سانحہ پشاور اور لائبہ اعجاز کی موت، نظام تعلیم کی ناکامی کے منہ بولتے ثبوت

بیشتر اسکولوں کی عمارتیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، اور اکثر اوقات بچے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں

پشاور اسکول کا سانحہ اور اسلام آباد میں لائبہ کی درخت سے لٹکتی لاش ہمارے تعلیمی نظام اور حکومتی ترجیحات پر ایک ایسی چارج شیٹ ہیں جسے نظرانداز کرنا مجرمانہ غفلت اور اجتماعی بے حسی کا ثبوت ہوگا۔ یہ دو واقعات نہیں بلکہ المیے ہیں جو بظاہر تو مختلف مگر دونوں ایک ہی سوال اٹھاتے ہیں کیا حکومت اپنے بچوں کو محفوظ ماحول اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے مواقع دے رہی ہے؟

ایک طرف معصوم بچے غیرمحفوظ عمارتوں میں پڑھ رہے ہیں، دوسری طرف اعلیٰ تعلیم کے خواہش مند نوجوان محدود مواقع اور ناقص انتظامات کی وجہ سے مایوس ہو رہے ہیں۔ یہ انفرادی واقعات نہیں، بلکہ نظام کی ترجیحات، انتظامی صلاحیت اور ریاستی نگرانی پر سوالات ہیں۔

حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان نے تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد خرچ کیا جبکہ یونیسکو کی تجویز 4 سے 6 فیصد ہے۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ تعلیم ہماری قومی ترجیح نہیں۔

آئین کے آرٹیکل 25- اے کے مطابق پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے بچوں کو بنیادی تعلیم مفت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور چونکہ تعلیم اب صوبائی معاملہ ہے، لہذا تمام صوبوں نے اس کے لیے قوانین بنائے تو ہیں، اور سرکاری اسکولوں میں عموما ٹیوشن فیس نہیں لی جاتی، مگر یہ سمجھنا ضروی ہے کہ بنیادی تعلیم صرف مفت کردینا کافی نہیں، اسکولوں میں معیاری تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے فقدان نے سرکاری اسکولوں کا گراف بتدریج گرایا اور نہ ہی ہم اعلیٰ تعلیم میں کوئی قابلِ ذکر مثال قائم کر سکے۔

بھارت میں طالبہ نے ریاضی کا پرچہ خراب ہونے پر خودکشی کرلی

حکمران عالمی معیار کی سرکاری جامعات قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ موجودہ سرکاری جامعات میں تعلیم، تحقیق اور سہولیات کا وہ معیار عام نہیں جو طلبہ کو عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنائے۔ اسی وجہ سے استطاعت رکھنے والے بیرون ممالک جانے کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ محدود وسائل والے اپنے ملک میں ہی معیاری تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔

بنیادی تعلیم کا حال بھی مختلف نہیںم پرائمری، سیکنڈری اور کالج کی سطح پر ایسے سرکاری ادارے کم ہیں جہاں محفوظ عمارتیں، سہولیات اور تربیت یافتہ اساتذہ ہوں۔

قانون کے مطابق تعلیم مفت اور طالب علم کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا لازم ہیں، مگر کئی سرکاری اسکولوں کا حال یہ ہے کہ پانی کی سہولت اور حاجت کیلیے بیت الخلا تک قابل استعمال نہیں، اساتذہ غیر حاضر رہتے جبکہ جو آتے ہیں وہ وقت پر نہیں۔

اسکولوں کی عمارتیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، اور اکثر اوقات بچے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ ان سب چیزوں کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور نچلے طبقے پر پڑتا ہے۔ وہ مجبور ہو کر بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخلہ دلواتے ہیں۔

پشاور حادثے والےاس نجی اسکول کی ماہانہ فیس 1 ہزار روپے تھی، تو کوئی سہولیات کا فرق ہوگا؟ اس لیے شاید بدقسمت والدین نے اس چھوٹے سے نجی اسکول کو سرکاری تعلیم پر ترجیح دی؟ اور پھر جو مزید بہتر تعلیم و سہولیات چاہتے ہیں، وہ مہنگی نجی اسکولوں کی فیسیں برداشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

مگر وہاں بھی محفوظ ماحول اور مؤثر نگرانی کی ضمانت نہیں ملتی۔ یوں سرکاری اور نجی اسکولوں کی وجہ سے دو ہرا تعلیمی نظام بھی قائم ہو چکا ہیں، جس نے ملک میں طبقاتی فرق میں مزید اضافہ بھی کیا۔

لائبہ کی موت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ نوجوان کن حالات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہ گولڈ میڈلسٹ، والدین نے بیٹی کو باہر بھیجنے کا خواب دیکھا، مگر بدقسمتی سے فراڈ کا شکار ہوگئی۔

