آبنائے ہرمز میں بھارتی عملے والے آئل ٹینکر پر حملہ، 15 افراد سوار تھے
آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر سدر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی—فائل فوٹو
آبنائے ہرمز میں خام تیل لے جانے والے جہاز کو نامعلوم شے سے نشانہ بنایا گیا ہے جس پر سوار عملے کے ارکان میں 15 بھارتی ہیں۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق وزیر برائے بندرگاہ و جہاز رانی سربانندا سونووال نے تصدیق کی کہ ایم ٹی ایس ٹی 3 نامی تیل بردار جہاز سے آبنائے ہرمز میں نامعلوم شے سے ٹکرایا۔ جہاز خام تیل لے جا رہا تھا اور اس پر 15 بھارتی اہلکار سوار تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز میں سوار تمام بھارتی اہلکار محفوظ ہیں۔ جہاز کی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور عمان کی حکومت سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ صورت حال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بھارتی وزیر جہاز رانی نے ایک دوسرے واقعے کی بھی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ 14 اکتوبر کے روز رومانیہ کے ساحلی علاقے سولینا میں لنگر انداز کیمیائی مواد لے جانے والے جہاز یارا جے کو بھی ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس جہاز پر بھی 9 بھارتی اہلکار موجود تھے اور وہ بھی محفوظ رہے۔ یوں دونوں واقعات میں مجموعی طور پر 24 بھارتی شہریوں کی سلامتی کی تصدیق ہوئی ہے۔
تاحال ان دونوں جہازوں پر حملوں کی نوعیت اور ذمہ دار کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے تاحال کسی گروہ، ملک یا تنظیم نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے جہاں ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے جہاز رانی پر بندش لگا رکھی ہے جس کے باعث تیل و گیس کی ترسیل کم ہوگئی اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