عالمی ٹیکنالوجی میں پاکستان کے 11 اعزازات

پاکستان کے ایک ادارے کو سائبر تحفظ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر اعزاز دیا گیا

دنیا میں قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا معیار تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کسی ملک کی طاقت کا اندازہ اس کے قدرتی وسائل، صنعتی کارخانوں، زرعی پیداوار اور فوجی قوت سے لگایا جاتا تھا، لیکن اکیسویں صدی میں علم، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت قومی ترقی کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔

آج وہی ممالک عالمی معاشی نظام میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں جو اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنے، نئی ایجادات متعارف کرانے اور سائنسی تحقیق کو عملی زندگی کا حصہ بنانے میں کامیاب ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ امر نہایت خوش آیند ہے کہ ہمارے باصلاحیت نوجوان، ماہرین اور ٹیکنالوجی کے ادارے محدود وسائل اور مختلف مشکلات کے باوجود بین الاقوامی سطح پر اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ حال ہی میں انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منعقد ہونے والی ایک اہم بین الاقوامی تقریب میں پاکستانی اداروں نے گیارہ مختلف شعبوں میں اعزازات حاصل کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں قابل قدر صلاحیتوں کا حامل ملک ہے۔

چھ اکتوبر دو ہزار چھبیس کو جکارتہ میں ایشیائی اور بحرالکاہلی خطے کی کمپیوٹنگ صنعت کی تنظیم کے زیر اہتمام ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی اعزازات کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں خطے کی چھبیس معیشتوں سے تعلق رکھنے والے ٹیکنالوجی اداروں نے شرکت کی۔

اس اہم موقع پر پاکستان کے گیارہ اداروں کو مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر اعزازات سے نوازا گیا۔ یہ کامیابی اس اعتبار سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستانی اداروں نے صرف ایک شعبے میں نہیں بلکہ تعلیم، صحت، زراعت، مالیاتی خدمات، سائبر تحفظ، صنعتی پیداوار، افرادی قوت کی تربیت اور عوامی خدمات جیسے متنوع میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا۔

ان اعزازات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال محض روایتی کاروباری سرگرمیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف شعبوں میں ایسے حل تیار کیے جا رہے ہیں جو مستقبل میں عوامی زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس شاندار کامیابی میں پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کا کردار بھی قابل ذکر ہے، جو ملکی ٹیکنالوجی صنعت کی نمائندگی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔

پاکستان کے جن اداروں نے یہ اعزازات حاصل کیے، ان میں خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو ڈیجیٹل حکومتی خدمات کے شعبے میں نمایاں کارکردگی پر اعزاز دیا گیا۔ یہ کامیابی اس لیے اہم ہے کہ جدید دور میں حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، عوام کو سہولتیں فراہم کرنے اور انتظامی معاملات میں شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹل نظام بنیادی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

اگر سرکاری خدمات کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عام شہری کی دسترس میں لایا جائے تو وقت اور وسائل کی بچت کے ساتھ عوامی مشکلات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح ریمائر نامی ادارے نے انسانی صلاحیتوں کی ترقی اور تربیت کے شعبے میں اعزاز حاصل کیا، جبکہ سمٹری گروپ لمیٹڈ کو عالمی کاروباری خدمات کے میدان میں نمایاں کارکردگی پر سراہا گیا۔

ان کامیابیوں سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں سرکاری اور نجی دونوں شعبے جدید تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستانی اداروں کی کامیابیاں خصوصی توجہ کی مستحق ہیں۔

پاکستان کے ایک ادارے کو سائبر تحفظ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر اعزاز دیا گیا۔ موجودہ دور میں جب دنیا بھر کے مالیاتی ادارے، کاروباری تنظیمیں، سرکاری محکمے اور عام شہری اپنی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید نظام پر انحصار کر رہے ہیں، سائبر تحفظ کی اہمیت غیر معمولی ہوچکی ہے۔

پاکستان کے کسی ادارے کا اس شعبے میں بین الاقوامی اعزاز حاصل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے ماہرین ڈیجیٹل دنیا کے پیچیدہ مسائل کے حل میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں۔ اسی طرح پلانیٹ بیونڈ پاکستان کو عوامی فلاح کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر اعزاز ملا۔ یہ کامیابی اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا اصل مقصد صرف کاروباری منافع حاصل کرنا نہیں بلکہ انسانی زندگی کو آسان بنانا اور معاشرے کے مختلف طبقات کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔

تعلیم کے شعبے میں سینٹر فار ایڈوانسڈ ریسرچ اِن انجینئرنگ کو مصنوعی ذہانت کے استعمال پر اعزاز دیا گیا، جبکہ ڈی ایکس ویژن اے آئی نے صحت کے شعبے میں نمایاں کارکردگی پر بین الاقوامی پذیرائی حاصل کی۔ تعلیم اور صحت کسی بھی قوم کی ترقی کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیمی مواد کو طلبہ کی انفرادی ضروریات کے مطابق ترتیب دینے، اساتذہ کی معاونت کرنے اور تحقیق کے نئے امکانات پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی طرح طبی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی بیماریوں کی تشخیص، طبی معلومات کے تجزیے اور علاج سے متعلق فیصلوں میں ماہرین کی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں دیہی اور دور دراز علاقوں کے عوام کو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتوں تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں، ان شعبوں میں نئی ٹیکنالوجی کا ذمے دارانہ استعمال مستقبل میں مثبت تبدیلیاں پیدا کرسکتا ہے۔

تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ جدید نظام کی افادیت، درستگی، تحفظ اور عوامی دسترس کو بھی یقینی بنایا جائے۔ زراعت پاکستان کی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے۔

جکارتہ کی تقریب میں سائبرڈ پرائیویٹ لمیٹڈ کو جدید زراعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر اعزاز ملنا ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ دنیا بھر میں زرعی شعبہ موسمیاتی تبدیلیوں، پانی کی کمی، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور خوراک کی ضروریات جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی مدد سے زمین کی کیفیت، فصلوں کی ضروریات، موسمی حالات اور زرعی وسائل کے بہتر استعمال کے بارے میں مفید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اگر پاکستان میں ایسی ٹیکنالوجی کو کسانوں کی عملی ضروریات کے مطابق فروغ دیا جائے تو زرعی پیداوار میں بہتری اور وسائل کے ضیاع میں کمی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح یونیکرو سلوشنز کو مالیاتی خدمات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر اعزاز حاصل ہوا، جو ملکی مالیاتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔پاکستانی ادارے گیک اِن کو مستقبل کی افرادی قوت اور جدید مہارتوں کے شعبے میں جبکہ اسمارٹ آئی ایس پرائیویٹ لمیٹڈ کو صنعتی پیداوار اور رسد کے نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر اعزاز دیا گیا۔

ان دونوں شعبوں کی اہمیت آنے والے برسوں میں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ دنیا میں صنعتی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ روایتی ملازمتوں کی نوعیت بدل رہی ہے اور نئی مہارتوں کی ضرورت پیدا ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے نوجوانوں کو محض ڈگریاں فراہم کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ انھیں عملی تربیت، تخلیقی سوچ، جدید کمپیوٹر علوم اور بدلتی ہوئی عالمی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

تعلیمی اداروں، صنعتوں اور حکومت کے درمیان مضبوط تعاون کے بغیر اس مقصد کا حصول مشکل ہوگا۔ عالمی اعزازات خوشی کا باعث ضرور ہیں، لیکن ان کی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آئے گی جب ان کامیابیوں کے اثرات قومی معیشت، روزگار اور عوامی سہولتوں میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔

Load Next Story