الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کے زیادہ استعمال سے دماغی نقصان اور فالج کا خطرہ بڑھنے کا خدشہ، تحقیق
میک ماسٹر یونیورسٹی کے محققین کی تحقیق میں پراسیس شدہ غذاؤں کے زیادہ استعمال اور دماغی نقصان کی علامات کے درمیان تعلق کا انکشاف ہوا ہے۔
محققین نے خبردار کیا ہے کہ الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال دماغی نقصان کی ایسی علامات سے منسلک ہو سکتا ہے جو فالج کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔
میک ماسٹر یونیورسٹی کے پاپولیشن ہیلتھ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور ہیملٹن ہیلتھ سائنسز کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق مطالعے میں شامل صحت مند افراد میں الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال کرنے والوں کے دماغ میں ایسے نقصانات کی علامات ظاہر ہونے کا امکان زیادہ تھا جن کا تعلق فالج کے بڑھتے ہوئے خطرے سے ہے۔
تحقیق کے مطابق الٹرا پراسیسڈ غذاؤں میں ایسے اجزا شامل ہوتے ہیں جو عام طور پر گھروں میں کھانا تیار کرنے کے لیے استعمال نہیں کیے جاتے، جن میں کیمیائی پریزرویٹوز اور مصنوعی مٹھاس شامل ہیں۔
ان غذاؤں میں سافٹ ڈرنکس، چپس، کوکیز، کریکرز، ٹافیاں، ڈبوں میں بند میکرونی اور پنیر، منجمد تیار کھانے، فوری استعمال کے لیے تیار شدہ غذائیں اور پراسیس شدہ گوشت جیسی اشیا شامل ہیں۔
یہ تحقیق 15 اکتوبر کو طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئی۔