سوال یہ ہے کہ ہارورڈ جیسی یونیورسٹیوں تک رسائی کا تصور صرف صاحبِ استطاعت لوگوں تک کیوں محدود ہے؟ ایک گولڈ میڈلسٹ بچی، جو متوسط یا نچلے طبقے سے تعلق رکھتی تھی، اپنی ہی یونیورسٹی کی طرف سے بیرونی یونیورسٹی میں داخلے یا اسکالرشپ کے لیے مؤثر رہنمائی تک نہیں پا سکی۔

اصولی طور پر یونیورسٹیوں اور حکومت کو ایسی اسکالرشپس اور رہنمائی دینی چاہییں کہ گولڈ میڈلسٹ خود بڑی یونیورسٹیوں تک پہنچ سکیں۔ یہ تعلیمی اداروں کا کام ہونا چاہیے کہ ذہین طلبہ، چاہے وہ معاشی طور پر کسی بھی طبقہ سے ہوں، بڑی یونیورسٹیوں تک جا سکیں۔

لائبہ کی موت کے حقیقی اسباب کا تعین غیرجانبدارانہ تحقیقات سے ہونا چاہیے۔ تاہم یہ احتیاط ہمیں بنیادی سوالات سے فرار کا راستہ نہیں دیتی۔ کہ کیا ہمارےتعلیمی ادارے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ رہنمائی اور مدد بھی فراہم کرتے ہیں؟ کیا ان کے مسائل سننے اور حل کرنے کا مؤثر نظام موجود ہے؟

لائبہ کی موت کو محض افسوس ناک خبر سمجھ کر بھلا دینا کافی نہیں، مکمل تحقیقات ہوں، حقائق سامنے آئیں اور اگر کسی سطح پر غفلت ثابت ہو تو ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں طلبہ کی رہنمائی اور ضرورت پڑنے پر نفسیاتی مدد کے انتظامات بھی کیے جائیں۔

دوسری جانب پشاور کے نجی اسکول کا معاملہ بھی ریاستی نگرانی پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر عمارت غیرمحفوظ تھی تو بچوں کو وہاں پڑھنے کی اجازت کیسے ملی؟ منظوری،حفاظتی معائنے اور نگرانی کے ذمہ دارصوبائی بلڈنگ لنٹرول اتھارٹی ادارے کہاں تھے؟ اسکول انتظامیہ اور سرکاری اداروں نے اپنے فرائض کس حد تک ادا کیے؟ ان کے جوابات شفاف تحقیقات سے آنے چاہییں۔

تعلیم کوئی احسان نہیں بلکہ ہر بچے کا بنیادی حق اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست کا فرض صرف ادارے قائم کرنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ ان میں معیاری تعلیم ہو، عمارتیں محفوظ ہوں، اساتذہ تربیت یافتہ ہوں اور نگرانی کا نظام جواب دہ ہو۔ اگر کوئی نجی ادارہ بچوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہو۔ اگر کوئی جامعہ معیار برقرار نہ رکھ سکے تو اس کی اصلاح ضروری ہے۔ اور اگر حکومتی پالیسیاں مساوی مواقع نہیں دیتی تو ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

پشاور کے اسکول کے واقعے اور لائبہ کی موت کو چند روزہ خبروں اور رسمی بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ عمارتوں کے حفاظتی معائنے یقینی بنائے جائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو۔ لائبہ کے معاملے میں مکمل تحقیقات ہوں اور غفلت ثابت ہونے پر احتساب کیا جائے۔

حکومت کو بنیادی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے واضح اور طویل المدتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ سرکاری اسکولوں کا معیار بلند کرنا، جامعات میں تحقیق کو فروغ دینا، نجی اداروں کی مؤثر نگرانی کرنا اور کم وسائل والے خاندانوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

حکمرانوں سے سوال

ہم اپنے بچوں کو محفوظ اسکول کیوں نہیں دے سکے؟ ہم اپنے نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم کے مواقع کیوں فراہم نہیں کر سکے؟ والدین کو محدود اور بعض اوقات غیرمعیاری انتخاب پر کیوں اکتفا کرنا پڑتا ہے؟ اگر نظام بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور نوجوانوں کے خوابوں کی تکمیل نہیں کر سکتا تو اس کا احتساب کون کرے گا؟ اور اگر آپ عوام کے لیے مؤثر پالیسیاں نہیں بنا رہے تو ایوانوں میں کر کیا رہے ہیں؟

لائبہ کی موت اور پشاور کا سانحہ یاد دلاتے ہیں کہ تعلیم میں غفلت کی قیمت بچوں کی سلامتی، نوجوانوں کے مستقبل اور خاندانوں کی زندگیوں تک پہنچتی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ ذمہ داری کب طے ہوگی اور اصلاحات کب نظر آئیں گی؟ پاکستان میں وہ دن کب آئے گا جب ہر بچے کو محفوظ اسکول اور ہر نوجوان کو معیاری تعلیم کے ذریعے اپنے خواب پورے کرنے کا حقیقی موقع ملے؟

قوم کو محض افسوس اور تعزیت نہیں، جواب دہی، انصاف اور عملی اصلاحات درکار ہیں۔ حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ تعلیم پر غفلت دراصل قوم کے مستقبل سے غفلت ہے۔

Load Next Story