تیل کی سپلائی کی ضمانت
28 فروری 2026 کو شروع ہونے والا مشرق وسطیٰ کا تنازع اب نئی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پہلے ایران، اسرائیل، امریکا اور خلیجی ریاستیں شریک تھیں، اب سعودی عرب اور یمن آمنے سامنے ہیں۔
10 ستمبر 2026 کو سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملے ہوئے، اور 10 اور 11 ستمبر کو حوثیوں نے بحر احمر کے مغربی ساحل پر تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے مخا، ذو باب، جزائر حنیش اور جزیرہ میون (پریم) پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح باب المندب مکمل طور پر حوثیوں کے کنٹرول میں آ گیا۔ حوثی ترجمان نے واضح کیا کہ بحری جہاز رانی تمام کمپنیوں کے لیے محفوظ ہے، ’’سوائے سعودی جہازوں کے ۔‘‘
اس صورتحال نے تیل کی قیمتوں میں اضافے، درآمد کنندہ ممالک میں مہنگائی اور تیل کی سپلائی کے مکمل بند ہو جانے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ خلیجی ممالک سے تیل خریدنے والوں کے لیے اصل مسئلہ اب قیمت نہیں، بلکہ سپلائی کے مکمل بندش کا ہے۔
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن، جو تقریباً 1200 کلومیٹر طویل ہے، مشرقی صوبے سے بحرِ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ تک جاتی ہے اور آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ ہے، مگر اس کی گنجائش تقریباً 7 ملین بیرل یومیہ ہے۔
خیال رہے کہ دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اس لیے اس راستے کی اہمیت عالمی سطح پر حساس ہے۔ اصل مسئلہ ایشیائی ممالک کو تیل کی سپلائی کا ہے، کیونکہ حوثی اب باب المندب پر قابض ہیں اور کسی بھی وقت تیل کے جہازوں پر حملہ ممکن ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب اپنا تقریباً 70 فیصد تیل ایشیا کے ممالک جیسے چین،آسٹریلیا، فلپائن، جاپان، جنوبی کوریا، انڈیا اور پاکستان کو فروخت کرتا ہے، جبکہ یورپ کو صرف تقریباً 12 فیصد تیل جاتا ہے۔
سعودی معیشت آج بھی تیل کے بل بوتے پر کھڑی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں محفوظ ہوں۔ اس کے لیے سعودی عرب کو موثر سفارتی کوششیں کرنی پڑیں گی، مذاکرات کرنے پڑیں گے یا ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال بھی کرنا پڑے تو گریز نہ کیا جائے۔
موجودہ تنازع میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بھی مختلف رائے پائی گئی ہیں، جبکہ حوثیوں کو ایران کی حمایت نے صورتحال مزید گمبھیر کر دی ہے۔ ممکن ہے اگلے چند مہینوں میں امن بحال ہو جائے، مگر مستقبل کی بے امنی کا اندیشہ ختم نہیں ہوگا۔
یہ بات واضح رہے کہ یہ منصوبہ ابھی کسی بھی سطح پر زیر ِ غور نہیں ہے، بلکہ یہ مصنف کی جانب سے ایک تجویز ہے۔ سعودی عرب کے پاس ایک راستہ موجود ہے، جس سے وہ باب المندب یا آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود بھی اپنی تجارت جاری رکھ سکتا ہے۔
سعودی عرب اپنی تجارت اور معیشت کی بقا کے لیے ایک تیل کی مزید پائپ لائن عمان کے بندرگاہ دقم تک بچھا سکتا ہے۔ یہ پائپ لائن ہزار سے 1300 کلومیٹر طویل ہو سکتی ہے اور اس کے راستے میں ربع الخالی کا وسیع ریگستان ہے، جس میں پائپ لائن بچھانا دشوار تو ہے مگر ناممکن نہیں۔
عمان کی تین بڑی بندرگاہوں میں سے ایک دقم کو چند سال قبل ہی اپنی تجارتی ضروریات، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے قابلِ ذکر ترقی دی جا چکی ہے، جس پر مستقبل میں بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر مزید ترقی کی ضرورت پیش آئے گی۔ یہ بندرگاہ براہ راست بحر ِ عرب پر موجود ہے۔عمان کی تین بڑی بندرگاہوں میں مسقط، دقم اور صلالہ شامل ہیں۔
مسقط اپنے محل وقوع کی وجہ سے پائپ لائن کے لحاظ سے موزوں نہیں، کیونکہ وہاں پہاڑوں کے درمیان سے پائپ لائن گزارنا انتہائی دشوار ہے۔ صلالہ نہ صرف زیادہ دور ہے بلکہ یمن کی سرحد کے بھی نزدیک ہے، جس سے سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
