سانحہ کارساز کے شہدا کی 19 ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سانحہ کارساز کے شہداء کی 19 ویں برسی اتوار کو سندھ بھر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔
اپنے بیان میں صدر پیپلز پارٹی سندھ نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ کے ہر ضلع میں سانحہ کارساز کے شہداء کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں۔ ہم سانحہ کارساز کے شہداء کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سانحہ کارساز اور سانحہ لیاقت باغ کو ایک ہی سازش کی کڑی سمجھتی ہے، کارساز میں کاروان جمہوریت کی ٹرک پر موجود پیپلز پارٹی کی پوری قیادت کو نشانہ بنانے کی سازش کی گئی تھی اور کارساز و لیاقت باغ سانحوں میں شہید بینظیر بھٹو اور کارکنان کو شہید کر کے عوام کی امیدوں کا قتل کیا گیا۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ ہم کارساز سانحے کے 180 سے زائد شہداء اور 500 سے زائد زخمیوں کو خراج عقیدت و خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 18 اکتوبر کو جس ٹرک پر شہید بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے رہنما موجود تھے اس کے آگے شاہراہ فیصل کی اسٹریٹ لائٹس کس کے کہنے پر بند کی گئی تھیں؟
سیکیورٹی خدشات کے باوجود شہید محترمہ کو مطلوبہ سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی، جائے واردات کو دھو کر فرانزک شواہد مٹائے گئے۔
نثار کھوڑو نے مطالبہ کیا کہ سانحہ کارساز میں سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم اور سابق مشیر داخلہ وسیم اختر کو شامل تفتیش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی قربانیوں کے باوجود ملک میں آئین، قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کے تسلسل کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