ہمارا ملک ترقی نہیں کر سکتا؟
دنیا کی کسی ریاست نے بہترین حکمت عملی کے بغیر ترقی نہیں کی ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ٹھوس پالیسی اور اپنے قومی مفادات کی حفاظت کو پس پشت ڈال کر کوئی ملک معمولی سا بھی آگے بڑھ پائے۔ قانون قدرت تمام کے لیے برابر ہے۔ اس میں مذہب یا غیرمذہب کی کوئی تفریق نہیں ہے۔
کہیں یہ نہیں درج کہ مسلمان یا غیر مسلم، بغیر کسی حکمت عملی کے دنیا میں آگے بڑھ سکیں گے۔ دراصل یہ دنیا عمل کی دنیا ہے۔ اسی کی آماجگاہ ہے اور کج فہمی کا قبرستان ہے۔ جب تک کوئی بھی قوم، نعروں تک اپنے مفاد کو محدود رکھے گی۔
ماضی کی کہانیوں میں گم رہے گی۔ ترقی تو دور کی بات، کوئی آسمانی طاقت بھی اسے پاتال سے باہر نہیں نکال سکتی۔ ان تمام معاملات کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھئے۔ قوموں کے عروج و زوال کے دائرے والی تھیوری کی تردید کر کے دیکھئے تو آپ کو ایک نایاب نظارہ دیکھنے کو ملے گا۔
ترقی یافتہ قومیں، اگر کسی بھی مہلک وجہ سے برباد ہو گئیں لیکن وہ محنت کر کے اپنے پرانے مقام پر دوبارہ براجمان ہو گئیں۔ بلکہ کئی اعتبار سے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئیں۔ جاپان اور جرمنی کو سامنے رکھئے۔ ایٹم بم سے زیادہ تباہ کار کیا ہو گا؟ جاپان کو جوہری تباہ کاری کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے شہر کے شہر دوسری جنگ عظیم میں اجاڑ کر رکھ دیے گئے۔ اس کی آزادی تک سلب ہو گئی۔ مگر صرف دو سے تین دہائیوں میں، وہ ایک صنعتی انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اور جاپان آج دنیا کی چوتھی معاشی قوت ہے۔ اس کی جی ڈی پی، تقریباً ساڑھے چار ٹریلین ڈالر ہے۔
یاد رہے کہ جاپان ایشیا میں ہے۔ اب ذرا جرمنی کی بات کریں۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جرمنی، دنیا کے نقشے پر بربادی کا نشان تھا۔ جرمنی میں چالیس لاکھ گھر تباہ ہو چکے تھے۔ اس کے صنعتی شہر کچرے کا ڈھیر بنا دیے گئے تھے۔ برلن، کولون، ہیمبرگ، ایسن اور ڈریسٹون صرف اور صرف نام تھے۔
اسے اتحادی طاقتوں نے دو حصوں میں بانٹ دیا تھا۔ مشرقی اور مغربی جرمنی۔ جو مختلف طاقتوں کے زیر اثر تھے۔ آج متحدہ جرمنی کی معیشت ساڑھے پانچ ٹریلین ڈالر پر محیط ہے۔ وہ دنیا کی تیسری سب سے عظیم معیشت ہے۔ وہ برطانیہ، جس نے دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کودھول چٹا دی تھی، آج جرمنی کے سامنے ہر لحاظ سے طفل مکتب ہے۔
جن دونوں ممالک کی مثال آپ کے سامنے رکھی ہے، وہ دنیا کے افق پر برباد ہونے کے بعد، چمکدار ستارے کی مانند درخشاں ہیں۔ اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ صرف یہی کہ محض نعروں اور بے عملی سے ترقی ممکن نہیں ہے۔
پاکستان بھی ایسے ہی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کا شکار چلا آرہا ہے۔ جہاں مذہبی شدت پسندی اور کھوکھلے سیاسی نعروں کو بطور پالیسی اختیار کیا گیا ہے۔ نتیجہ وہی ہے جو ہونا چاہیے، ہم مسلسل اسی پالیسی پر کاربند ہیں ۔ سب حکمرانوں نے یہی پراپیگنڈا کرایا کہ صرف وہی تمہارے مسیحا ہیں۔
