ایک تاریخی جائزہ

آزادیِ صحافت کا دفاع کسی مخصوص سیاسی گروہ کی غیر مشروط حمایت نہیں

برصغیر میں مطبوعہ صحافت کا ظہور اٹھارہویں صدی کے اواخر میں ہوا، لیکن اس کی سیاسی معنویت اس وقت گہری ہوئی جب اخبار محض اطلاعات کی ترسیل سے آگے بڑھ کر عوامی شعور کی تشکیل اور استعماری اقتدار کے احتساب کا ذریعہ بننے لگا۔ برطانوی حکمرانی کے لیے وہ صحافت نسبتاً قابل قبول تھی جو سرکاری اعلانات کی اشاعت تک محدود رہے، مگر جب اخبارات نے سیاسی محرومی، معاشی استحصال اور شہری حقوق کی پامالی کو موضوع بنایا تو ان کے گرد پابندیوں اور تعزیری اقدامات کا حصار تنگ ہونے لگا۔

1919ء کا رولٹ ایکٹ اسی نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کی نمایاں مثال تھا، جس نے سیاسی سرگرمیوں اور شہری آزادیوں کے بارے میں شدید خدشات پیدا کیے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے امپیریل لیجسلیٹو کونسل سے استعفیٰ دیا۔

اسی برس جلیانوالہ باغ کا قتل عام ہوا، جس نے برطانوی اقتدار کے جابرانہ کردار کو تاریخ کے سامنے بے نقاب کردیا۔ ان واقعات کی اہمیت محض ان کے سیاسی نتائج میں نہیں، بلکہ اس اصول میں بھی ہے کہ قانون کی ظاہری قانونی حیثیت اسے لازماً منصفانہ نہیں بناتی۔ کسی قانون کی اخلاقی صحت کا انحصار اس امر پر بھی ہے کہ وہ شہری آزادیوں، منصفانہ سماعت اور انسانی وقار کے تقاضوں سے کس حد تک ہم آہنگ ہے۔

اسی دور میں بنجمن گائے ہورنی مین کی ادارت میں شائع ہونے والے بمبئی کرانیکل نے آزادی پسند صحافت میں اہم کردار ادا کیا۔ ہورنی مین نے جلیانوالہ باغ کے سانحے اور برطانوی حکام کے اقدامات سے متعلق حقائق کو منظرعام پر لانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں انھیں ہندوستان سے بے دخل کردیا گیا۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ معلومات پر اجارہ داری قائم رکھنے کی خواہش رکھنے والا اقتدار اکثر خبر کے مندرجات سے زیادہ اس کے اثرات سے خوف زدہ ہوتا ہے۔ تاہم صحافتی آزادی کا حقیقی معیار صرف جرات مندانہ مخالفت نہیں۔ خبر کی صحت، شہادت کی قوت، زبان کی دیانت اور مخالف موقف کو منصفانہ انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت بھی اسی قدر اہم ہیں، اگر صحافت اپنے مخالف کے لیے وہی معیار قبول نہ کرے جس کا مطالبہ وہ ریاست سے کرتی ہے تو اس کی اخلاقی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔

آزادیِ صحافت کا دفاع کسی مخصوص سیاسی گروہ کی غیر مشروط حمایت نہیں، بلکہ صداقت کے ایک ایسے اصول کی پاس داری ہے جو ہر حکومت، ہر جماعت اور ہر طاقت ور ادارے پر یکساں لاگو ہو۔قیامِ پاکستان نے ایک ایسے نئے دستوری اور سیاسی نظام کی امید پیدا کی تھی جس میں آزادی کی جدوجہد کے دوران حاصل ہونے والے تجربات شہری حقوق کے تحفظ میں بروئے کار آئیں گے، لیکن مملکت کے ابتدائی برسوں ہی میں قومی سلامتی، انتظامی اختیار اور آزادانہ اظہار کے مابین تناؤ نمایاں ہونے لگا۔

کیا کسی غلط خبر کا مناسب جواب صرف پابندی ہے یا اصلاح، تصحیح، حق جواب اور متناسب قانونی کارروائی کے ذریعے بھی جواب دہی یقینی بنائی جاسکتی ہے؟ ریاستی مفاد کے نام پر کارروائی کرتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کا مقصد غلطی کا ازالہ ہے یا ایک مثال قائم کرکے دوسرے اداروں کو خوف زدہ کرنا۔ جب سزا کا تناسب جرم سے غیر متعلق ہوجائے تو قانون کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے اور ریاستی فیصلوں کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔

