوجود لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کے پی کے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔صوبائی حکومت حالات کو بہتر کرنے کے لیے ضرور زور لگا رہی ہوگی لیکن بظاہر بہتری نظر نہیں آ رہی۔وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت شرپسندی اور دہشتگردی کی روک تھام کے لیے پوری تندہی سے کام نہیں کر رہی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبے کے کچھ اضلاع میں تھانوںکو طالبان دہشت گردوں کے حوالے کرکے حکومت کی رٹ ختم کر دی گئی ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ وہ اپنے علاقے ڈی آئی خان میں دہشت گردوں کو بھتہ دینے پر مجبور ہیں۔ حالات کی بہتری ازبس ضروری ہے۔عوام کو تحفظ فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے۔معیشت بھی اسی وقت پنپتی ہے جب امن و امان ہو اور تجارت و کاروبار کے لیےEnabling environment ہو۔اس کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں قدم سے قدم ملا کر چلیں۔
صوبائی حکومت بہت اچھا کر رہی تھی کہ وہ تو ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی ایک طرف ہو گئی۔عین اسی لمحے سے وفاقی حکومت اور نئی صوبائی انتظامیہ کا امتحان شروع ہو گیا ہے۔ان کے اوپر بہت بھاری ذمے داری آن پڑی ہے۔ایمرجنسی اور گورنر راج سے اور کسی کو فائدہ ہو نہ ہو لیکن جناب فیصل کریم کنڈی کو چونکہ صوبائی حکومت کے تمام اختیارات تفویض ہو گئے ہیں اور ان کے اوپر صوبائی اسمبلی کو ساتھ لے کر چلنے کا بوجھ بھی نہیں،اس لیے ان کی ذات میں اختیارات کا ارتکاز ہو گیا ہے۔ لیکن کسی بھی ناکامی کا نزلہ وفاقی حکومت پر پڑے گا۔تین صوبوں میں پی پی پی کی حکومت ہے۔
پی ٹی آئی کو یہ مشکل وقت اپنی صفوں میں دراڑیں پُر کرنے،اپنی کارکردگی پر نگاہ ڈالنے اور آیندہ کے کامیاب لائحہ عمل کے لیے صرف کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی اپنا کڑا احتساب بھی کرنا ہوگا تاکہ آنے والے وقت میں بہتر پرفارم کر سکے۔پی ٹی آئی قیادت کو حالات کی سنگینی سے نبردآزما ہونے کی حکمتِ عملی تیار کرکے اسے عوام کے سامنے رکھنا ہوگا تاکہ عوام ان کے ساتھ جڑے رہیں۔جو کچھ ہوا کاش ایسا نہ ہوا ہوتا اور فریقین کسی لائحہ عمل پر متفق ہوجاتے اور جمہوریت کی گاڑی چلتی رہتی۔بہر حال اب وفاق کو کامیاب ہو کر دکھانا ہے۔وفاق کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ بہترین کارکردگی دکھائیں اور نئے سرے سے مذاکرات کریں۔خدا کرے صوبے کو امن اور خوشحالی نصیب ہو۔آمین۔