تنگدستی مزید بڑھ گئی !
tanveer.qaisar@express.com.pk
وطنِ عزیز کے25کروڑ عوام کی طرح راقم کا دل بھی غمگین اور افسردہ ہے ۔ پشاور میں نجی اسکول کے سانحہ نے ہر پاکستانی کی آنکھیں نمناک کر رکھی ہیں۔ پشاوری اسکول سانحہ نے پلک جھپکتے میں 33سے زائد گھرانوں میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔اور جو شدید مجروح ہیں ، اُن کی المناک داستانیں الگ ہیں ۔
پہلے جی چاہتا تھا کہ معروف سینیٹر، فیصل واوڈا ، کی تازہ ترین، انتباہی اور تہلکہ خیز پریس کانفرنس پر اظہارِ خیال کیا جائے ۔ اِس انتباہی پریس کانفرنس سے حکومتی ایوانوں میں بیٹھی کئی شخصیات نالاں اور ناراض ہُوئی ہیں۔
وزیر اعظم صاحب کے سیاسی مشیر ، سینیٹر رانا ثناء اللہ ، سے اخبار نویسوں نے فیصل واوڈا کی مذکورہ پریس کانفرنس بارے استفسار کیا تو موصوف نے فرمایا:’’ کیوں اس بیچارے کے پیچھے آپ لوگ پڑے ہُوئے ہیں؟ وہ تو پہلے ہی دُکھی ہے ۔‘‘دُکھی کا کیا مطلب ہے ؟ رانا صاحب نے یہ بلیغ ، بین السطوراور اشاراتی تبصرہ کرکے سینیٹر فیصل واوڈا بارے حکومتی ایوانوں میں پائے جانے والے احساسات و خیالات کی (شائد) ترجمانی کر دی ہے ۔
خیال تھا کہ فیصل واوڈا صاحب کی انتباہی پریس کانفرنس( جس کا ہر سُو بے حد شہرہ ہے، اور اِس پر کئی ٹاک شوز کیے جا چکے ہیں) بارے ہی کچھ قلمکاری کی جائے ، مگر 15اکتوبر کو پشاور کے ایک نجی اسکول میں تقریباً 3درجن معصوم بچوں کی شہادت کے سامنے بھلا واوڈا صاحب کی پریس کانفرنس کیا اہمیت اور حیثیت رکھتی ہے ؟ہم بحیثیتِ پاکستانی ہر روز وقوع پذیر ہونے والے متنوع سانحات میں گھِر گئے ہیں ۔
کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ خونبار سانحہ ہمارے دل و دماغ کو نہ دبوچ لیتا ہو۔ وطنِ عزیزکے دو صوبوں میں دہشت گردی کے کتنے ہی سانحات رُونما ہو چکے ہیں۔ رواں مہینے ہی میں KPKمیں ایمر جنسی اور گورنر راج لگایا گیا، ابھی اِس پر بحث و مباحث جاری تھی کہ پشاور کے ایک نجی اسکول میں، کمزور اور خستہ حالت چھت کے گرنے سے، 33معصوم بچے زندگیوں سے ہار گئے۔
نجانے اُردو کے معروف اور البیلے شاعر ، منیر نیازی ، نے کس وجدانی حال میں ہماری اجتماعی و قومی کیفیت کے مدِ نظر شعری زبان میں کہا تھا: اِک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو/ مَیں ایک دریا کے پار اُترا تو مَیں نے دیکھا !!
پشاور کے33 معصوم بچوں کو ’’شہادت‘‘ کے تقدیسی لباس میں لپیٹ کر KPKکی نئی حکومت اور ایڈوائزری کونسل اور مذکورہ اسکول کی انتظامیہ و مالکان جان نہیں چھڑا سکتے ۔
یہ نہائت سنگین جرم ہُوا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بچے قتل کیے گئے ہیں ۔ ذمے داران سنگین جرم کے مساوی ہی سزا کے مستوجب ہیں۔اگر سابقین ذمے دار ہیں تو اُن کے خلاف بھی پرچہ درج کرنا چاہیے۔
پشاوری نجی اسکول کے سانحہ کے بعد ہمارے سامنے ملک بھر کے اسکولوں میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کا جو المناک ڈیٹا سامنے آیا ہے ، یہ بتاتا ہے کہ پاکستان میں کوئی ایک بھی صوبہ ایسا نہیں بچا جہاں مقامی انتظامیہ کی غفلت ،صوبائی حکومت کے محکمہ تعلیم اور وزیر تعلیم کی نااہلیوں کے سبب معصوم بچے جاں بحق نہ ہُوئے ہوں ۔
غریب ، نادار اور بیکس والدین بیچارے چند روز رو دھو کر ، اور اپنی تقدیر پر قانع ہو کر ، خاموش ہو جاتے ہیں اور ملزمان و مجرمان بارے فائل ٹھپ ہو جاتی ہے ۔
