فرانس میں احتجاج کے دوران 143 سالہ تاریخی سٹی ہال جل کر تباہ، 43 میٹر بلند مینار بھی گر گیا

لیموج سٹی ہال 1883 میں تعمیر ہوا تھا جبکہ 1975 میں اسے تاریخی یادگار کا درجہ دیا گیا

فرانس کے شہر لیموج میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک تاریخی سٹی ہال میں آگ لگنے سے عمارت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

یہ عمارت 143 برس سے شہر کی تاریخی شناخت کا حصہ تھی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی قبضے کے زمانے میں بھی اہم کردار ادا کرچکی تھی۔

رپورٹ کے مطابق، واقعہ 17 اکتوبر کو پیش آیا، جب فرانس میں طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے زیادہ فنڈز اور بہتر سہولتوں، زندگی کے بڑھتے اخراجات اور تعلیمی اداروں کی خراب ہوتی صورتِ حال کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے۔

فرانسیسی وزیرِ داخلہ لوراں نونیز نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہفتے کے روز ملک بھر میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد نے احتجاجی مارچ میں شرکت کی۔ بیشتر مظاہرے پُرامن رہے، تاہم بعض مقامات پر توڑ پھوڑ اور عمارتوں پر حملوں کے واقعات بھی پیش آئے۔

مقامی حکام کے مطابق، لیموج میں نقاب پوش افراد کے ایک گروپ نے سٹی ہال کی کھڑکیاں توڑیں اور عمارت میں آگ لگا دی۔ شعلوں نے عمارت کی چھت کو تباہ کردیا، جبکہ تقریباً 43 میٹر بلند گھڑی والا مینار بھی گر گیا۔ حکام نے نقصان کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔

لیموج سٹی ہال 1883 میں تعمیر ہوا تھا۔ اس کی عمارت کا طرزِ تعمیر پیرس کے سٹی ہال سے متاثر تھا، جبکہ 1975 میں اسے تاریخی یادگار کا درجہ دیا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران یہ عمارت اہم تاریخی واقعات کی گواہ رہی۔ مئی 1940 میں جرمنی کی پیش قدمی کے دوران بیلجیئم کے وہ وزرا اور پارلیمانی ارکان بھی لیموج پہنچے تھے جو اپنے بادشاہ کی جانب سے جرمنی کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے فیصلے کے مخالف تھے۔ بعد ازاں لیموج فرانسیسی مزاحمتی سرگرمیوں کا بھی اہم مرکز بنا اور 21 اگست 1944 کو شہر کو آزاد کرایا گیا۔

مقامی حکام نے تاریخی عمارت کی تباہی پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مقامی پریفیکٹ مورس باراتے نے اسے ’’ورثے کے لیے تباہ کن سانحہ‘‘ قرار دیا، جبکہ میئر گیوم گورین نے الزام لگایا کہ عمارت کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت کے اندر موجود افراد کو اپنی جانوں کا خوف لاحق ہوگیا تھا۔ میئر نے مرمت کے لیے مناسب سرکاری فنڈز نہ ملنے کی صورت میں مستعفی ہونے کی دھمکی بھی دی۔

آگ سے ہونے والے نقصان کی مکمل مالی مالیت ابھی سامنے نہیں آئی۔ رپورٹ کے مطابق، آگ لگنے سے پہلے ہی عمارت کی بحالی پر تقریباً 40 لاکھ یورو خرچ ہونے کا تخمینہ تھا۔ عمارت میں پتھر کے آرائشی مجسمے، موزائیک اور چینی کے برتنوں سے متعلق سجاوٹی کام موجود تھا، جنہیں اصل حالت میں بحال کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

اس واقعے کا موازنہ 2019 میں پیرس کے نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں لگنے والی آگ سے بھی کیا جا رہا ہے۔ لیموج سٹی ہال کی تباہی نے فرانس کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور احتجاج کے دوران تاریخی عمارتوں کی سلامتی سے متعلق خدشات کو نمایاں کردیا ہے۔

Load Next Story