گورنرراج، ایمرجنسی کی اصل وجہ معدنی ذخائر پر قبضہ کرنا ہے، جمعیت علمائے اسلام
فوٹو: فائل
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سینیٹر اور معروف قانون دان کامران مرتضیٰ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل معاملہ صوبے کے معدنی ذخائر اور وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کئی آئینی و قانونی سوالات کو جنم دیتا ہے، آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت کارروائی میں آئینی تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کی منظوری کے وقت اطمینان کی وجوہات تحریری طور پر سامنے آنی چاہئیں تھیں اور مواد بھی پیش ہونا چاہیے تھا، گورنر راج کے معاملے میں وزیراعظم کی سمری نہیں بلکہ گورنر کی رپورٹ بنیادی اہمیت رکھتی ہے جو غائب ہے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے متعلقہ دستاویزات پارلیمان میں پیش نہیں کی گئیں، مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو متعلقہ دستاویزات کے لیے خط لکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے خط موصول ہونے اور متعلقہ وزارت کو بھجوانے کی تصدیق کی ہے، دستاویزات پیش کیے بغیر پارلیمان سے ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کرائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالات کے حوالے سے مختلف طرز عمل اختیار کیا گیا، وفاقی کی طرف سے صوبوں کے حوالے کیا گیا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ آئین کے آرٹیکل 172 کی روح کے منافی ہے۔
کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کی ہدایت پر بلوچستان میں مائنز اینڈ منرلز قانون کو عدالت میں چیلنج کیا گیا جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں مائنز اینڈ منرلز بل تاحال منظور نہیں ہوا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے پیچھے معدنی ذخائر پر قبضے کا ارادہ ہے، سابقہ فاٹا کے معدنی ذخائر کو صوبے سے الگ کرکے وفاق کے زیرانتظام لانے کا منصوبہ زیر غور ہے اور معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا اس تمام معاملے کی بنیادی وجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل معاملہ معدنی ذخائر اور صوبے کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں لیکن جمعیت علمائے اسلام آئین اور صوبائی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