کمزور طبقات کی کہانی

امیر اور خوشحال طبقات کی اولین ترجیح اپنے کاروبار کا تحفظ یقینی بنانا ہے

salmanabidpk@gmail.com

معاشیات کی کہانی ایک ایسی کہانی ہے جس میں اشرافیہ کا اپنا سچ ہے جبکہ مڈل کلاس،لوئر مڈل کلاس اور معاشرے کے سب سے کمزور اور محروم طبقات کا سچ اور ہے۔اس کہانی میں ہمیں ان طبقات کے درمیان مختلف نوعیت کے تضادات اور ٹکراو دیکھنے کو ملتے ہیں جو ایک دوسرے میں خلیج پیدا کرتے ہیں۔

حالیہ عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت اور عدم مساوات جزوی طور پرمعیشت کی بیڈ مینجمنٹ اور منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔جس کی وجہ سے لوگوں کی آمدنی اوراخراجات میں عدم توازن ہے۔

اصل میں جب مجموعی طور پر ہماری معیشت دراصل اشرافیہ کی معیشت ہے جبکہ غیرقانونی دولت کمانے والے مافیاز بھی نظام کا حصہ بن گئے ہیں تو ایسے میں ہم پسماندہ اورکمزور طبقات کو ترقی کے سفر میں کیسے شامل کرسکیں گے۔

امیر اور خوشحال طبقات کی اولین ترجیح اپنے کاروبار کا تحفظ یقینی بنانا ہے اور حکومتیں بھی ایسی پالیسیاں اور قانو ن سازی کرتی ہیں جو اشرافیہ کے مفادات کوتحفظ دے سکیں۔ایک المیہ یہ ہے کہ پسماندہ ماندہ ملکوں میں حکومت ہی کاروبار ہوتا ہے اور کاروبار حکومت ہوتی ہے۔

بڑے بڑے کاروباری حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں۔ایسے میں عام آدمی متاثر ہوتے ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ اس موجودہ نظام معیشت میں ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان کا معاشی ماڈل غریب طبقات کو ترقی دینے سے قاصر ہے۔ نئی نسل اس معاشی نظام سے نالاں نظر آتی ہے ۔

ایک طرف نئے روزگار کا پیدا نہ ہونااور پڑھی لکھی نسل میں بڑھتا ہوا عدم تحفظ تو دوسری طرف حکومتی سطح پر مستقبل کی معاشی منصوبہ بندی کا فقدان حالات کی خرابی کے ایک نئے منظر کو نمایاں کرتا ہے۔

یہاں نہ لانگ ٹرم،مڈٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسیاں اور نہ ان پالیسیوں کے درمیان کوئی ہمیں ہم آہنگی اور باہمی تعاون کے امکانات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ وہ پڑھا لکھا نوجوان جو بظاہر ایک اچھی جاب سے منسلک ہے اس کے بقول وہ اپنی آمدنی میں نہ تو اپنے بچوں کو اچھے اسکولوں میں پڑھاسکتا ہوں اور نہ ہی کسی بڑے شہر میں ڈھائی مرلہ کا گھر بناسکتا ہے کیونکہ اب بڑے شہروں میں رہنا آسان کام نہیں رہا۔

نئی پڑھی لکھی نسل ہو یا کم پڑھے لکھے روزگار سے وابستہ افرادکے اہم مسائل میں بچوں سے جڑی تعلیم اور صحت سمیت ٹرانسپورٹ،نجی مکان بہت زیادہ مسائل پیدا کررہے ہیں۔حکومت بہت سے منصوبوں کا اعلان تو کرتی ہے مگر ان کی کوئی جامعیت نہیں ہوتی اور ان کے مراحل اور طریقہ کار قرضوں کی حصولی کا اتنا مشکل ہوتا ہے یا ان پر شرح سود زیادہ ہوتا ہے تو ان تک رسائی آسان نہیں ہوتی۔

