پاکستان میں تاریخی مقامات کے ٹکٹ خطے کے کئی ممالک سے سستے
پنجاب وائلڈ لائف اینڈ ہیریٹیج اتھارٹی نے لاہور کے شاہی قلعہ اور شالامار باغ میں نائٹ ٹورازم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت مقامی شہریوں کے لیے داخلہ ٹکٹ ایک ہزار روپے جبکہ غیرملکی سیاحوں کے لیے دو ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں۔
شاہی قلعہ کے بعض حصوں میں داخلے کے لیے الگ ٹکٹ بھی لینا پڑتا ہے۔ پاکستان میں جہاں ایک طرف غربت میں اضافہ ہورہا ہے وہیں تاریخی مقامات کی سیاحت کے لئے انٹری ٹکٹ میں اتنا اضافہ تشویش ناک ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں تاریخی مقامات کے عام داخلے کی فیس خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہے، تاہم بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر ممالک میں سیاحوں کے لیے مختلف نرخ مقرر ہیں، جبکہ بعض مقامات پر مقامی شہریوں اور علاقائی ممالک کے سیاحوں کو رعایت بھی دی جاتی ہے۔
ماہر آثار قدیمہ اور پنجاب محکمہ آثار قدیمہ کے سابق ڈائریکٹر ملک مقصود احمد کے مطابق پاکستان میں تاریخی مقامات کے داخلہ ٹکٹوں کی شرح کم ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہاں تاریخی ورثے تک عام شہریوں کی رسائی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق تاریخی مقامات صرف سیاحت کے مراکز نہیں بلکہ قومی ورثہ بھی ہیں، اس لیے داخلہ فیس مقرر کرتے وقت عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ تاریخی مقامات کی دیکھ بھال، تحفظ اور سیاحوں کے لیے سہولتوں کی فراہمی پر اخراجات بھی ہوتے ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے مناسب فیس اور مؤثر انتظامی نظام کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں لاہور کے شاہی قلعہ میں عام داخلے کا ٹکٹ مقامی شہریوں کے لیے 100 روپے جبکہ غیرملکی سیاحوں کے لیے ایک ہزار روپے ہے۔ لاہور میوزیم میں مقامی شہریوں کی داخلہ فیس 50 روپے اور غیرملکی سیاحوں کے لیے ایک ہزار روپے درج ہے۔ شاہی حمام میں مقامی شہریوں کے لیے 50 روپے جبکہ غیرملکی سیاحوں کے لیے 400 روپے فیس مقرر ہے۔
شاہی قلعہ میں نائٹ ٹورازم کے لیے مقامی بالغ افراد کا ٹکٹ ایک ہزار روپے، تین سے دس سال کی عمر کے بچوں کا 500 روپے اور غیرملکی سیاحوں کا ٹکٹ دو ہزار روپے رکھا گیا ہے۔ رات کے وقت تاریخی عمارتوں کی سیر سے متعلق اس اقدام کے تحت شالامار باغ کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بھارت میں تاج محل کے عام داخلے کے لیے بھارتی شہریوں کا ٹکٹ 50 بھارتی روپے ہے، جو تقریباً 146 پاکستانی روپے بنتے ہیں، جبکہ غیرملکی سیاحوں کے لیے 1,100 بھارتی روپے، یعنی تقریباً 3,212 پاکستانی روپے فیس مقرر ہے۔ سارک اور بمسٹیک ممالک کے متعلقہ شہریوں کے لیے 540 بھارتی روپے، یعنی تقریباً 1,577 پاکستانی روپے کا نرخ بھی درج ہے۔
