تعلیمی اداروں کا کردار

استاد کی شخصیت اُس کے شاگرد کے لیے مثالی ہوتی ہے

ہر انسان کی کردار سازی میں اُس کے اسکول کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کا درجہ حاصل ہے مگر ماڈرن دور کے بچے عمومی طور پر ماں کی گود والی درسگاہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔ آج کا بچہ بڑا ہو کر کیسا انسان بنے گا، اس بات کا تعین اُس کے تعلیمی ادارے کا معیار کرتا ہے۔

معاشرے کو مہذب بنانا اور اُس کے افراد کی تعلیم و ترتیب کا خیال رکھنا ایک مکتب کا اولین فرض ہے لیکن پیسہ بے فایدہ باتوں کو بھلانے کی طاقت باخوبی رکھتا ہے۔تعلیم فراہم کرنا ایک مقدس فعل ہے مگر علم کی سودے بازی کسی طور بھی قابل قبول عمل تصور نہیں کی جا سکتی ہے۔

ایک ماں کی نظر میں جس طرح اُس کے تمام بچے برابر ہوتے ہیں، بالکل ویسے ہی ایک استاد کے لیے بھی اُس کے سارے طالبِ علم ہمسر ہونے چاہئیں، اُن کے درمیان بھید بھاؤ کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی ہے۔ دورِ حاضر میں تقریباً تمام اسکولوں کا ایک خاص چلن بن چکا ہے کہ اپنے ادارے کے ذہین بچوں پر خاص توجہ مرکوز کرنا ہے اور اوسط درجے والے طالب علموں کو اپنے دست شفقت سے محروم رکھنا ہے۔

یہ سارا کھیل دراصل نمبروں کا ہے، چھوٹی کلاسز سے تیز ذہن رکھنے والے طلبا و طالبات کی ایک فوج اس مقصد سے تیار کی جا رہی ہوتی ہے کہ وہ وقت آنے پر بورڈ کے امتحانات میں شاندار نمبروں سے کامیابی حاصل کرکے اپنے تعلیمی ادارے کو شہر کے بہترین اسکول ہونے کا اعزاز دلوا سکیں۔

جس کو بھرپور طریقے سے استعمال کرکے ہمارے معاشرے کے اُن والدین کی توجہ اپنے ادارے کی جانب مبذول کروائی جا سکے جو اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے کافی فکرمند رہتے ہیں۔ جب والدین کسی تعلیمی ادارے کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن ہونگے تو اُن کا بچہ ظاہر ہے اُسی ادارے کا حصہ بنے گا اور پھر وہ بچہ اپنے ہمراہ کئی اور بچے لائے گا جس کے باعث اُس اسکول کی چاندنی ہو جائے گی اور اسکول کے مالکان پر دولت کی بارش۔

عقل و فہم کو ملحوظ خاطر رکھ کر بات کی جائے تو خوش نصیب طالب علموں پر استاد کی تھوڑی توجہ بھی بہت کا کام کرتی ہے۔ اصل دھیان کی ضرورت تو کمزور ذہن والے بچوں کو ہوتی ہے مگر بڑوں کی لالچ نے بچوں کے ذہنوں کو چھوٹی عمر سے ہی برتری اور کمتری جیسے احسات سے متعارف کروا دیا ہے۔

استاد کی شخصیت اُس کے شاگرد کے لیے مثالی ہوتی ہے، جب وہی مثالی شخصیت اپنے مخصوص طالبعلموں پر فریفتہ ہوگی تو توجہ پانے والے بچے خود کو اعلیٰ تصور کرنے لگیں گے جبکہ نظرانداز ہونے والے بچے احساس کمتری کا شکار ہوجائیں گے اور یہ بات دونوں طرح کے بچوں کی تربیت کے عمل کو بری طرح متاثر کرنے کے لیے کافی ہے۔