اور عوام دہائیوں سے ایسی پرفریب باتوں کو تسلیم کرتے چلے آرہے ہیں۔ دوسری طرف ہم دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ممالک میں سرفہرست ہیں۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، مقروض ممالک کی صدارت بھی ہم ہی کو عطا کی گئی ہے۔
اب ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ وہ کیا محرکات ہیں جو ملکوں کی ترقی کا ستون بن جاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے جیسے پسماندہ ممالک، دانتوں میں انگلیاں ڈال کر صرف سوچتے یا دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ یہ کیا ہوا، بلکہ کیونکر ہوا؟ کیا یہ عجیب سی بات نہیں۔
کرۂ ارض پر 53مسلم مملکتیں ہیں اور ان میں سے ایک بھی ترقی یافتہ قرار نہیں دی جا سکتی۔ جنگیں زیادہ تر صرف مسلمانوں ملکوں میں ہی ہوتی ہیں۔ سوال ہے کہ یہ قتال صرف مسلمان ریاستوں تک ہی کیوں محدود ہے۔
ایران، افغانستان، یمن، سعودی عرب، یو اے ای، شام، اردن وغیرہ کن ملکوں کو ہرا رہے یا جیت رہے ہیں ،کوئی سمجھائے کہ یہ کس طرح کی فتح یا شکست ہے کہ مارنے والا بھی مسلمان اور مرنے والا بھی مسلمان۔ کوئی سخت بات نہیں لکھنا چاہتا، کیونکہ درست بات سننے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے۔
بہرحال آج یہ موضوع نہیں ہے۔ کسی اور وقت ضرور لکھوں گا۔ آپ اپنی انگلیوں پر تمام نکات گن سکتے ہیں۔ جو دراصل کسی بھی طرح، ترقی کا راستہ بنتے ہیں۔ مضبوط معیشت، متحرک ڈپلومیسی، حکمران طبقے کا کڑا احتساب، لا اینڈ آرڈر، غریب طبقے کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا، ویلفیئر سینٹرل انتظامی و معاشی نظام، متحرک کریمنل جسٹس سسٹم ، ترقی پسند سوچ کو بڑھاوا دینا، یہ ایسے سادہ سے محرکات ہیں جن کو جانچنے کے لیے کسی عالم فاضل کی ضرورت نہیں ہے۔
کوئی بھی سنجیدہ طبع انسان، بڑے آرام سے ان نتائج کی جانچ کر سکتا ہے جس سے عوام کی فلاح منسلک ہے۔ اور یہ کسی قسم کا کوئی مشکل عمل بھی نہیں ہے۔ اس کے لیے ملک کے شہریوں کوایک مضبوط قوت ارادی کی ضرورت ہے۔ جس کو بروئے کار لا کر وہ اپنی امنگوں کے مطابق سسٹم کی ترتیب نو کر سکیں۔
یہ حددرجہ سہل کام جن اقوام عالم نے کیا ہے، آج ان کا ڈنکا بج رہا ہے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے کہ مندرجہ بالا اہم ترین نکات میں سے کیا ایک بھی ہمارے ہاں مروج ہے، اس کے برعکس ہر وہ منفی چیز جو ہمارے ملک کو ترقی سے روک سکتی ہے، وہ ہر جگہ ہمارے سامنے جن بن کر کھڑی ہو چکی ہے۔
جبکہ ہم اور ہمارے حکمران مطمئن بیٹھے ہیں۔ یہ بھی جان لیجیے کہ یہ کوئی دو چار سال کا شاخسانہ نہیں ہے، یہ بات دہائیوں کی وہ المیہ داستان ہے جو سات دہائیوں سے سنائی جارہی ہے۔
پاکستان کے دو صوبوں میں جو حالات ہیں، ان کی تفصیل سے فہمیدہ حلقے بخوبی آگاہ ہے۔یہ حالات کا مرثیہ نہیں ہے بلکہ سنجیدگی سے تجزیہ کرنے کے بعد ایک دلیل سامنے لانے کی شعوری کوشش ہے۔ شاید مقتدر طبقے کی آنکھیں کھل جائیں۔ اور وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے بعد ملک کو بہتری کی سڑک پر روانہ کر پائیں؟