ان لینڈ ریونیو سروس آفیسرز ایسوسی ایشن کا ملک گیر پْرامن قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان
ان لینڈ ریونیو سروس آفیسرز ایسوسی ایشن (آئی آر ایس او اے) نے ان لینڈ ریونیو سروس کی یکطرفہ تقسیم یا خاتمے کے خلاف پیر( 19 اکتوبر 2026 )کو ملک گیر پْرامن قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر کے فیلڈ فارمیشنز اور ہیڈکوارٹرز کے افسران نے ویڈیو لنک کانفرنس میں متفقہ طور پر سروس کی ساخت اور شناخت کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ حقیقی اصلاحات کے حامی ہیں، تاہم عجلت میں کی جانے والی ایسی تنظیمِ نو قبول نہیں کریں گے جو پہلے سے منتشر ٹیکس نظام کو مزید تقسیم کر دے۔
آئی آر ایس او اے نے افسران کی متعدد کمیٹیوں کے قیام اور متوازی طور پر جاری کنسلٹنسی کے عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر ان اقدامات کے ذریعے پہلے سے کیے گئے فیصلوں کو اتفاقِ رائے کا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ مشاورت کو رضامندی نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایسوسی ایشن نے غیر ملکی کنسلٹنٹس کو لاکھوں ڈالر کی ادائیگی کے باوجود ان کے کام کے نتائج کا غیر جانب دارانہ جائزہ نہ لینے پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ سابقہ تجربات کا جائزہ لیے بغیر نئے تجربات سے سرکاری وسائل ضائع، ادارے غیر مستحکم اور قومی خزانے کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے ٹیکس مسائل کا حل خصوصی مہارت کو عمومی انتظامی ماڈل کے تابع کرنے میں نہیں، جبکہ سروس کے کیڈر نظام کو کمزور کرنے اور سرکاری فرائض میں نجی شعبے سے افراد کی شمولیت کے ذریعے بھرتی کے قواعد اور ادارہ جاتی تحفظات کو نظرانداز کرنے کی کوششیں بھی قابلِ تشویش ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ریونیو انتظام ایک خودمختار ریاستی ذمہ داری ہے، جس میں مہارت، جواب دہی اور رازداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ آئی آر ایس او اے نے ریونیو انتظام میں غیر متعلقہ شعبوں کے افسران کی قیادت پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نظام کی پیچیدگیوں اور عملی حقائق سے مناسب واقفیت کے بغیر کیے گئے فیصلے عجلت پر مبنی اور غیر منظم اصلاحات کا سبب بنتے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے ریٹائرڈ افسران کی نان کیڈر آسامیوں پر تعیناتی اور بعد ازاں انہیں کیڈر عہدوں پر تعینات کرنے کی بھی مخالفت کی اور اسے میرٹ اور قانونی تحفظات کے منافی قرار دیا۔ بیان میں ٹیکس پالیسی کے لیے ماہر قیادت اور وفاقی، صوبائی و مقامی سطح پر مربوط ریونیو انتظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ اصلاحات کا مقصد اداروں کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں مزید حصوں میں تقسیم کرنا۔
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی فیصلے سے قبل افسران کو اعتماد میں لیا جائے اور تمام متعلقہ فریقوں سے بامعنی مشاورت کی جائے۔ اس موقع پر سروس کی ساخت اور شناخت کے تحفظ کے لیے آئینی و قانونی ضمانتوں سے رجوع کرنے، کسی بھی یکطرفہ فیصلے کے خلاف ملک بھر کے افسران کی جانب سے پْرامن، اجتماعی اور قانونی مزاحمت کرنے اور چیئرمین ایف بی آر، ممبر آپریشنز اور وفاقی وزیر خزانہ سے ملاقات کے لیے ایسوسی ایشن کا وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
بیان کے مطابق ایف بی آر بورڈ اور فیلڈ فارمیشنز کے درمیان فاصلے کم کرنے اور ایف بی آر و اس کے افسران کے خلاف گمراہ کن بیانیے کا موٴثر جواب دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ افسران اپنی قیادت کے فیصلوں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آئی آر ایس او اے کے مطابق یہ اقدام جمود یا انفرادی مفادات کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ ریاست کے ایک اہم ادارے کے دفاع، خصوصی مہارت کے فروغ، آئینی حکمرانی اور حقیقی مشاورت کے لیے مشترکہ جدوجہد کا حصہ ہے۔