دقم ان دونوں کے درمیان متوازن فاصلے پر واقع ہے، جو اسے اس منصوبے کے لیے سب سے موزوں بناتا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ باب المندب اور ہرمز کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھی سعودی عرب اپنے ایشیائی ممالک کو تیل کی سپلائی جاری رکھ سکے۔
یہ امید کی جا سکتی ہے کہ عمان اس منصوبے کے لیے سعودی عرب سے مکمل تعاون کرے گا۔سعودی عرب کی تیسری پائپ لائن دراصل اس بات کی ضمانت ہے کہ تیل کی سپلائی بلا کسی رکاوٹ کے کم از کم ایشیائی مارکیٹ تک جاری رہے، جبکہ نہر سوئز کا راستہ تو کھلا ہی رہے گا، یعنی انتہائی خراب حالات میں، جب باب المندب بھی بند ہو اور ہرمز بھی بند ہو جائے، تب بھی تجارت جاری رہے۔
گو کہ سعودی عرب کی پوزیشن سمندری راستوں کے بند ہونے کی وجہ سے نازک ہے، لہٰذا ان کو مستقبل کی پیشگی منصوبہ بندی کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے اور پھر اس تجویز کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔
مجوزہ منصوبہ یقینا ایک مشکل اور مہنگا منصوبہ ہے اور اس کو بنانے میں نہ صرف اربوں ڈالر کی ضرورت ہے بلکہ بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری میں بھی رکاوٹیں ڈالی جا سکتی ہیں، مگر اس کے باوجود بھی دنیا کے تمام بڑے اور اہم منصوبے اس قسم کے خطرات سے خالی نہیں ہوتے۔
خلیجی ممالک میں ایران کے علاوہ صرف دو ہی ممالک ایسے ہیں جن کو کھلے سمندر تک رسائی حاصل ہے، جن میں ایک عمان ہے۔ یہ منصوبہ دراصل سعودی عرب کی آزاد تجارت میں اہم کردار ادا کرے گا، جس کے بعد اس کے پاس تین ممکنہ تجارتی ذرائع ہوں گے۔
یہ منصوبہ اگر کامیابی سے پایہ تکمیل کو پہنچ جائے تو اس سے ایران کی آبنائے ہرمز کی برتری کو بے اثر کرنے میں مدد ملے گی، جو یقینی طور پر ایران کے لیے باعث ِ تشویش ہو سکتا ہے۔دقم تک پائپ لائن نہ صرف سعودی تجارت کے لیے اہم ہوگی بلکہ اس میں قطر اور کویت بھی اپنا حصہ ڈال کر شریک ہو سکتے ہیں۔
اس طرح یہ خلیج کی مشترکہ پائپ لائن بھی بنائی جا سکتی ہے، جہاں تین ممالک اپنے تیل کو آزادانہ عالمی منڈی میں لا سکتے ہیں، جبکہ عمان کو اپنی بندرگاہ کے استعمال اور زمینی حیثیت کے عوض کرایہ اور آمدنی الگ سے حاصل ہوگی۔ اسی منصوبے کی اگر مزید توسیع کی جائے تو بلوچستان کے ساحل پر گوادر یا پسنی پر تیل کے ذخائر کے لیے بھی انتظامات کیے جا سکتے ہیں، جو نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ خود خلیجی ممالک کی تجارت میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
خیال رہے کہ دقم میں بھارت نے بھی اپنی تجارتی اور دفاعی امور میں دلچسپی ظاہر کی ہوئی ہے، بلکہ مبینہ طور پہ وہ ایک فوجی اڈا بھی قائم کرنا چاہتا ہے لہٰذا پاکستان کی منصوبہ میں شمولیت پہ ممکنہ طور پر بھارت کی طرف سے عمان پر سفارتی دباؤ ڈالا جا سکتا ہے، مگر سعودی عرب کی موجودگی میں ممکن ہے یہ دباؤ اتنا موثر نہ ہو۔
یہ منصوبہ جیسا کہ تجویز کیا جارہا ہے تو دو ممالک یعنی عمان اور سعودی عرب کے درمیان عمل میں لایا جائے گا، مگر اس میں مزید ممالک بھی شریک کیے جا سکتے ہیں، جس سے اخراجات میں بھی کمی آ سکتی ہے اور آخر میں یہ ایک بین الاقوامی سطح کا معاہدہ بن سکتا ہے، جس میں ایشیائی ممالک جو اپنے تیل کے لیے سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے خریدتے ہیں، اس منصوبے میں شریک ہو سکتے ہیں۔
اس میں بلا شبہ کئی خلیجی ممالک کا معاشی فایدہ ہے۔ امریکا کا اس منصوبے پر منفی رد عمل آنا متوقع نہیں، کیونکہ یہ منصوبہ ایران کی خلیج فارس خصوصاً آبنائے ہرمز پر اس کی علاقائی برتری کو کم کرنے میں معاون ہوگا۔
سعودی عرب کو اپنی معیشت اور ملکی دفاع کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مجوزہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے کوئی بڑا سودا نہیں، کیونکہ اس کے ذریعے اس کی تجارت کی حفاظت کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیر معمولی اقدامات ہی ملکوں کی حفاظت اور ان کی خود مختاری کی ضمانت ہوتے ہیں، لہٰذا سعودی عرب، عمان اور خلیج کے دیگر ممالک کو مل کر اس منصوبے پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنا ہوگا۔