جب تک حکومتی سطح سے نئی نسل کو کھڑا کرنے کے لیے مکمل طور پر اپنے کاروبار کے لیے بلاسود قرضے نہیں دے گی تو یہ نئی نسل کیسے معاشی طور پر خود کو مضبوط بناسکے گی۔جب تک حکومت کی ترجیحات میں نئی نسل جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جو پڑھی لکھی ہیں ان کو معاشی ترقی کے عمل میں نہیں جوڑا جائے گا تو یہ نسل معاشی طور پر بڑا بوجھ بن جائے گی۔

اس پڑھی لکھی نسل کے مقابلے میں نچلی سطح پر جائیں تو وہاںغربت اور معاشی بدحالی کی کہانی زیادہ نظر آتی ہے۔اس طبقہ کے تو عملا بنیادی نوعیت کے حقوق ہی کی پاسداری نہیں ہورہی اور ان کی شرح غربت میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

اس طبقہ سے جڑے بچوں اور بچیوں میں خوراک کی کمی کا بحران زیادہ سنگین نظر آتا ہے۔بنیادی طور پر ہمارے پاس معاشی ترقی کا جو ماڈل ہے اول وہ خیراتی یا چیرٹی کی بنیاد پر ہے جو لوگوں کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کی بجائے ان کوخیراتی سہاروں پر کھڑا کرتا ہے۔

دوئم یہ سارا خیراتی سطح کا کھیل حکمرانوں کی تشہیر پر مبنی ہے۔اصولی طور پر ہمیں لوگوں کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنا ہے نہ کہ ان کوبھکاری بنانا ۔پاکستان کو معاشی سطح پر ایک جامع اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

ورلڈ بینک،آئی ایم ایف سمیت کئی اور معاشی عالمی تھنک ٹینک پاکستان کو خبردار کرچکے ہیں کہ ان کی حکمت عملی اور طرز عمل ملک کو معاشی طورپر مستحکم نہیں کرسکے گا۔پاکستان کو معاشی بہتری کے لیے اپنے داخلی معاشی سمیت دیگر اداروں میں ایک بڑی سرجری درکار ہے۔

یہ جو امیر اور غریب طبقہ کے درمیان معاشی خلیج بڑھ رہی ہے اس کا علاج ہر صورت میں تلاش کرنا ہوگا۔کیونکہ اگر اس مرض کا علاج تلاش نہ کیا تو اس سے طبقاتی خلیج بڑھے گی۔پاکستان کو عام آدمی کی معاشی سطح کی حالات کی بہتری کے ایک مکمل طور پر اسٹکچرل اصلاحات درکار ہیں۔

لیکن یہ کہانی طاقت ور طبقات اور کمزور طبقات کے درمیان جاری چپقلش کی کہانی ہے۔کل ہی کچھ نوجوانوں سے بات چیت ہورہی تھی۔ان کے بقول ایک طرف روزگار کا نہ ہونایا محدود روزگار اور اس پر ٹریفک کے بھاری چالان نے ہماری کمر توڑ دی ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ٹریفک پولیس کو روزانہ کی بنیاد پر چالان کا ایک خاص ٹارگٹ دیا جاتا ہے جو اسے پورا کرنا ہوتا ہے۔ میں جرمانے یا چالان کے خلاف نہیں لیکن جرمانے کی رقم منصفانہ ہونی چاہیے جو لوگ ادا کرسکیں۔

حکومتوں کا کام لوگوں کو معاشی ریلیف اور ان کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ہوتا ہے۔لیکن ہمارے حکمرانوں کی پالیسی ایک بڑے تضاد کے کھیل سے جڑی ہوئی ہے جو نظام میں مزید نئے مسائل کو جنم دینے کا سبب بنتی ہے۔لیکن سوال یہ ہی ہے اس وقت ملک کے معاشی نظام کی جو کہانی محرومی اور بدحالی کی سیاست سے جڑی ہوئی ہے اس کا احساس حکمرانوں کو جگانے میں مدد دے گا اور وہ کچھ تبدیل کرنے کے لیے تیار ہونگے یا یہ کہانی ایسے ہی چلتی رہے گی۔

Load Next Story