رومانیہ کے قریب دو بحری جہازوں پر ڈرون حملے، 7 ملاح لاپتا، جہازوں میں آگ لگ گئی

واقعے کے بعد خطے میں تجارتی جہاز رانی اور بحری سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں

بحیرہ اسود میں رومانیہ کے ساحل کے قریب دو کیمیائی مادوں اور تیل کی ترسیل کرنے والے بحری جہازوں پر ڈرون حملوں کے بعد سات ملاح لاپتا ہوگئے، جبکہ دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

واقعے کے بعد خطے میں تجارتی جہاز رانی اور بحری سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق رومانیہ کے صدر نیکوشور دان نے تصدیق کی کہ دونوں جہازوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، تاہم انہوں نے حملوں کا ذمہ دار روس کو قرار دینے سے گریز کیا۔ دوسری جانب نیٹو کے ایک فوجی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ جہازوں پر حملہ کرنے والے ڈرون روسی ساخت یا روسی نوعیت کے تھے۔

رومانیہ کے حکام کے مطابق سان مارینو کے پرچم تلے چلنے والے جہاز ’’وائن ٹریڈر‘‘ پر 12 ملاح سوار تھے۔ یہ جہاز سولینا نہر سے تقریباً 13 بحری میل جنوب مشرق میں، رومانیہ کی سمندری حدود سے باہر ڈرون حملے کا نشانہ بنا۔ اس کے عملے کے پانچ افراد کو بچا لیا گیا، تاہم سات ملاح لاپتا ہیں۔

دوسرا جہاز ’’یارا جے‘‘ کوموروس کے پرچم تلے چل رہا تھا۔ اسے بدھ کی رات سولینا کے جنوب مشرق میں رومانیہ کی سمندری حدود کے اندر نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ حکام کے مطابق اس جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے۔

لاپتا ملاحوں کی تلاش کے لیے رومانیہ نے دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور طبی عملے کے ساتھ دو بحری جہاز روانہ کیے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں شدید لہروں کے باعث امدادی کارروائی فوری طور پر محفوظ طریقے سے انجام دینا مشکل ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران رومانیہ اور نیٹو کے رکن ملک بلغاریہ کے ساحلوں کے قریب کم از کم پانچ دیگر مال بردار جہاز بھی حملوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ ان واقعات میں کم از کم 23 ملاحوں کے لاپتا یا ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

نیٹو نے کہا ہے کہ وہ رومانیہ کے حکام سے رابطے میں ہے۔ تنظیم کے مطابق اسی رات بحیرہ اسود میں دو مزید جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں رومانیہ کی سمندری حدود میں موجود مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے چلنے والا مال بردار جہاز ’’سی ڈیسٹنی‘‘ اور یوکرین کی بندرگاہ ازمیل میں لنگرانداز تنزانیہ کے پرچم والا جہاز ’’ڈانیا جے‘‘ شامل ہیں۔ ان دونوں واقعات میں جانی نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

رومانیہ کے صدر نیکوشور دان نے صورت حال کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہازوں پر حملوں سے انسانی جانوں، عالمی تجارت اور اہم تنصیبات کو خطرات لاحق ہیں۔

بحیرہ اسود یوکرین کی زرعی اجناس سمیت دیگر برآمدات کے لیے اہم بحری راستہ ہے۔ روس کے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے اس خطے میں بندرگاہوں اور بحری آمدورفت کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔

رومانیہ کی یوکرین کے ساتھ 614 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جس کا بڑا حصہ دریائے ڈینیوب کے ساتھ واقع ہے۔ بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں نے خطے میں کشیدگی اور اناج سمیت دیگر اشیا کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

Load Next Story