فرمائشی پروگرام

سیاست دان اپنی چالبازیوں اور رنگ بازیوں سے کبھی باز نہیں آئیں گے

فرمائشی پروگرام سے مراد ایسا نشریاتی یا تفریحی پروگرام ہے جو سننے والوں یا دیکھنے والوں کی فرمائش، خواہش یا درخواست پر تیار کیا اور پیش کیا جائے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک عوام صرف سیاسی اشرافیائی کا فرمائشی پروگرام دیکھ رہے ہیں۔

اس پروگرام میں عوام کی خوش حالی، ترقی، فلاح و بہبود کا دور دور تک امکان موجود نہیں ہے۔ عوام کی مجموعی لاشعوری، بے بسی اور بے حسی کے سبب آج تک سیاسی اشرافیہ صرف اپنے فرمائشی پروگرام چلا رہی ہے، جس کے سبب ان کی زندگیوں میں خوش حالیاں اور ترقیاں آ چکی ہیں اور عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، آج عوام دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہیں۔

تعلیم و صحت کی سہولیات بھی عوام کو میسر نہیں ہیں۔ آج ایک عام پاکستانی طاقت ور طبقوں، حکمرانوں اور سیاسی اشرافیہ سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آخر کب تک اشرافیائی سیاسی فرمائشی پروگرام چلتے رہیں گے؟ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔

عوام کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟ بحیثیت قوم عوام کو جاگنا ہوگا اور اپنے بنیادی آئینی و معاشی حقوق کی خاطر مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی، اگر عوام نے اجتماعی طور پر اپنی معاشی آزادی کے لیے کوئی پروگرام منعقد نہیں کیا تو حالات کبھی بھی نہیں بدلیں گے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام بھی حالات کی نزاکت اور سنگینی کو اچھی طرح سمجھیں۔ سیاسی اشرافیہ کبھی بھی عوام کو ان کے بنیادی حقوق نہیں دے گی۔ اس کے لیے عوام کو خود جدوجہد کرنی پڑے گی۔ عوام کو جگانے کے لیے حبیب جالب نے کیا خوب کہا ہے۔

اٹھا رہا ہے جو فتنے مری زمینوں میں

وہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوں میں

کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہوگا

جو پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے سینوں میں

یہ لوگ اس کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں

کہ اقتدار رہے ان کے جانشینوں میں

یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کے لیے

کھڑے رہو گے کہاں تک تماش بینوں میں

پاکستان کا قیام انتھک جدوجہد و قربانیوں کے باعث معرض وجود میں آیا، مگر بدقسمتی سے پاکستان کو جس سمت میں جانا چاہیے تھا، وہ اس سمت سے بھٹک رہا ہے۔ اس کا سارا قصور اشرافیہ اور ہماری سیاسی جماعتوں کا ہے۔

آج عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے اور عوام کی خوش حالی کی نفی کی جا رہی ہے، لیکن آج کوئی بھی عوام کے بنیادی حقوق کی بات نہیں کرتا۔ ہر کوئی آج اپنی کرسی بچانے کے چکر میں لگا ہوا ہے۔ اشرافیہ، سرمایہ داروں، وڈیروں اور جاگیرداروں نے ملک کا بیڑا غرق اور ستیاناس کر دیا ہے۔ اشرافیہ اور عوام کو ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ ریاست ہے، ملک ہے تو ہم ہیں، ملک نہیں تو کچھ بھی نہیں۔

سیاست دان اپنی چالبازیوں اور رنگ بازیوں سے کبھی باز نہیں آئیں گے۔ غریب، غریب سے غریب تر ہو رہا ہے اور امیر، امیر سے امیر تر ہو رہا ہے۔ آج نہ صرف غریب پس رہا ہے بلکہ مڈل کلاس طبقہ بھی بہ مشکل زندگی گزار رہا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ آج عوام کی دسترس سے بنیادی اشیائے ضروریہ بہت دور نکل چکی ہیں، خودکشیوں کا رجحان بہت بڑھ چکا ہے۔

مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے تو دوسری طرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نے بھی ایک عام آدمی کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے، ایک عام آدمی بہت پریشان ہے۔ میرے نزدیک جتنا قصور اشرافیہ کا ہے، اتنا ہی قصور آج عوام کا بھی ہے۔

جب ایک عام آدمی کو سب کچھ معلوم ہے، اس کے علم میں ہے کہ اس کے بنیادی معاشی حقوق کی نفی کون کر رہا ہے، تو وہ خاموش کیوں ہے؟ جو حالات ہمارے ہیں، ان میں قصور ہمارا بھی ہے، لہٰذا آج بحیثیت قوم ہمیں اپنا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ غلط لوگوں سے امیدیں و توقعات وابستہ رکھنا بے وقوفی ہے، یہ کچھ بھی ڈلیور نہیں کریں گے۔

اگر آج ہم خاموش رہے تو اشرافیہ ہمیں اسی طرح دبوچ کر ہمارے بنیادی حقوق کو پامال کرتی رہے گی، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسی قیادت کو سامنے لایا جائے، جو عوام میں سے ہی ہو اور جسے عوام کے مسائل کا بخوبی اندازہ ہو، اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے وہ قیادت سچے دل سے کوشش کرے۔ وسائل سے مالا مال ملک ہونے کے باوجود ہم آج ایک بے سہارا، ایک مفلوج قوم بن چکے ہیں۔

 عوام کے درد و غم کا کسی کو بھی خیال نہیں ہے۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست دان ان سے مخلص نہیں ہیں، اگر سیاست دان قوم اور ملک سے وفادار ہوتے تو آج حالات ایسے نہ ہوتے۔ آج کہنے کو پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، مگر بدقسمتی سے جمہوریت نے عوام الناس کو بنیادی حقوق و سہولیات نہیں دی ہیں۔

ہم اپنے آپ کو ایک آزاد ملک کہتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہماری شروع دن سے ہی معاشی آزادی سلب کر لی گئی ہے، جس کی بدولت آج حالات اس ڈگر پر آ چکے ہیں کہ حق بات کرنا بھی ایک گناہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے پاس نہ صرف معدنیاتی وسائل ہیں بلکہ ہم ایک زرعی ملک بھی ہیں، لیکن ان سب کے باوجود ہمارے پاس آج کوئی بھی مخلص قیادت موجود نہیں ہے، جس کے سبب آج حالات نازک سے نازک تر اور سنگینی کی طرف گامزن ہیں۔ حبیب جالب صاحب نے کیا خوب کہا تھا۔

خوب آزادیء صحافت ہے

نظم لکھنے پہ بھی قیامت ہے

دعویٰ جمہوریت کا ہے ہر آن

یہ حکومت بھی کیا حکومت ہے

دھاندلی، دھونس کی ہے پیداوار

سب کو معلوم یہ حقیقت ہے

خوف کے ذہن و دل پہ سائے ہیں

کس کی عزت یا سلامت ہے

کبھی جمہوریت یہاں آئے

یہی جالب ہماری حسرت ہے

Load Next Story