امریکی مسلم سیاست دان الہان عمر کا حجاب ہٹا کر بنائی گئی مبینہ گرفتاری کی تصویر جعلی نکلی

الہان عمر کے کانگریسی دفتر کے ترجمان نے واضح طور پر بتایا کہ الہان عمر کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

امریکی رکن کانگریس الہان عمر کے گھر پر چھاپے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی ایک مبینہ گرفتاری کی تصویر وائرل ہو رہی ہے، جس میں انہیں گنجے سر کے ساتھ پولیس کی حراست میں دکھایا گیا ہے۔

دعویٰ کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر کو الہان عمر کی گرفتاری کے بعد لی گئی پولیس تصویر، یعنی ’مگ شاٹ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ایک اور تصویر بھی شیئر کی گئی جس میں حجاب کو پولیس کے شواہد والے تھیلے میں دکھایا گیا ہے۔

یہ تصاویر 12 اکتوبر کو واشنگٹن ڈی سی میں الہان عمر کی رہائش گاہ پر امریکی حکام کے چھاپے کے بعد سامنے آئیں۔

حقیقت کیا ہے؟

الہان عمر کی مبینہ گرفتاری کی تصویر جعلی اور ترمیم شدہ ہے۔ یہی تصویر اس سے قبل 2020 میں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کی رائٹرز نے اس وقت بھی تردید کی تھی۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ تصویر بنانے کیلئے الہان عمر کی ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک اصل تصویر کو 2019 میں ویلز کی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک دوسرے شخص کے مگ شاٹ کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔

رائٹرز کے مطابق تصاویر کے تجزیے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ دونوں وائرل تصاویر ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار یا تبدیل کی گئی ہیں۔

دوسری جانب الہان عمر کے کانگریسی دفتر کے ترجمان نے رائٹرز کو واضح طور پر بتایا کہ الہان عمر کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

نتیجہ

الہان عمر کی گرفتاری کے نام پر وائرل تصویر جعلی ہے۔

اگرچہ 12 اکتوبر کو ان کی رہائش گاہ پر امریکی حکام نے تحقیقات کے سلسلے میں چھاپہ مارا تھا، تاہم ان کی گرفتاری کی کوئی معتبر تصدیق موجود نہیں۔

لہٰذا وائرل تصویر کو الہان عمر کی گرفتاری کا حقیقی ثبوت قرار دینا غلط اور گمراہ کن ہے۔

Load Next Story