آج کی دنیا جہاں بے شمار مسائل سے دوچار ہے وہیں ذہنی بیماریوں کا وار بھی انسانوں پر تیزی سے جاری و ساری ہے۔ ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ زمانہ حال بہت سارے حوالوں سے انسان کی ذہنی نشوونما کو متاثر کر رہا ہے مگر ساتھ ہم اُن عوامل کو دیکھنے سے کیوں قاصر ہیں جو ہمارے ذہنوں پر مسلسل بوجھ بڑھا رہے ہیں۔

انسان کے اندر ذہنی الجھنوں کے بیج اُن کے بچپن کے ناقابلِ فراموش واقعات و حادثات پیدا کرتے ہیں جو اُن کے جسم میں عمر کے ساتھ ساتھ بیج سے پودے اور پودے سے تناور درخت کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ آپ کی انجانے میں کی جانے والی معمولی حرکت سامنے والے کے لیے کتنی بڑی زیادتی ثابت ہو رہی ہے اس کا علم شاید ہی آپ کو کبھی ہو مگر سامنے والے کا کرب آپ کی زندگی میں آنے والی خوشیوں میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔

تعلیم کا ذکر ہمیشہ تربیت کے ہمراہ ہوتا ہے کیونکہ ایک کے بغیر دوسرا بالکل ادھورا تصور کیا جاتا ہے، موجودہ دور کی تعلیم ہر لحاظ سے ماضی کے مقابلے میں جدید اور بہترین ہے مگر تربیت کا اس میں شدید فقدان پایا جاتا ہے جو اس کی شان کو گھٹا کر بے مول کر دیتا ہے۔

یہ کوئی پچھلی صدی کی بات نہیں ہے جب درسگاہیں اپنے طالب علموں کی علمی پیاس بجھانے کے ساتھ انھیں معاشرے میں اُٹھنے، بیٹھنے اور بول چال کے آداب سکھانے کے علاوہ ہنرمند بھی بناتی تھیں۔ آج کے ماڈرن والدین اپنے بچوں کو تمیزدار بنانے کی ذمے داری مہنگے اور اعلیٰ معیار والے اسکولوں پر لگا کر خود بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔

دورِ حاضر میں اسکول والوں کی نظر میں بچے کا باادب ہونا ثانوی حیثیت رکھتا ہے، اُن کو مطلب صرف اپنے ادارے میں زیر تعلیم بچوں کے قابلِ تحسین رزلٹ اور زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کے مختلف طریقے ایجاد کرنے سے ہے۔

بچہ اگر اپنی ذہانت کے جھنڈے گاڑ رہا ہو اور فرفر انگریزی بول رہا ہو تو پھر وہ تمیزدار ہو یا بدتمیز اُس کے ماں، باپ اور اسکول کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے مگر معاشرے کو اُس کی تربیت سے بے انتہا فرق پڑتا ہے۔

بچپن میں سیکھی ہوئی اچھی، بری باتیں انسان کی شخصیت کے مثبت یا منفی ہونے پر مختص ہوتی ہیں اور وقت رہتے اگر بچوں کو سیدھی راہ نہ دکھائی جائے اور اُن کو اچھے، برے کی پہچان نہ کروائی جائے تو اس کا خمیازہ صرف ایک فرد یا گھرانے کو نہیں بلکہ پورے معاشرہ کو بھگتنا پڑتا ہے۔ زمانہ حال میں اپنے اردگرد ہم جس طرح پڑھے لکھے گھرانوں کے ہونہار سپوتوں کو جانوروں سے بدتر کوئی مخلوق بنتے دیکھ رہے ہیں تو اس کی واحد وجہ تربیت کے بغیر تعلیم کا حصول ہے۔

قوموں کے روشن مستقبل کا دارومدار اُن کے تعلیمی اداروں کی کارکردگی پر مبنی ہوتا ہے۔ جب کسی قوم کی درسگاہیں بنا تفریق اپنا کام سچی لگن سے انجام دیں گی تو وہاں معاشرے کی باگ ڈور تعلیم و تربیت کی چاشنی سے تیار نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہوگی جو کہ دنیا کے ہر کونے میں لازوال ترقی کی شرط سمجھی جاتی ہے۔

 

Load Next Story