مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کا واشنگٹن پوسٹ کی خاتون صحافی پر بہیمانہ تشدد

انھیں زمین پر گرا کر بار بار لاتیں ماری گئیں، ان کا کیمرہ اور فون بھی چھین لیا گیا۔

یہودی آبادکاروں کا امریکی خاتون صحافی پر بہیمانہ تشدد (فوٹو: رائٹرز)

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنے فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکام سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ہیڈی لیوائن پر جمعہ کی صبح فلسطینی زیتون کے کاشت کاروں پر حملے کے دوران تشدد کیا گیا حالانکہ وہ صحافی کا کارڈ پہنے ہوئے تھیں اس کے باوجود انھیں نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیڈی لیوائن کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے اور وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں تاہم اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے والی صحافی پر بلاجواز حملہ ناقابل قبول ہے۔

امریکی اخبار نے حکام پر زور دیا کہ واقعے کی جامع تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی کسانوں اور زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران پیش آنے والے تشدد کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

https://x.com/WashPostComms/status/2111067769156280428?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2111067769156280428%7Ctwgr%5E20d0a70d411a693feefa542667a3cac973ee2ce1%7Ctwcon%5Es1_c10&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.aljazeera.com%2Fnews%2Fliveblog%2F2026%2F10%2F16%2Firan-war-live-saudi-blasts-houthi-war-crimes-us-warns-on-saudi-airports

زیتون کی فصل فلسطینی خاندانوں کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے جبکہ فصل کی کٹائی کے موسم میں کسانوں کو آبادکاروں کی جانب سے حملوں اور ہراسانی کی شکایات کا سامنا رہتا ہے۔

تاحال حملے میں ملوث افراد کی شناخت، واقعے کی مکمل تفصیلات اور حکام کی جانب سے کسی کارروائی کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بعد ازاں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یہ حملہ مغربی کنارے کے گاؤں ابو فلاح میں ہوا، جہاں تقریباً 80 نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینی زیتون توڑنے والوں پر حملہ کیا، زیتون کے درختوں کو آگ لگائی اور پتھراؤ کیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق واشنگٹن پوسٹ کی صحافی ہیڈی لیوائن نے جب اس کی رپورٹنگ کی کوشش کی تو انھیں زمین پر گرا کر بار بار لاتیں ماری گئیں، ان کا کیمرہ اور فون بھی چھین لیا گیا۔

اسرائیلی فوج نے اس واقعے کا جائزہ لینے کی تصدیق کی ہے جبکہ پولیس نے تحقیقات شروع کردیں۔
 

Load Next Story