آگرہ قلعہ میں بھارتی شہریوں کے لیے داخلہ فیس 50 بھارتی روپے، تقریباً 146 پاکستانی روپے، جبکہ غیرملکی سیاحوں کے لیے 650 بھارتی روپے، تقریباً 1,898 پاکستانی روپے ہے۔ فتح پور سیکری میں مقامی شہریوں کا ٹکٹ 50 بھارتی روپے اور غیرملکی سیاحوں کا 610 بھارتی روپے ہے، جو پاکستانی کرنسی میں بالترتیب تقریباً 146 اور 1,781 روپے بنتے ہیں۔ تاج محل جمعہ کے روز عام سیاحوں کے لیے بند رہتا ہے، جبکہ بعض مقامات کے مخصوص حصوں میں داخلے کے لیے اضافی فیس وصول کی جاتی ہے۔
بنگلہ دیش میں لال باغ قلعہ میوزیم، شالبن وہار اور پہاڑپور میوزیم کے لیے دستیاب نرخوں کے مطابق مقامی شہریوں کی داخلہ فیس 20 بنگلہ دیشی ٹکا، سارک ممالک کے شہریوں کے لیے 100 ٹکا اور دیگر غیرملکی سیاحوں کے لیے 200 ٹکا ہے۔ موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق یہ رقمیں تقریباً 45، 225 اور 450 پاکستانی روپے بنتی ہیں۔
افغانستان کے قومی عجائب گھر میں مقامی شہریوں کے لیے 20 افغانی، یعنی تقریباً 85 پاکستانی روپے، جبکہ غیرملکی سیاحوں کے لیے 200 افغانی، یعنی تقریباً 852 پاکستانی روپے داخلہ فیس درج ہے۔
سری لنکا میں سگیریا کے مکمل ٹکٹ کی فیس 11,655 سری لنکن روپے ہے، جو تقریباً 9,800 پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ پولونارووا اور انورادھا پورہ کے لیے مکمل ٹکٹ 9,990 سری لنکن روپے، یعنی تقریباً 8,400 پاکستانی روپے ہے۔ دستیاب فہرست میں ان مقامات کے نصف ٹکٹ کی فیس بالترتیب 6,660 اور 4,995 سری لنکن روپے درج ہے، جو تقریباً 5,600 اور 4,200 پاکستانی روپے بنتے ہیں۔
نیپال کے کھٹمنڈو دربار اسکوائر، سویمبھو اسٹوپا اور بودھ ناتھ اسٹوپا کے لیے دستیاب فہرست میں مقامی شہریوں کا داخلہ مفت درج ہے۔ سویمبھو اسٹوپا میں سارک ممالک کے شہریوں کے لیے 50 نیپالی روپے، تقریباً 91 پاکستانی روپے، جبکہ دیگر غیرملکی سیاحوں کے لیے 200 نیپالی روپے، تقریباً 364 پاکستانی روپے فیس ہے۔ بودھ ناتھ اسٹوپا میں سارک ممالک کے شہریوں کے لیے 100 نیپالی روپے، تقریباً 182 پاکستانی روپے، جبکہ دیگر غیرملکی سیاحوں کے لیے 400 نیپالی روپے، تقریباً 728 پاکستانی روپے مقرر ہیں۔
بھوٹان کے قومی میوزیم میں مقامی شہریوں کے لیے 100 نگلٹرم اور غیرملکی سیاحوں کے لیے 500 نگلٹرم داخلہ فیس درج ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 292 اور 1,460 روپے بنتی ہے۔ تکتسانگ خانقاہ کے لیے غیرملکی سیاحوں کی فیس ایک ہزار نگلٹرم، تقریباً 2,920 پاکستانی روپے، جبکہ پوناکھا ژونگ کے لیے 500 نگلٹرم، تقریباً 1,460 پاکستانی روپے ہے۔
مالدیپ کے قومی میوزیم کے سرکاری سیاحتی پورٹل پر غیرملکی بالغ سیاحوں کے لیے 100 مالدیپی روفیا کی فیس درج ہے، جو تقریباً 1,800 پاکستانی روپے بنتی ہے۔ بچوں کے لیے 20 روفیا کی فیس درج ہے، جو تقریباً 360 پاکستانی روپے ہے۔