اس دور کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ اخبار کا زندہ رہنا اور آزاد رہنا دو الگ حقائق ہیں۔ کوئی مطبوعہ ادارہ روزانہ شائع ہوتے ہوئے بھی اپنی تنقیدی خود مختاری کھو سکتا ہے۔ صحافت کی اصل زندگی اس کے صفحات کی تعداد میں نہیں، اس کے سوال اٹھانے کی آزادی میں ہوتی ہے۔

صحافی خبر کی اہمیت جانتے ہوئے بھی ممکنہ نتائج کے اندیشے سے اسے نظرانداز کردیتا ہے، مدیر کسی حساس موضوع کو محض تنازع سے بچنے کے لیے موخر کردیتا ہے ۔ نتیجتاً خبر شائع تو ہوتی ہے، لیکن اس کے انتخاب اور پیش کش کے عمل پر ایک غیر مرئی دباؤ اثرانداز رہتا ہے۔ یہ کیفیت محض صحافتی مسئلہ نہیں، عوام تک پہنچنے والی معلومات کے معیار اور ریاست کے اپنے حالات سے باخبر رہنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔

اسی لیے آزادیِ صحافت کے تحفظ کو صرف آئینی شقوں یا حکومتی یقین دہانیوں تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔ اس کے لیے معلومات تک رسائی کے مؤثر قوانین، آزاد عدلیہ، شفاف انتظامی طریقہ کار، صحافیوں کی جسمانی و معاشی سلامتی اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کی ادارتی خود مختاری ضروری ہیں۔ اشتہارات کی تقسیم واضح اصولوں کے تابع ہو، ریاستی ادارے اپنے اقدامات کے متعلق معقول سوالات کا جواب دینے کے لیے آمادہ رہیں۔

تاہم اس پورے مقدمے کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ آزادیِ اظہار کسی کو جھوٹی تہمت، بے بنیاد الزام، دانستہ گمراہ کن خبر یا کسی شہری کی نجی زندگی میں بلاجواز مداخلت کا اختیار نہیں دیتی۔ صحافت کو اپنی غلطیوں کی تصحیح، متاثرہ فریق کے مؤقف کی منصفانہ اشاعت اور خبر و تبصرے کے درمیان امتیاز قائم رکھنے کے لیے مؤثر داخلی نظام درکار ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات کو سنسنی خیز عنوانات کے ذریعے حقیقت کا درجہ دینا، سیاسی یا تجارتی مفاد کے تحت مواد کی ترتیب بدلنا اور مخالفین کی کردار کشی کرنا صحافتی آزادی کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کرتا ہے، لیکن ان نقائص کی اصلاح کا طریقہ بھی شفاف، قانونی اور متناسب ہونا چاہیے۔ غلطی کی موجودگی پورے ادارے کو خاموش کرانے کا جواز نہیں بن سکتی، جس طرح آزادی کا دعویٰ پیشہ ورانہ ذمے داری سے فرار کا جواز فراہم نہیں کرتا۔

پاکستان کی صحافتی تاریخ ہمیں کسی ایک عہد یا حکومت کے خلاف فیصلہ صادر کرنے کے بجائے ایک مستقل اصول سمجھاتی ہے۔ غیر متوازن اختیار ہمیشہ جواب دہی سے بچنے کی طرف مائل ہوسکتا ہے، اس لیے آزاد اداروں کی موجودگی کسی بھی دستوری ریاست کے لیے ناگزیر ہے۔

صحافت کی آزادی حکمرانوں کی عنایت نہیں، شہریوں کے اس حق سے وابستہ ہے جس کے تحت وہ اپنے نام پر کیے جانے والے فیصلوں سے باخبر رہ سکیں اور ان پر سوال اٹھا سکیں۔ ریاست کا وقار تنقید سے محفوظ رہنے میں نہیں، تنقید کا سامنا کرنے کی صلاحیت میں ہے، اور صحافت کا وقار بلند آہنگ دعووں میں نہیں، قابلِ تصدیق حقائق اور غیر جانب دارانہ طرزِ عمل میں۔

تاریخ کے اوراق اسی وقت زندہ رہتے ہیں جب ان سے حال کے لیے اصول اخذ کیے جائیں۔ آزادیِ اظہار کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ریاست اختلاف کو برداشت کرے، صحافت اپنی ذمے داری پہچانے اور قانون دونوں کو ایک ایسے مشترکہ دائرے میں رکھے جہاں طاقت سے زیادہ اہمیت دلیل، خوف سے زیادہ وقعت صداقت اور خاموشی سے زیادہ قدر جواب دہی کی ہو۔

Load Next Story