پشاور واقعہ: سندھ میں تمام نجی اسکولوں کو عمارتوں کے حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی سخت ہدایات
پشاور میں اسکول کی عمارت گرنے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے افسوسناک واقعے کے بعد سندھ کے تمام نجی اسکولوں میں عمارتوں کی حفاظت کے انتظامات یقینی بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کردی گئیں۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ کے ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے نجی اسکولوں کے مالکان اور پرنسپلز کو عمارتوں کی ساختی مضبوطی، بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ، بجلی اور گیس کی تنصیبات سمیت دیگر حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کا حکم دیا ہے، جبکہ غیر محفوظ عمارتوں میں تعلیمی سرگرمیاں فوری معطل کرنے اور قانون کے مطابق ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر رجسٹریشن رفیعہ جاوید کی جانب سے 16 اکتوبر کو جاری کردہ مراسلے میں تمام نجی اسکولوں کے سربراہان اور منتظمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان احکامات پر فوری اور مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں، پشاور میں اسکول کی عمارت گرنے کا واقعہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت اور طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی جان و سلامتی یقینی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
مراسلے کے مطابق تمام نجی اسکولوں کے مالکان اور پرنسپلز اس بات کے ذمہ دار ہوں گے کہ ان کی عمارتیں مضبوط، محفوظ اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے موزوں ہوں کسی بھی ایسی عمارت میں اسکول چلانے کی اجازت نہیں ہوگی جو وہاں موجود طلبہ، اساتذہ یا دیگر افراد کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔
محکمہ تعلیم نے ہدایت کی ہے کہ جن اسکولوں کی عمارتوں میں مرمت، تزئین و آرائش یا دیکھ بھال کی ضرورت ہے، وہاں فوری طور پر ضروری کام مکمل کیا جائے۔ عمارت کے کسی ایسے حصے کو استعمال نہیں کیا جائے گا جسے غیر محفوظ قرار دیا گیا ہو، جب تک اس کی مناسب مرمت کرکے اسے محفوظ قرار نہ دے دیا جائے۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی اسکول کی عمارت خستہ حال، متاثرہ، ساختی طور پر کمزور یا کسی بھی وجہ سے غیر محفوظ پائی جائے تو اسکول کا مالک یا پرنسپل فوری طور پر متعلقہ ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کو آگاہ کرے۔ ایسی عمارت میں تعلیمی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کردی جائیں گی۔
متعلقہ ڈائریکٹوریٹ متاثرہ طلبہ کو قریبی محفوظ اسکولوں میں منتقل کرنے کے لیے اقدامات کرے گا تاکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہ سکے اور ان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
محکمہ تعلیم سندھ نے تمام نجی اسکولوں کے لیے متعلقہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے عمارت کا درست اور مؤثر بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا بھی لازمی قرار دیا ہے۔ اسکول انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ معائنے کے لیے دستیاب رکھا جائے تاکہ متعلقہ حکام عمارت کی مضبوطی اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے اس کی موزونیت کی تصدیق کرسکیں۔
مراسلے کے مطابق بغیر رجسٹریشن چلنے والے تمام نجی اسکولوں کو فوری طور پر متعلقہ ڈائریکٹوریٹ میں رجسٹریشن کے لیے درخواست دینے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ غیر رجسٹرڈ اسکول اگر خطرناک یا غیر محفوظ عمارت میں چلتا پایا گیا تو معاملہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو بھیجا جائے گا، جہاں قانون کے مطابق اسکول کو فوری بند یا سیل کرنے کی کارروائی کی جاسکے گی۔ ذمہ دار اسکول مالکان اور پرنسپلز کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ تعلیم نے اسکولوں میں بجلی کی وائرنگ، سوئچ بورڈز، لیبارٹریوں، کچن، جنریٹر رومز، گیس کی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کا باقاعدگی سے معائنہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان مقامات پر حفاظتی معیار کے مطابق دیکھ بھال اور ضروری مرمت یقینی بنانے کے ساتھ برقی خرابیوں، آتش زدگی اور دیگر ممکنہ حادثات سے بچاؤ کے لیے مستند ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جہاں ضروری ہو، وہاں فائر ایکسٹنگوئشرز اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے انتظامات بھی موجود ہونے چاہییں۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری ان کے مالکان، پرنسپلز اور انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ عمارت کی حفاظت سے متعلق معلومات چھپانے، غفلت برتنے یا جاری کردہ ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق انتظامی اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر رفیعہ جاوید نے متعلقہ ڈائریکٹوریٹس کی انسپیکشن کمیٹیوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ نجی اسکولوں کے باقاعدہ، اچانک اور غیر اعلانیہ معائنے کریں۔ ان معائنوں کے دوران عمارتوں کی ساختی حالت، حفاظتی انتظامات اور جاری کردہ احکامات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔
مراسلے کے مطابق اگر کسی اسکول میں سنگین نقائص، عمارت کو لاحق خطرات یا انسانی جانوں کے لیے فوری خطرے کی نشاندہی ہوتی ہے تو بلا تاخیر حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔ ضرورت پڑنے پر تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے اور عمارت کو سیل کرنے کے ساتھ متاثرہ طلبہ کو قریبی محفوظ اسکولوں میں منتقل کیا جائے گا۔
محکمہ تعلیم سندھ نے واضح کیا ہے کہ بچوں کی جان و سلامتی ہر تعلیمی ادارے کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور مالی مشکلات، انتظامی غفلت یا کسی دوسرے معاملے کو انسانی زندگی کے تحفظ پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ تمام نجی اسکولوں کے مالکان، پرنسپلز اور انتظامیہ کو ان ہدایات پر فوری اور مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حفاظتی اقدامات میں کسی قسم کی غفلت یا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