15اکتوبر2026ء کو پشاور کی دِیر کالونی میں بروئے کار نجی اسکول کے تازہ ترین خونی سانحہ نے 12سال قبل پشاور ہی کے آرمی پبلک اسکول (APS) میں جنم لینے والے دہشت گردی کے خونریز سانحہ کی یادیں بھی تازہ کر دی ہیں ۔
یہ سانحہ16دسمبر2014ء کو وقوع پذیر ہُوا تھا جس میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے 134معصوم طلبا بچوں سمیت 150 افرادکو شہید و قتل کر دیا تھا ۔ ہم سب مگر اِس سانحہ کو شائد بھول گئے ہوں مگر وہ والدین نہیں بھولے جن کے لختِ جگر دہشت گردوں کی گولیوں کا لقمہ بن گئے۔
افسوس کی بات تو یہ بھی ہے کہ APSکے مجرموں کو بھی بروقت کوئی سزا نہ دے دی جا سکی ۔ اِس خونی اور خونریز سانحہ کی یادیں کبھی مٹائی نہیں جا سکیں گی ۔ پشاور ہی اِس سانحہ کا ہدف بنا تھا۔
تو کیا اب پشاور ہی میں دِیر کالونی کے نجی اسکول کے ذمے داران بھی سزاؤں سے بچا لیے جائیں گے؟ اِس احساس ہی سے رُوح کانپ اُٹھتی ہے۔ابھی اِس اندوہناک سانحہ بارے ذہن ہچکولے کھا رہے تھے کہ ایک اور خیبر میڈیا کی زینت بنی۔
15اکتوبر 2026ء کو Global Hunger Indexنے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ۔ اِس رپورٹ کے مطابق: ’’ پاکستان میں بھوک ، غذائی قلّت اور غذائی تحفظ کی صورتحال ابتر ہو گئی ہے۔ پاکستان غربت اور غذائی قلّت کے لحاظ سے بھارت ، بنگلہ دیش اور ایران سے بھی نیچے گر گیا ہے ۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غربت اور بھوک پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ یعنی پاکستانیوں کی اکثریت کے لیے روٹی کمانا اور روٹی کھانا دشوار تر بنا دیا گیا ہے۔ اگلے روز کراچی کے علاقے ’’بن قاسم‘‘ کے ایک فلیٹ سے بیک وقت 5افراد( میاں بیوی، دو بچے اور ایک ہمشیرہ) کی لاشیں برآمد ہُوئی ہیں ۔
مرنے والے مرد کی جیب سے پولیس نے جو خط برآمد کیا ہے، اس کے مطابق : یہ خود کشی کا سانحہ ہے ۔ مالی مشکلات اور بھوک نے سبھی کو موت کی سیاہ وادی میں اُترنے پر مجبور کر دیا۔
’’بن قاسم‘‘ علاقے میں خود کشی کے بھینٹ چڑھنے والے پانچوں افراد اُس صوبے کے دارالحکومت میں موت کے گھاٹ اُتر گئے جہاں پچھلے17برس سے پاکستان پیپلز پارٹی کی مسلسل حکومت چلی آ رہی ہے ۔
پیپلز پارٹی اور اس کے بانی مبانی تو ’’روٹی ، کپڑا اور مکان‘‘ کا دلفریب نعرہ لگا کر اقتدار میں آ تے رہے ہیں۔ اب بھی ہیں۔ سانحہ ’’ بن قاسم‘‘ کو کیا نام دیا جائے۔ کیا یہ سبھی نعرے محض ذاتی اقتدار ، قوت اور مفادات کے حصول کا ذریعہ ہیں؟ کب تک یہ اہلِ اقتدار اور اہلِ سیاست عوام کو نعروں سے بہلاتے رہیں گے۔
ہر حکومت میں شامل ہونے والوں کے دلدّر تو فوراً دُور ہو جاتے ہیں، مگر پاکستان کے بیکس عوام روز بروز غربت و عسرت کے گہرے سے گہرے تر گڑھے میں گرتے جا رہے ہیں ۔واقعی ملک کا نظامِ منہدم ہو چکا ہے ؟ وزیر داخلہ ، جناب محسن نقوی ، نے جب اِنہی زمینی حقائق کی اساس پر یہ کہا تھا کہ ’’سسٹم Collapseکر چکا ہے ‘‘ تو حکومتی ایوانوں میں بیٹھے کئی افراد بھنّا اُٹھے تھے ۔
مگر اب یہی بات سینیٹر فیصل واوڈا زیادہ کھلے الفاظ میں کہہ رہے ہیں تو ایک بار پھر اہلِ اقتدار مضطرب ہوئے ہیں۔ پشاور کے نجی اسکول کے Collapse ہونے سے 35افراد ہی موت کی وادی میں نہیں اُترے ، بلکہ پورے ملک کے System کے Collapse ہونے سے 25کروڑ عوام بُری طرح سسک اور کراہ رہے ہیں۔ اہلِ اقتدار مگر گہری نیند میں ہیں ۔