گیریژن اسٹیٹ

ایسی ریاست میں قومی سلامتی اور فوجی ترجیحات کو اکثر سویلین حکمرانی اور عوامی مفادات پر فوقیت حاصل ہوتی ہے

tauceeph@gmail.com

گیریژن اسٹیٹ سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں فوج اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ حکومت، سیاسی اداروں، قومی پالیسیوں اور بعض صورتوں میں معیشت اور شہری معاشرے پر فیصلہ کن اثر و رسوخ رکھتی ہو۔ ایسی ریاست میں قومی سلامتی اور فوجی ترجیحات کو اکثر سویلین حکمرانی، جمہوری جواب دہی اور عوامی مفادات پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔اس تصور کو امریکی ماہرِ سیاسیات ہیرلڈ ڈی لاسویل (Harold D. Lasswell) نے 1941ء میں اپنے مضمون The Garrison State کے ذریعے متعارف کرایا۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ ایسے سیاسی نظام میں طاقت کے استعمال میں مہارت رکھنے والے افراد، یعنی فوجی اور سکیورٹی ادارے ، سویلین سیاسی اور معاشی قیادت سے زیادہ طاقت ور ہو سکتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں، گیریژن اسٹیٹ ایسی ریاست کو کہتے ہیں جہاں ملک چلانے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا فیصلہ کن کردار ہو اور فوج محض منتخب سویلین قیادت کے ماتحت کام کرنے والے ادارے تک محدود نہ رہے۔

گیریژن اسٹیٹ کی اہم خصوصیات:-

 سیاست میں فوج کا اثر و رسوخ: فوج سیاسی قیادت اور حکومتی فیصلوں پر نمایاں اثر رکھتی ہو، قومی سلامتی کی پالیسیوں پر غلبہ: فوجی اور انٹیلی جنس اداروں کی ترجیحات داخلی اور خارجہ پالیسیوں کا رخ متعین کرتی ہوں، سویلین بالادستی کی کمزوری: منتخب حکومت کو اہم دفاعی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے معاملات میں محدود اختیار حاصل ہوں، معاشرے کی عسکریت کاری: فوجی اداروں اور سکیورٹی کے تقاضوں کی عوامی زندگی میں غیر معمولی اہمیت ہو، جمہوری جواب دہی کی کمی: دفاعی اور سکیورٹی فیصلے پارلیمانی نگرانی اور عوامی احتساب سے بڑی حد تک مستثنیٰ ہوں، معیشت میں فوجی اثر و رسوخ: بعض صورتوں میں فوجی ادارے تجارتی سرگرمیوں اور معاشی وسائل میں بھی نمایاں حصہ رکھتے ہوں۔ہر وہ ملک گیریژن اسٹیٹ نہیں ہوتا جس کی فوج بڑی ہو یا جو دفاع پر زیادہ اخراجات کرتا ہو۔

 بنیادی سوال یہ ہے کہ فوج سویلین اداروں اور قومی فیصلہ سازی پر کس حد تک اختیار رکھتی ہے۔گیریژن اسٹیٹ کی شناخت کا بنیادی معیار محض ایک طاقت ور فوج کا وجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ فوج آئینی سویلین اختیار کے ماتحت جواب دہ رہتی ہے یا ریاست کے نظم و نسق اور قومی فیصلوں میں ایک غالب طاقت بن جاتی ہے۔گیریژن اسٹیٹ جنگ اور سیکیورٹی کے نام پر تشدد کے ماہرین یعنی فوج اور عسکری اشرافیہ معاشرہ کا سب سے طاقت ور گروہ بن جانا اور پوری قوم کی زندگی فوجی ضرورت کے گرد گھومتی ہے۔ گیریژن اسٹیٹ جنگ اور سیکیورٹی کے نام پر فوج، سیاست، معیشت اور معاشرہ پر حاوی ہوجاتی ہے۔

ایسی ریاست میں تمام فیصلے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی منظوری سے ہوتے ہیں کیونکہ اس ریاست کا بیشتر بجٹ دفاع کے لیے مختص ہوتا ہے تو تعلیم صحت، اختیار اور وسائل کی ترقی کے لیے ہمیشہ کم بجٹ رکھا جاتا ہے۔ گیریژن اسٹیٹ میں اسٹیٹ میں پارلیمنٹ بے اختیار ہوتی ہے۔ عدلیہ کا ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ عدلیہ کا کام انتظامیہ کے فیصلوں کی توثیق کرنا ہوتا ہے۔ اس ریاست میں عوام کے بنیادی حقوق کا کوئی تصور ہی نہیں ہوتا۔

