نظامِ ہاضمہ بہتر بنانے کے لیے فائبر سے بھرپور پانچ غذائیں
تکلیف دہ بیماری کی بنیاد قبض، جس سے بچاؤ کے لیے ریشے دار غذائی اجزاء کا بکثرت استعمال بہترین قدرتی حفاظتی ہتھیار ہے۔ فوٹو: فائل
پیٹ کی خرابی، قبض اور بے قاعدہ نظامِ ہاضمہ روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ غذا میں فائبر کی مناسب مقدار شامل کرنا آنتوں کی صحت بہتر بنانے اور قبض سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔
فائبر پھلوں، سبزیوں، اناج، دالوں، گری دار میووں اور بیجوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ مناسب پانی پینا بھی ضروری ہے۔
جو یا اوٹس:
ناشتے میں اوٹس شامل کرنا فائبر حاصل کرنے کا آسان طریقہ ہے۔ اس میں موجود حل پذیر فائبر، خصوصاً بیٹا گلوکن، آنتوں کی کارکردگی میں مدد دیتا ہے۔ اوٹس میں موجود بعض اجزا پری بائیوٹک اثر بھی رکھتے ہیں، یعنی یہ آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی افزائش کے لیے غذا فراہم کرسکتے ہیں۔
دالیں:
دالیں پروٹین اور فائبر دونوں کا اچھا ذریعہ ہیں اور برصغیر کے کھانوں میں طویل عرصے سے اہم مقام رکھتی ہیں۔ انہیں روزمرہ کھانے کے علاوہ سلاد یا دیگر پکوانوں میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ دالوں میں موجود فائبر آنتوں کی حرکت بہتر بنانے اور پیٹ دیر تک بھرا محسوس ہونے میں مدد دے سکتا ہے۔
سیب:
سیب میں پیکٹین نامی حل پذیر فائبر پایا جاتا ہے، جو ہاضمے کے لیے مفید ہے۔ متوازن غذا کے حصے کے طور پر سیب کھانے سے روزانہ فائبر کی مقدار بڑھائی جاسکتی ہے۔ اسے چھلکے سمیت کھانے سے بھی فائبر حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ اسے اچھی طرح دھو لیا جائے۔
خشک میوہ جات:
بادام اور انجیر جیسے خشک میوے فائبر کے ساتھ پروٹین، میگنیشیم اور صحت مند چکنائی بھی فراہم کرتے ہیں۔ انہیں مناسب مقدار میں روزانہ کی غذا میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ خشک انجیر فائبر کا ذریعہ ہے، جبکہ بادام غذائیت کے ساتھ کچھ مقدار میں فائبر بھی فراہم کرتے ہیں۔
شکرقندی:
شکرقندی میں فائبر، وٹامنز اور معدنی اجزا پائے جاتے ہیں، جن میں پوٹاشیم اور مختلف اقسام کے وٹامنز شامل ہیں۔ اسے ابال کر یا مناسب طریقے سے پکا کر کھانے سے غذا میں فائبر بڑھایا جاسکتا ہے، جو آنتوں کی باقاعدہ حرکت اور قبض سے بچاؤ میں مددگار ہوسکتا ہے۔
فائبر کی مقدار اچانک بڑھانے کے بجائے بتدریج اضافہ کرنا بہتر ہے، ورنہ بعض افراد کو گیس یا پیٹ پھولنے کی شکایت ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ پانی کی مناسب مقدار بھی لیں۔ اگر قبض مسلسل برقرار رہے یا پیٹ کے مسائل شدید ہوں تو طبی مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