مشرق وسطیٰ کی سنگین صورتحال اور عالمی طاقتیں
فوٹو: فائل
مشرق وسطیٰ کی صورت حال تاحال سنگین ہے، یمن کی حوثی ملیشیا سعودی عرب کو نشانہ بنا رہی ہے جبکہ اگلے روز سعودی فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے ریاض اور بحیرۂ احمر میں جن اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، انھیں ناکام بنا دیا گیا ہے، یوں دیکھا جائے تو معاملات خاصے گھمبیر نظر آ رہے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان بھی تاحال کشیدگی برقرار ہے۔ یہاں بھی جنگ کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ نے اگلے روز اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اپنی ذمے داریاں پوری کرے گا۔
پاکستان اس معاہدے کا رکن ہے اور مکمل طور پر اس میں شامل ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے یمن کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف مستقل اور واضح ہے۔ تنازع صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔
پاکستان چاہتا ہے کہ علاقائی تنازعات پرامن طریقے سے حل ہوں۔ ادھر وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے پاکستان میں نئے تعینات ہونے والے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملاقات کی ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے سعودی قیادت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف یمن کی حوثی ملیشیا کے حملوں میں حالیہ اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوںکے نتیجے میں پاکستانی شہری سمیت قیمتی جانیں ضایع اور متعدد بے گناہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اور مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات میں تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے ان کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ اس سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ سعودی عرب نے ہر مشکل موقع پر پاکستان کی مدد کی ہے اور ہر عالمی فورم پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔
ادھر پاکستان نے بھی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو اولین ترجیح میں رکھا ہے۔ مکہ معاہدہ کے تحت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ترکیہ بھی سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرے گا۔ پاکستان کا یمن کے تنازع کے بارے میں یہ مؤقف بھی واضح ہے کہ اس کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے لیکن جس انداز میں حوثی ملیشیا سعودی عرب پر حملے کر رہی ہے اور بحیرۂ احمر کے عالمی تجارتی روٹ کو متاثر کر رہی ہے، اس کے حوالے سے بھی پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔
پاکستان سعودی عرب کا ساتھ دے گا۔ عالمی اور ملکی میڈیا نے بتایا ہے کہ سعودی فوجی اتحاد نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض، ینبع اور بحیرہ احمر کی جانب داغے گئے میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان میجرجنرل ترکی المالکی نے جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں نے اگلے روز مختلف علاقوں اور بحیرہ احمر کے اوپر چھ فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جسے تباہ کر دیا گیا ہے۔ جنوبی علاقے اور ریاض ریجن میں تین ڈرون مار گرائے گئے ہیں جبکہ بحیرہ احمر کے اوپر دو کروز میزائل تباہ کیے گئے۔ ینبع کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی روک کر تباہ کر دیا گیا۔
بحیرۂ احمر عالمی تجارتی راستہ ہے۔ حوثی عرصے سے بحیرۂ احمر سے گزرنے والے مختلف قسم کے بحری جہازوں کو نشانہ بناتے چلے آ رہے ہیں۔ ماضی میں بھی وہ سعودی عرب پر کئی حملے کر چکے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں ان حملوں میں شدت آ گئی ہے اور وہ باقاعدگی سے سعودی عرب کے شہروں کو اور سعودی عرب کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
حوثیوں کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع کا بھی کہنا ہے کہ انھوں نے جمعہ کی علی الصبح وسطی یمن کے صوبہ مارب کی فضاؤں میں ایک سعودی جاسوس ڈرون، ونگ لونگ ٹو مار گرایا ہے۔ ایسے حالات میں جنگ کا دائرہ پھیلنے کا خطرہ ہے۔
ایران کی صورت حال کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے حالات بھی خراب ہیں۔ اب بھی پاسداران گاہے بگاہے جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان باقاعدہ جنگ بندی کرانے کی کوششیں تاحال کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں۔