میڈیا کو مکمل طور پر ریگولیٹ کیا جاتا ہے اور جو افراد ریاست کے بیانیہ سے انحراف کرتے ہیں وہ معتوب قرار پاتے ہیں۔ ایسی ریاست کی جیلوں میں منحرف سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی اکثریت ہوتی ہے۔ گیریژن اسٹیٹ میں منحرفین کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ قدیم زمانہ میں زار روس کی ریاست ایک طرح کی گیریژن اسٹیٹ تھی۔ یورپ میں صنعتی ترقی ہوئی تو ملٹری کمپلیکس میں ترقی پائی۔ 20ویں صدی میں جرمنی، اٹلی اور اسپین گیریژن اسٹیٹ کی شکل اختیار کرگئے۔

 جرمنی میں ہٹلر نے ایک گیریژن اسٹیٹ قائم کی تھی۔ اس وقت جرمنی میں نازی پارٹی کے سوا دیگر تمام جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ میڈیا کو مکمل طور پر ریاستی بیانیہ کا پابند کیا گیا تھا اور عدلیہ کا کام نازی پارٹی کے فیصلوں کی کاسی پینی کرنا تھا۔ اس وقت جرمنی میں شہری آزادیوں کا تصور نہیں تھا۔ جرمنی کی فوج پوری دنیا کو غلام بنانا چاہتی تھی۔

اسی طرح اٹلی میں ایک صحافی Benita Mussoline نے نیشنل فاسٹ پارٹی قائم کی تھی۔ موسلینی پرامن جدوجہد کا حامی تھا اور اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں میں سوشلسٹ صحافت اور مزدور رہنما کے طور پر ابھرا۔ موسیلنی نے فاشسٹ پارٹی بنائی۔ تمام پارٹیوں پر پابندی لگادی گئی۔ میڈیا اور عدلیہ کو ریگولیٹ کیا جانے لگا۔ جن لوگوں نے فاشزم کی مخالفت کی انھیں لاپتہ کردیا جاتا تھا۔ موسلینی دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کا اتحادی بن گیا اور جرمنی کی شکست کے ساتھ موسلینی کا دور بھی ختم ہوگیا۔ اسپین میں جنرل فرانسکو نے جمہوری قوتوں کو کچلا۔

فرانسکو کا دور 1939ء سے 1975ء تک جاری رہا۔ اس دوران اسپین ترقی کی دوڑ میں تمام یورپی ممالک سے پیچھے رہ گیا۔ جنوبی افریقہ میں سفید فام اقلیت نے اس فوج کے بل بوتے پر کروڑوں سیاہ فام عوام کو غلام بنایا ہوا تھا۔ جدید جنوبی افریقہ کے بانی نیلسن منڈیلا نے اس دور میں 27 سال مختلف جیلوں میں گزارے تھے۔ جدید دور میں اسرائیل مکمل طور پر گیریژن اسٹیٹ ہے۔ اسرائیل میں صرف صیہونیوں کو آزادی ہے۔

 فلسطین کے قدیم باشندے دوسرے درجہ کے شہری کی زندگی گزارتے ہیں۔ اسرائیل امریکا کے ساتھ مل کر پورے مشرق ِوسطیٰ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کی جیلوں میں اب بھی ہزاروں فلسطینی عرصہ دراز سے بند ہیں۔

اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کا تو اب دنیا بھر کے عوام اقرار کرتے ہیں۔ سوویت یونین کو بھی بعض ماہرین گیریژن اسٹیٹ قرار دیتے ہیں۔ سوویت یونین کے مرد آہن اسٹالن کے دور میں انسانی حقوق پامال ہوئے۔ مخالفین کو لاپتہ کرنے اور سائبیریا کے برفانی جنگلوں میں بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی KGB کو سب سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا تھا مگر اسٹالن کی قیادت میں سوویت یونین نے دوسری جنگِ عظیم میں سب سے پہلے جرمنی کو شکست دی اور سوویت یونین کی مدد سے ایشیا اور جنوبی افریقہ کے 40 سے زیادہ ممالک آزاد ہوئے۔

کچھ ماہرین موجودہ روس کو بھی گیریژن اسٹیٹ قرار دیتے ہیں۔ ایشیا میں مینمار (برما) ایک گیریژن اسٹیٹ ہے۔ ایک فوجی جنتا نے سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ منحرفین کے لیے موت اور جیل جانے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

مادام (Aungs Ansuukyi)نے مینمار کی جیلوں میں طویل عرصہ گزارا۔ شمالی کوریا بھی ایک طرح کی گیریژن اسٹیٹ ہے۔ شمالی کوریا میں اگرچہ کہ کمیونسٹ پارٹی کی آمریت ہے مگر اب بھی وہاں ایک خاندان میں اقتدار منتقل ہوتا ہے۔ اب تو افغانستان بھی ایک طرح کی گیریژن اسٹیٹ سے جہاں طالبان نے فاشسٹ حکومت قائم کررکھی ہے۔

گیریژن اسٹیٹ میں عوام خوشحال نہیں ہوتے۔ تاریخ کے مطالعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ گیریژن اسٹیٹ ایک دن ختم ہوجاتی ہے۔

Load Next Story