ادھر سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے ریاض میں یورپی اور افریقی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی شہری، اقتصادی اور ہوابازی تنصیبات پر بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے حملے جنگی جرائم کے مترادف ہیں۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد قرملی نے کہا ہے کہ موجودہ مرحلے میں حوثیوں کے حملے، ان کے اندازے کے مطابق، ایران کی حوصلہ افزائی سے کیے جا رہے ہیں۔ یوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان بھی تلخیاں بڑھ رہی ہیں۔
مکہ دفاعی معاہدے کے شرکاء کے لیے بھی صورت حال خاصی سنگین ہو چکی ہے۔ اب معاملہ مزید آگے بڑھتا ہے تو یمن کے اندر بھی کارروائیاں کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔ ادھر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
ایران پر پہلے ہی بڑی سخت قسم کی پابندیاں عائد ہیں۔ مزید پابندیاں عائد ہونے سے ایران کے عوام کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ مشرق وسطیٰ میں جاری مختلف قسم کی جنگوں کی وجہ سے پورا خطہ شدید قسم کے مسائل سے دوچار ہے۔ اقتصادی مسائل تو اپنی جگہ ہیں جبکہ ماحولیاتی مسائل بھی بہت زیادہ ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے آرمینیا میں منعقدہ ایک عالمی ماحولیاتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطی میں جاری جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی ماحولیاتی تباہی کی مذمت کرے، ان جنگوں کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے،خطے میں جارحانہ جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو ماحولیاتی نسل کشی قرار دیا جانا چاہیے۔
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکا کو ایران کے خلاف مظالم پر سزا ملنی چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی زمینی فوج بھیجنے کا امکان بھی مسترد کر دیا۔انھوں نے کہا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایران کے ایٹمی پروگرام سے منسلک 'پک ایکس ماؤنٹین' نامی زیرِ زمین سائٹ کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے۔
اس قسم کے بیانات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات کس قدر سنگین ہیں۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک سے زائد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ وسط مدتی امریکی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کریں گے۔ بعض اوقات یہ بیانات بھی آ جاتے ہیں کہ وہ ان انتخابات سے پہلے بھی ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو ایران مزید تباہی کا شکار ہو جائے گا۔ ایرانی قیادت بار بار کہہ رہی ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں تاہم قومی وقار پر سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ ادھر روس اور چین بھی اس معاملے میں کوئی میجر بریک تھرو کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسی بناتی ہیں۔ امریکا روس کو بھی خاصی رعایتیں دے رہا ہے۔ گو امریکی صدر کی روس نواز پالیسیوں کی وجہ سے مغربی یورپی ممالک ان سے خوش نہیں ہیں جبکہ یوکرین بھی امریکا کی اس پالیسی کے حق میں نہیں ہے لیکن بڑی طاقتوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔
ادھر چین اپنے معاملات میں الجھا ہوا ہے۔ بھارتی قیادت اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایسے حالات میں سب سے زیادہ نقصان مشرق وسطیٰ کے ملکوں کا ہو رہا ہے اور وہاں کے عوام مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ امریکا کی اسرائیل نواز پالیسی کی وجہ سے پورا مشرق وسطیٰ جنگوں کی لپیٹ میں ہے۔
صدر ٹرمپ جب سے اقتدار میں آئے ہیں، وہ اسرائیل کے دفاع کے لیے حدود سے آگے بھی نکل رہے ہیں۔ غزہ کا تنازع تاحال حل نہیں ہو سکا ہے۔ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایشیا میں تعاون اور اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق کانفرنس (سی آئی سی اے) کے سربراہی اجلاس میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی تقریر کے دوران پاکستان، ترکیہ سمیت 10 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔ ایک روزہ سربراہی اجلاس کی میزبانی آذربائیجان کررہا اور وہ سی آئی سی اے کا صدر بھی ہے۔
طاقتور اقوام کو مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ روس، چین، برطانیہ، بھارت اور یورپی یونین اگر متحد ہو کر متفقہ مؤقف اپنائیں تو امریکا اور اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